پٹرول بحران پر چار آئل کمپنیوں پر ایک کروڑ روپے جرمانہ لیکن اب انہیں دراصل کتنا فائدہ دیا گیا؟ سینئر صحافی کا ایسا انکشاف کہ پاکستانی دانتوں میں انگلیاں دبائے رہ جائیں گے

پٹرول بحران پر چار آئل کمپنیوں پر ایک کروڑ روپے جرمانہ لیکن اب انہیں دراصل ...
پٹرول بحران پر چار آئل کمپنیوں پر ایک کروڑ روپے جرمانہ لیکن اب انہیں دراصل کتنا فائدہ دیا گیا؟ سینئر صحافی کا ایسا انکشاف کہ پاکستانی دانتوں میں انگلیاں دبائے رہ جائیں گے

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ملک میں حالیہ پیٹرول بحران کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر معاشی تجزیہ کار فرخ سلیم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سارے عمل میں حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

جیو نیوز کے مطابق فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ بحران کی وجہ سے جن 4 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر حال ہی میں ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا تھا، اب ا±نہی کو 300 ارب روپے کا فائدہ پہنچادیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری منظور کرلی جس کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا گیا ہے۔اس اضافے کے بعد حکومت عوام اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کو قرار دیا ہے۔وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا کہناہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بھی برصغیر میں پاکستان میں تیل کی قیمتیں سب سے کم ہیں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -