پروےز مشرف کی روح سے انٹر وےو.... مَےں کسی سے ڈرتا ، ورتا نہےں

پروےز مشرف کی روح سے انٹر وےو.... مَےں کسی سے ڈرتا ، ورتا نہےں
پروےز مشرف کی روح سے انٹر وےو.... مَےں کسی سے ڈرتا ، ورتا نہےں

  

اسلامی جمہورےہ پاکستان کے سابق صدر ، پاکستان آرمی کے سابق چےف اور اب آل پاکستان مسلم لےگ کے صدر پروےز مشرف چار سالہ خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے پاک سر زمےن پر اےک بار پھر تشرےف لا چکے ہےں ۔ جب وہ دبئی مےں اپنے سفر کی تےاری کر رہے تھے تو مجھے خےال آےا کہ کےوں نہ موصوف کی روح کا انٹروےو کےا جائے۔ اپنے اس خےال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ان کی روح کو طلب کےا گےا اور اس سے جو سوال و جواب ہوئے وہ اپنے قارئےن کی نذر کر رہا ہوں ۔

٭....پرویزمشرف نے آل پاکستان مسلم لےگ کے قےام کا فےصلہ کےوں کےا؟

٭٭....روح ۔ آپ پہلے تو مےرا احتجاج نوٹ کرےں وہ ےہ کہ آپ نے انہیں مشرف نہےں ، صدر مشرف کہہ کر مخاطب کرنا ہے۔ وہ پاکستان کے نہ سہی آل پاکستان مسلم لےگ کے تو صدر ہےں ۔ اسی لئے تو انہوں نے آل پاکستان مسلم لےگ کی بنےاد رکھی ہے ۔ ان کے کانوں کو جناب صدر سننے کی جو عادت پڑ چکی ہے، اس طرح اس عادت کی تسکےن ہوتی رہے گی۔ وہ چاہتے تو خود کو پارٹی کا چےئرمےن بھی کہلوا سکتے تھے، لےکن جو سکون اور اطمےنان جناب صدر سننے مےں ہے وہ جناب چےئر مےن مےں کہاں ؟

٭....مَےں نے روح کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے اپنا اگلا سوال کےا ۔ پاکستان واپسی کا کےا پروگرام ہے ؟

٭٭....روح۔ آپ نے دوبارہ زےادتی کی ہے ۔ آپ کو سوال اس طرح کرنا چا ہئے تھا ۔ جناب صدر کی پاکستان واپسی کا کےا پروگرام ہے ؟آپ نے اب ےہ زےادتی کی تو مَےں انٹروےو ادھورا چھوڑ کر دوبارہ دبئی بھاگ جاﺅں گی۔ آپ بطور صحافی اتنا تو جانتے ہوں گے کہ بھاگنے مےں ہمارا کو ئی ثانی نہےں ۔ ہم رےڈ کارپٹ پر سلامی لےنے کے بعد بھی اےسا بھاگتے ہےں کہ چار چار سال آپ جےسے صحافی جناب صدر کو تلاش کرنے کے لئے جوتے گھساتے نظر آتے ہےں ۔ اب مَےں آتی ہوں آپ کے سوال کی طرف.... جناب صدر کی واپسی بھی اسی طرح ہو گی، جےسے بے نظےر بھٹو کی واپسی ہوئی تھی، قرآن اور امام ضامن پر جناب صدر کا حق بے نظےر سے زےادہ ہے، کےونکہ جناب صدر ”سےد اور آل رسول“ ہےں ۔ وہ قرآن کے سائے مےں امام ضامن باندھ کر گھر سے ” وداع “ہوں گے ۔

٭....مَےں نے بھاگنے کی دھمکی سے مٹاثر ہوتے ہوئے سوال کےا ۔ کےا جناب صدر کی بےگم بھی پاکستان واپسی پر ان کا ساتھ دےں گی ؟

