ہمارے ہیروز اورشاہنواز دہانی

ہمارے ہیروز اورشاہنواز دہانی
ہمارے ہیروز اورشاہنواز دہانی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان کر کٹ بورڈ جو عرصہ تین سال سے پیٹرن انچیف عمران خان وزیر اعظم پاکستان کے زیر سایہ چل رہا ہے اگر اس میں بھی جونیئرز سینئرز کا احترام کرنا نہیں سیکھیں گے تو پھر کب سیکھیں گے۔یونس خان ہمارے عظیم قومی کھلاڑی ہیں جن کے کیرئر میں پاکستان کے لئے بے شمار فتوحات ہیں ان فتوحات کا اگر ایک لمحہ ذہن میں لایا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ پاکستان کا یہ عظیم کھلاڑی تعریف کے بغیر رہ سکے۔جب سے یونس خان نے قومی کرکٹ ٹیم سے ریٹائرمنٹ لے کر پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہمراہ بیٹنگ کوچ بنے ہیں ان کی کھلاڑیوں پر محنت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔محمد رضوان،بابر اعظم،شاداب خان،فہیم اشرف،فخر زمان،ہارث رؤف،فواد عالم جیسے بلے بازوں کی تکنیک بہتر بنانے میں انہوں نے بڑی محنت کی ہے۔ایسے عظیم کھلاڑی کے ساتھ موجودہ قومی ٹیم کے کسی بھی کھلاڑی کا منفی رویہ ناقابل ِبرداشت ہے۔حسن علی پاکستان کے موجودہ سپر سٹار ہیں لیکن اس کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی کو خاطر میں نہ لائیں اور  بیٹنگ کوچ یونس خان کو کسی کام کے لئے منع کر دیں۔ساؤتھ افریقہ میں جو ہوا اس کی رپورٹ ٹیم مینجر نئے کیوں چھپائی یہ سمجھ سے باہر ہے حالانکہ باؤلنگ کوچ وقار یونس نے حسن علی کو ان کی غلطی کا احساس بھی دلوایا مگر معاملہ اس وقت تک بڑھ چکا تھا اور یونس خان نے ان کی معذرت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یونس خان کے بہترین اور عظیم ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو ان کے کیس کو خود ہینڈل کرنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو سکے ان کے ساتھ انصاف کرنا چاہئے۔کسی نے بھی نہیں سوچاتھا کہ لاڑکانہ کا ایک کسان گھرانے سے تعلق رکھنے والا معمولی شاہنواز دہانی دیکھتے ہی دیکھتے ملک و قوم کی ایسی پہچان بنے گا جس پر اس کے گاؤں،شہر اور ملک کے عواب سب ناز کریں گے۔شاہنواز دہانی کو آج سے ایک سال قبل کوئی نہیں جانتا تھا مگر پی ایس ایل 6 جو کہ ان کا پہلا سیزن تھا کے بعد پوری دنیا میں ان کی تعریفوں کے جھنڈے گاڑھے جا رہے ہیں انہوں نے ناصرف پی ایس ایل میں کئی لوگوں سمیت پی سی بی کو اپنا گرویدہ کیا بلکہ غیرممالک میڈیا نے بھی ان کی تعاریفوں کے پُل باندھ دیئے۔اپنے پہلے ہی سیزن میں بہترین باؤلر کا اعزاز پانے والے شانواز دہانی جب گزشتہ روز اپنے شہر لاڑکانہ پہنچے تو ان کا والہانہ استقبال دیکھ کر ہر ماں کی یہ خواہش ہو گی کہ کاش ہمارے بیٹے کا بھی کبھی ملک و قوم کے لئے ایسا والہانہ استقبال کیا جائے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ شاہنواز دہانی کو ان کی اس بہترین پرفارمنس پر پاکستان کی ٹیسٹ کر کٹ ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے جبکہ جس فارمیٹ میں انہیں اتنی نمایاں کامیابی ملی انہیں وہاں کے لئے منتخب نہیں کیا گیا۔سمجھ سے باہر ہے کہ پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی ان سے ٹیسٹ کرکٹ میں کیا نتائج لینا چاہتی ہے شاہنواز دہانی کا عتماد بحال کرنے کے لئے ان پر بوجھ ڈالنے کی بجائے انہیں ہر طرز کی کرکٹ کے لئے تیار کیا جائے قومی کرکٹ ٹیم ان دنوں انگلینڈ کے دورے کے لئے پہنچ چکی ہے جہاں قومی ٹیم ون ڈے اور ٹی تونٹی میں مقابلے کے بعد ویسٹ انڈیز کے لئے روانہ ہوجائے گی۔8 جولائی سے انگلینڈ کے خلاف شروع ہونے والی سیریز میں پاکستان انگلینڈ کو ٹف ٹائم دینے کے لئے تیار ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم انگلینڈ میں کیاحکمت عملی تیار کرتی ہے۔کیونکہ کوئی بھی ملک اپنے کراؤڈ اور گراؤنڈ میں حریف ٹیم کے لیئے سخت ثابت ہوتا ہے اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم ان دنوں سی لنکا کے ساتھ سیریز میں فتوحات سمیٹنے میں مصروف عمل ہے جس کا فائدہ اسے پاکستان کے خلاف سیریز میں مل سکتا ہے لیکن پاکستان اس کے لئے امید ہے ترنوالہ ثابت نہیں ہو گا۔
 

مزید :

رائے -کالم -