سرکاری محکموں اور وفاقی وزارتوں میں 270ارب روپےکی بد عنوانیوں اوربےضابطگیوں کاانکشاف،حکومت کا حیران کن موقف بھی سامنے آگیا 

سرکاری محکموں اور وفاقی وزارتوں میں 270ارب روپےکی بد عنوانیوں اوربےضابطگیوں ...
سرکاری محکموں اور وفاقی وزارتوں میں 270ارب روپےکی بد عنوانیوں اوربےضابطگیوں کاانکشاف،حکومت کا حیران کن موقف بھی سامنے آگیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں سرکاری محکموں اور وفاقی وزارتوں میں 270ارب روپےکی بد عنوانیوں اوربےضابطگیوں کاانکشاف کے بعد حکومتی موقف بھی سامنے آ گیا ،وفاقی وزیر حماد اظہر نے حیران بات کہہ دی ۔

نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا ہے کہ آڈیٹر جنرل کے یہ اعدادوشماربےضابطگیوں اورطریقہ کارکی غلطیوں پر مشتمل ہیں،گزشتہ ادوارمیں ایسی بے ضابطگیاں 1000ارب روپے تک ہوتی تھیں ،ایسی بےضابطگیوں میں اب 80 فیصد تک کمی آ چکی ہے، یقیناً اس میں بہتری ہوئی ہےاورہمیں اسےمزیدبہتر کرنا ہے۔

یاد رہے کہ آڈیٹر جنرل نےوفاقی وزارتوں اورمحکموں میں270ارب روپےکی بد عنوانیوں اوربےضابطگیوں کے انکشاف پر مبنی آڈٹ رپورٹ  تیار کی ہے جس میں مالی سال  20-2019 کی آڈٹ رپورٹ میں 40 وفاقی وزارتوں اور محکموں کا آڈٹ کیا گیا جس کے تحت کرپشن اور جعلی رسیدوں کی مد میں12ارب 56 کروڑ روپے کی بدعنوانیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وفاقی محکموں میں 79 ارب 59 کروڑ روپے کی ریکوری کے کیسز،  8 ارب 89 کروڑ روپے مالیت کے کمزور انٹرنل کنٹرول کےکیسز اور  152 ارب 20 کروڑ روپے کے کمزور مالیاتی منیجمنٹ کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ 

مزید :

قومی -