٭٭.... روح نے ےک دم جواب داغ دےا، جےسے اسے اس سوال کی پہلے سے ہی توقع تھی، پہلے آپ مجھے بتائےں جب بے نظےر بھٹو پاکستان واپس گئی، تو کےا آصف علی زرداری ان کے ساتھ واپس گئے تھے؟ وہ عورت ہو کر اکےلی واپس جا سکتی ہے، تو پھر جناب صدر واپسی کے لئے اپنی بےگم کا سہارا کےوں لےں ۔آپ ےہ بات ذہن مےں رکھےں کہ جناب صدر کسی سے ڈرتے ورتے نہےں ،وہ کمانڈو ہےں اور کمانڈوز بےگمات کا سہارا نہےں لےتے۔ ہاں، اےک بات اےسی ہو گی جو بے نظےر نے نہےں کی تھی، وہ اس لئے ہو گی تاکہ لوگ جناب صدر کی واپسی اور بے نظےر کی واپسی کو ےکساں قرار دے کر جناب صدر کی واپسی کے نمبر بے نظےر کی قبر کو نہ دے دےں ۔

٭.... مَےں نے روح کی بات کاٹتے ہوئے سوال کےا کہ وہ بات بھی تو بتا دےں ناں ؟ اےک تو تم صحافی لوگ ہوتے بہت بے صبرے ہو ، صبر کرو اور آف دی رےکارڈ سنو ، کان ذرا نزدےک کرو.... بے نظےر نے واپسی پر بلٹ پروف جیکٹ نہےں پہنی تھی، لےکن جناب صدر شلوار قمےض کے نےچے بلٹ پروف جےکٹ پہنےں گے اور اےک اور راز کی بات سنو ، لوگوں اور تمہارے صحافےوں کو اس بات کی خبر بھی نہےں ہو گی کہ جناب صدر نے بلٹ پروف جےکٹ پہنی ہوئی ہے ۔ روح نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، ےہی فائدہ ہے کھلی شلوار قمےض کا ، ےہ بہت کچھ چھپا لےتی ہے ۔

ےہ راز جاننے کے بعد مَےں نے اسی راز کے حوالے سے سوال کِےا ، کےا بلٹ پروف جےکٹ کا استعمال مردانگی کے خلاف نہےں ، وہ بھی خصوصا ان حالات مےں جب آپ اےک خاتون کی بہادری کو مثال بنا رہے ہےں ۔ روح نے بے ےقےنی سے مےری طرف دےکھتے ہوئے الٹا مجھ سے سوال کر دےا کےا تم واقعی صحافی ہو ؟ تمہارے اس سوال نے مےرے ذہن مےں تمہارا صحافی ہونا مشکوک کر دےا ہے ۔ مےرے جعلی صحافی بھائی دوسروں کے تجربے سے فائدہ ہمےشہ عقل مند لوگ اُٹھاتے ہےں ۔ وہ بے نظےر بھٹو کی بہادری نہےں حماقت تھی ، اب جناب صدر بے نظےر بھٹو کی حماقت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بلٹ پروف جےکٹ پہن رہے ہےں، تو اس مےں اعتراض والی کون سی بات ہے۔ حماقت کا نام مردانگی نہےں ، بلکہ بےو قوفی ہے ۔ دوسری بات جناب صدر کمانڈو ہےں اور کمانڈو ہمےشہ حفاظتی تدابےر کو ترجےح دےتے ہےں ۔ تےسرا صدر محترم ” سےد اور آل رسول ہےں “ان کی حفاظت قوم کی ذمہ داری ہے، لےکن جب تک قوم کو اس بات کا احساس نہےں ہوتا، اس وقت تک اپنا خےال خود رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔

