دوسروں کےلئے دُنیا کو صاف رکھنے والا دیوانہ

دوسروں کےلئے دُنیا کو صاف رکھنے والا دیوانہ

”ہم سوچتے بہت زیادہ اور محسوس بہت کم کرتے ہیں۔ مشینری سے زیادہ ہمیں انسانیت کی ضرورت ہے۔ چالاکی سے زیادہ ہمیں ہمدردی اورخوش مزاجی کی ضرورت ہے©“۔

یہ الفاظ چارلس اسپینسر چپلن کے ہیں، جنہیں عام طور پر ہم چارلی چپلن کے نام سے جانتے ہیں۔ جب مَیں چھوٹا تھا تو یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ جو کچھ یہ کرتا ہے وہ کیوں کرتا ہے۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ اس کی حرکتیں مجھے ہنسنے پر مجبور کردیتی ہیں، مگر اکثر مجھے الجھن رہتی تھی کہ کوئی اپنا مذاق اُڑا کر دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں کیوں کر سجا سکتا ہے؟ یہ شخص کس طرح بلیک اینڈ وہائٹ اسکرین کے ذریعے ہماری زندگیوں میں خوشیوں کے رنگ بھر دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں اب یہ جان چکا ہوں اور چارلی چپلن کے الفاظ میرے لئے بامقصد ہو چکے ہیں۔

کراچی جیسے شہر میں بڑا ہونا، جہاں احتجاج کرنے والے افراد اچانک ہی مشتعل مجمعے کی صورت اختیار کرلیتے ہیں، یا جہاں لوگ ایک دوسرے سے جھگڑنے کے لئے بہانے ڈھونڈتے ہیں، میرے لئے یہ کسی بھی طرح سے جنونی نہیں تھا ، اس شہر میں رہتے ہوئے مَیں سمجھتا ہوں کہ ان کا یہ عمل فطری ہے،لیکن اگر کوئی آج کے زمانے میں بے لوث ہوکر دوسروں کو خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرے تو یہ یقینا مخبوط الحواس ہونے کی نشانی ہے۔آج مجھے اپنے شعوری طرز عمل پر شک ہوتا ہے یا شاید جن لوگوں کو ہم خبطی یا دیوانہ سمجھتے ہیں، وہ در حقیقت ان لوگوں سے ،جن سے ہم ملتے ہیں، زیادہ ذی شعور ہوتے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں توہین رسالت پر مشتمل فلم کے خلاف پورے ملک میں احتجاج اور مظاہرے کئے گئے۔ مشتعل افراد نے جگہ جگہ توڑ پھوڑ بھی کی ، عوامی اور نجی املاک کو نقصان بھی پہنچایا۔مسلسل چار روز تک ہونے والے مظاہروں کے بعد حکومت نے عشقِ رسول میں ایک روزہ عام تعطیل کا اعلان بھی کیا۔مظاہروںکے دوران 20 افراد جاں بحق، 200 زخمی ہوئے اور پاکستان کو 76 بلین روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان حالات میں ایک 24 سالہ طالب علم فاران رفیع نے فیصلہ کیا کہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھائے گا جو پوری قوم کو متاثر کرے ۔جو بات ہم کہنا چاہ رہے تھے، امید کی اس کرن نے وہی بات ببانگ دہل کردی۔اس نے نہ صرف دُنیا پر، بلکہ سب سے زیادہ مجھ پر یہ ثابت کردیا کہ پاکستانی تشدد پسند نہیں اور معاشرے میں ابھی بھی بھلائی مختلف اشکال میں موجود ہے۔

