آدابِ زندگی 

آدابِ زندگی 
آدابِ زندگی 

  

اسلام خیرخواہی کا دین ہے جو معاشرے کے تمام طبقات میں امن و سکون،باہمی رواداری اور ہم دردی کو فروغ دینے کا حکم دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ادب  اوراحسان کا مرتبہ رکھتا ہے۔ حسن سلوک کی وجہ سے آپس میں انس و اخوّت کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے۔ ادب جب اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو انس سے گزر کر عشق تک پہنچ جاتا ہے۔ عشق ذہن و دل کو مرکزیت کے آداب سکھاتا ہے پھر مسلمان تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ نمائی میں بندگی کے آداب سیکھتا ہے۔ادب زندگی کا وہ قرینہ ہے، جس سے انسان کے اندر موجود صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔

اسلامی تہذیب معاشرے کے ہر فرد سے بلا تمیز رنگ و نسل،حسنِ سلوک اور حسن معاشرت سے عبارت ہے۔اسلام نے محاسن اور اس کی اعلیٰ ترین خوبیوں میں سے سماجی و معاشرتی آداب اور احکام بھی واضح کیے ہیں جس کی وجہ سے ہر چھوٹے بڑے کے حقوق محفوظ، ان کی حرمت،تقدس اور شخصیت کا احترام فرض ہے، ہر شخص اپنے دائرہ عمل میں آزاد اور مطمئن ہے۔

شخصیت انسان کی پہچان ہوتی ہے۔انسان جیسے اوصاف اپنے اندر پیدا کر لے وہی اس کی شخصیت ہے، مومن کا تشخص اس کے اوصاف اور اعلیٰ اخلاق ہوتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی: بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں۔ 

اسلامی معاشرت میں والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کی بڑی اہمیت ہے، حتیٰ کہ باری تعالیٰ جو کائنات کا خالق و مالک ہے، اس کے حقوق کے بعد اگر کسی کا درجہ اور حق بنتا ہے تووہ والدین کا ہے اور کیوں نہ بنے جب کہ وہ ہمارے دنیا میں آنے کے ظاہری اسباب ہیں،اسی لیے والدین کی عظمت و اہمیت کو بیان کرنے کے لیے ایک طرف قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ:”ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے“۔تو دوسری جانب شارح قرآن فرماتے ہیں: ”باپ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے“۔(سنن ترمذی) 

والدین کی نافرمانی سے متعلق ارشاد ہے:”کیا میں لوگوں کو سب سے بڑے گناہوں کی خبر دوں؟  صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم نے عرض کیا:کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم!(یعنی ضرور بتائیے)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اللّٰہ ربّ العزت کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا“۔(صحیح بخاری) 

سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:”جو مسلمان عام لوگوں سے میل جول رکھے اور ان کی طرف سے ہونے والی تکلیف دہ باتوں پر صبر اختیار کرے تو یہ ایسے مسلمان سے بہتر اور افضل ہے جو الگ تھلگ رہ کر زندگی بسر کرے اور لوگوں کی تکالیف پر صبر اختیار نہ کرے“۔(سنن ترمذی) 

معاشرتی اور تمدنی زندگی گزارنے کے سنہرے اصول کے طور پر ارشاد فرمایا: ”اپنے مسلمان بھائی کے سامنے تمہارا خندہ روئی سے پیش آنا تمہارے لیے صدقہ ہے“۔(سنن ترمذی)

پڑوسیوں کے متعلق ایک جگہ ارشاد ہے:”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہتر اور اچھا پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے سب سے اچھا ہو“۔

عزیز واقارب، احباب اور رشتے داروں سے تعلق بنا کے رکھنا حسنِ معاشرت ہے اور تعلق ختم کر لینا معاشرت کے خلاف۔ اسی لیے قطع تعلق کرنے والے کی حوصلہ شکنی کے لیے سخت وعید ہے۔ ارشاد نبوی ہے:”رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ (بخاری) 

معاشرت محبت سے قائم رہتی ہے، اگرمحبت کا عنصر مفقود ہو جائے تو معاشرت میں شگاف پڑ جاتا ہے اور محبت کے اسباب میں قوی سبب ایثار وقربانی ہے۔کسی بھی قوم کی ترقی اور اس کی بقا کا دار و مدار اسی بات پر ہوتا ہے کہ اس کے افراد اپنے معاشرتی فرائض کی ادائیگی کس حد تک کرتے ہیں، کیونکہ وہ اعمال اور ذمہ داریاں صرف انہی کی ذات تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ایک وسیع دائرہ ہوتا ہے جس پر ان کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔”جس قوم کے لوگوں میں جس قدر معاشرتی آداب موجود ہوتے ہیں وہ قوم اسی قدر مہذب اور ترقی یافتہ خیال کی جاتی ہے“۔(انتخاب)

لہٰذا ایک مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ ان تمام معاہدوں کا پاس رکھے جو اس نے معاشرے میں کسی بھی حیثیت سے کیے ہوں۔ ٹریفک کے قوانین، پارکنگ، امن و امان سے متعلق قوانین یا دیگر امورِ زندگی وغیرہ۔

دین اسلام کی تعلیمات انتہائی اعلیٰ اور ممتاز ہیں۔مسلمانوں کا آپس میں ملاقات کے وقت زبان سے سلام کہنے کے ساتھ ہاتھ سے مصافحہ کرنا ایسی عظیم سنت ہے کہ اس پر عمل کرنے سے دل سے حسد،بغض، اور کینہ وغیرہ دورہو جاتاہے۔ جس کی بدولت معاشرے میں امن و سکون کی فضا قائم ہوتی ہے…… ادب و آداب اور اخلاق کسی بھی قوم کا طرہ امتیاز ہے گو کہ دیگر اقوام یا مذاہب نے اخلاق و کردار اور ادب و آداب کو فروغ دینے میں ہی اپنی عافیت جانی، مگر اس کا تمام تر سہرا اسلام ہی کے سر جاتا ہے جس نے ادب و آداب اور حسن اخلاق کو باقاعدہ رائج کیا اور اسے انسانیت کا اولین درجہ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ:”اسلام تلوار سے نہیں زبان (یعنی اخلاق)سے پھیلا ہے“۔

زندگی سے بھرپور فائدہ اٹھانا،خاطر خواہ لطف اندوز ہونا اور فی الواقع کامیاب زندگی گزارنا یقینا ہمارا حق ہے لیکن یہ اسی وقت ہی ممکن ہو سکتا ہے جب ہم زندگی گزارنے کے لیے،کامیاب زندگی کے اصول وآداب سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ عملاً ان سے اپنی زندگی کو آراستہ و شائستہ بنانے کی کوشش میں پیہم سرگرم  بھی ہوں۔

ہمیں ان اصولوں کے تحت زندگی ڈھالنے اور اْن کے مطابق عمل کرنے سے اِس دْنیا میں عزت و آبرو ملے گی اور ہماری زندگی نہ صرف قابلِ تعریف بن جائے گی بلکہ اگلی دْنیا میں آخرت کے روز بھی ہم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے ساتھ بہترین اجر اور انعام و اکرام کے حق دار ٹھہریں گے۔ ان شاء  اللہ

مزید :

رائے -کالم -