کےا جناب صدر کے استقبال کے لئے لوگ کراچی اےئر پورٹ پر موجود ہوں گے ؟ آپ بھی عجےب صحافی ہےں۔ ےہ جو صحافےوں کی فوج ظفر موج کو ساتھ لے کر جا رہے ہےں ، آخر ےہ کس مرض کی دوا ہے ؟ انہوں نے کرنا بھی کےا ہے۔ استقبال کے لئے آنے والے چند سو لوگوں کے لئے فقےد المثال استقبال کا لفظ ہی تو استعمال کرنا ہے اور تھوڑا سا کےمرہ ٹرک کہ ےوں لگے جےسے پورا کراچی استقبال کے لئے امڈ آےا ہے ۔ وےسے اےک راز کی بات بتاﺅں، آپ کے خانوادے مےں بھی اےسے لوگوں کی کمی نہےں ، جنہیں الفاظ اور کےمرہ لےنز بےچنے مےں مہارت حاصل ہے۔ مَےں نے اس کی بات سے اختلاف کرنے کی بجائے اپنا اگلا سوال کر دےا ، آپ کے جناب صدر کو اےئر پورٹ پر گرفتار کر لےا گےا تو کےا حکمت عملی اپنائی جائے گی ؟ پروےز مشرف کی روح نے اےک بار پھر مجھے گھور کر دےکھتے ہوئے کہا تم جےسے نو آموز صحافی کو وقت دے کر مَےں نے بہت بڑی غلطی کی ہے ۔ اس کے لئے مجھے جناب صدر کی ڈانٹ بھی سہنا پڑے گی۔

 مےرے بھائی، اوہ معصوم بھائی ، مجھے اےک بات بتاﺅ۔ پاکستان کی سپرےم کورٹ نے اصغر خان کےس مےں جن سابق جنرلوں کے خلاف کارروائی کا حکم دےا کےا ان جنرلوں کی طرف کسی نے آنکھ اٹھا کر دےکھنے کی بھی ہمت کی ، نہےں کی ناں ، تو ےہ بھی جرنےل ہےں ۔ آپ کی تسلی نہےں ہوئی ہو گی، اس لئے آگے سنو ہمساےہ ممالک کس لئے ہوتے ہےں ؟کےا آپ کی حکومت مےں اخلاقی جرا¿ت ہے کہ وہ ہمساےہ ممالک کے اشارہ¿ ابرو کی بھی مخالفت کر سکے ؟اب رہی بات مےاں برادران اور ان کی جماعت کے مطالبات کی ، آپ ےہی سوال کرنے والے تھے ناں ؟ تو سنو، جس دوست ملک کے کہنے پر جناب صدر اےک ہائی جےکر کو رات کے اندھےرے مےں جےل سے نکال کر باعزت طرےقے سے اہل خانہ سمےت جہاز مےں سوار کروا کر دوست ملک بھےج سکتے ہےں اور وہ دوست ملک اسلامی احکامات کی روشنی مےں اِس ہائی جےکر اور اس کے خاندان کی کفالت کر سکتاہے تو کےا اس ملک کے حکم پر مےاں برادران اور ان کی جماعت ”اپنی زبان دنداں تھلے نہےں لے سکدی“.... لے سکتی ہے ناں ، ےار ، جواب دو گونگے کےوں ہو گئے ہو ؟