فاران نے ٹوئٹر پرپوسٹ کیا کہ جیسے ہی یہ احتجاج ختم ہوگا وہ سڑکوں پر نکلے گا، اور ہونے والی تباہی سے پھیلنے والے کوڑے کو صاف کرکے دنیا کو پاکستان کا وہ روپ دکھائے گا، جس میں تشدد پسندی کا کوئی وجود نہیں ہے۔اس ٹوئٹ کے فوری بعد فاران نے فیس بک پر ایک پیج بنایا اور اپنے دوستوں کو دعوت دی کہ وہ اس کے مقصد کی تکمیل میں اس کا ساتھ دیں۔چند ہی گھنٹوں میں پاکستان بھر سے سینکڑوں افراد نے اس پیج کو جوائن کیا اور ٹوئٹر پر پوسٹ کئے جانے والے ایک چھوٹے سے پیغام نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک تحریک کی شکل اختیا ر کرلی.... ” پروجیکٹ کلین اپ فار پیس“ ( منصوبہ ¿ صفائی برائے امن)۔

فاران اور اس کے دوستوں نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں نمائندوں کاتقرر کیا اور ان نمائندوں کے ذریعے تینوں شہروں کے ان علاقوں کی نشاندہی حاصل کی جو مظاہروں میں زیادہ متاثر ہوئے تھے۔اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ساتھ کام کرنے والے اداروں اور ارباب اختیار سے اپنے اس منصوبے کے لئے تعریفی پیغامات بھی لئے جس سے لوگوں کو منصوبے میں شامل ہونے کی تحریک ملی۔پولیس نے بھی اس سلسلے میں ان کی مدد کی۔ اگلی صبح درجنوں افراد سڑکوں پر تھے، ان کے ہاتھوں میں جھاڑو، کوڑا ڈالنے کے تھیلے، پانی، رنگ و روغن ، برش اور دیگر ضرور ی سامان تھا، جس کی مدد سے انہوں نے مظاہروں میں ہونے والی توڑپھوڑ کے نتیجے میں پھیلنے والے کوڑے کو صاف کیا اور توڑ پھوڑ سے ہونے والے نقصان کو ٹھیک کیا۔

 اس روز پاکستان دوبارہ دُنیا کی نظروں میں تھا، مگر اس بار خبر تبدیل ہوچکی تھی، ایک مو¿قر روزنامے نے یہ شہ سرخی لگائی.... طالب علم آج سڑکوں پر نکل آئے، صفائی کے لئے.... لیکن یہ عمل یہاں رکنا نہیں چاہئے، ہمیں اس کام کو یہاں نہیں روکنا ہے۔ فاران کے عمل سے مجھے یہ محسوس ہوچکا ہے کہ صرف ایک خیال، مقصد، عمل اور انفرادی کوششوں سے دُنیا میں خاطر خواہ تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔یہی چھوٹے، مگر بے لوث فلاحی کام ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اصل میں کیا ہیں۔ میرے لئے پراجیکٹ کلین ا پ ابھی بھی جاری ہے اور تب تک جاری رہے گا، جب تک ہم عدم برداشت اور تشدد سے خود کو نجات نہ دلادیںاور تبدیلی کے لئے دوسروں سے مثبت رویئے سے پیش آنا شروع نہ کردیں۔

اگر فاران جیسے افراد ، اس دُنیا کو ہم سب کے لئے بہتربنانے کے لئے دیوانے ہیں ،تو پھر مَیں بھی اس طرح کا دیوانہ بننا پسند کروں گا۔ جی ہاں ہم خبطی ہیں ، دیوانے ہیں۔ آئیے کچھ اچھا کرنے کے لئے دیوانے پن کو فروغ دیں۔ یہ بات بڑی حوصلہ افزا ہے کہ بڑے بیوریج برانڈز نے بھی اسی طرح کے اچھے اور فلاحی کاموں کو فروغ دینے کا قدم اٹھا یا ہے تا کہ معاشرے کے مزید ہیروز کو سامنے لایا جاسکے جو دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی کہانی بھی فاران جیسی ہے تو اپنی یہ کہانی kindness.coca-cola.com/pk کے ذریعے ہمیں بتائیں۔       ٭

مزید : کالم