مَےںنے بات کو آگے بڑھانے کے لئے سوال کےا، آپ کے جناب صدر کو اس بات کا ےقےن ہے کہ پانچ سال کے بعد بھی وہ پاکستانی عوام کو ےاد ہوں گے ؟ مجھے توقع تھی کہ اس بار بھی مےرے سوال کے جواب مےں وہ محترمہ بے نظےر بھٹو کی مثال دے گی، لےکن اےک بار پھر اس نے مےرے صحافی ہونے کو چےلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم واقعی صحافی ہوتے تو ےہ سوال کبھی نہ کرتے، کےونکہ جناب صدر کے کارنامے تو انہیں صدےوں لوگوں کے ذہن مےں زندہ رکھےں گے ۔ آپ پانچ سال کی بات کر رہے ہےں ۔ اب سنو ان کی قومی خدمات اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر اور خدا کو حاضر و ناظر جان کر بتاﺅ کےا جناب صدر کو پاکستان کے عوام فراموش کر سکتے ہےں ۔مَےں صرف کارنامے بتا رہا ہوں، ان پر نمبر بعد مےں خود لگاتے رہنا ۔جب سے سوئی کے مقام سے گےس نکلی تھی، اس وقت سے اکبر بگتی ہر حکومت کو بلےک مےل کر رہا تھا ، کےا کسی حکومت مےں اتنا دم خم تھا کہ اس کی آنکھوں مےں آنکھےں ڈال کر بات کر سکے؟ جب جناب صدر کے سادات خون نے جوش مارا تو آپ نے دےکھا کہ ہر حکمران کو آنکھےں دکھانے والا اکبر بگتی کسی کی طرف آنکھ اُٹھا کر دےکھنے کے قابل بھی نہ رہا ۔ اس طرح جناب صدر نے نہ صرف حکومت کی اےک ” بلےک مےلر“سے جان چھڑوائی، بلکہ بلوچستان کے عوام کو سےاست کرنے کے لئے اےک لاش بھی تحفہ مےں دے دی تاکہ وہ اس کی قبر پر سےاست کر سکےں، جےسے ان کے پےش رو جنرل ضےاءالحق نے سندھ کو ذوالفقار علی بھٹو کی قبر دے کر پاکستان پےپلز پارٹی کو ” زندہ ہے بھٹو ....زندہ ہے “ کا نعرہ دےا ۔ اب ےہ اکبر بگٹی کے کارکنان کی نا اہلی ہے کہ وہ ” زندہ ہے بگٹی .... زندہ ہے “ کا نعرہ عوام مےں نہےں لا سکے ۔

 پاکستان کو جب بھی پاکستانی جرنےلوں نے فتح کےا، ہمےشہ اےک مارشل لاءکا اعلان اور پھر بس ، ےہ ہمارے صدر محترم کا کرےڈٹ ہے کہ انہوں نے صرف اےک بار نہےں ، بلکہ دو بار آئےن سے کھلواڑ کےا ، دوسری بار اےمر جنسی لگا کر ، کےا آپ مجھے تارےخ سے اس کی مثال دے سکتے ہےں ۔ جناب صدر سچ کہتے ہےں: ”وہ کسی سے ڈرتے ورتے نہےں “....کےا پاکستانی عوام ان کی اس بہادری کو پانچ سال مےں بھول سکتے ہےں ، جب لال مسجد والے جناب صدر کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے پر تولنے لگے، تو پھر لال مسجد مےں فاسفورس بم بھی استعمال کئے گئے ، کےا پاکستا ن کے عوام ان اجتماعی قبروں کو بھول سکتے ہےں ، جن مےں لال مسجد کے طلبہ و طالبات کو دفن کےا گےا ، کےا پاکستان کے عوام طلبہ و طالبات کی ان مےتوں کو فراموش کر سکتے ہےں جو برساتی نالے سے ملتی رہےں۔ اگر عوام کو ےہ سب ےاد ہے تو پھر وہ جناب صدر کو کےسے بھول سکتے ہےں؟

سپریم کورٹ آئے روز پاکستان میں افراد کا رونا رو رہی ہوتی ہے، جن خاندانوں سے ان لا پتہ افراد کا تعلق ہے، ان کو بھی اس بات کی خبر نہےں کہ اکثر لاپتہ افراد کو جناب صدر امرےکہ کے حوالے کر کے اپنے دام وصول کر چکے ہےں ۔ کسی مےں ہمت ہے تو لائے ثبوت اور کرے جناب صدر کے خلاف بات ۔ پروےز مشرف کی روح جذباتی انداز مےں بول رہی تھی اور مےری آنکھوں کے سامنے ان واقعات کی فلم چل رہی تھی۔ روح نے مجھے جھنجھوڑکر کہا کہاں گم ہو، سنو ۔ کس مےں ہمت تھی کہ وہ سپرےم کورٹ کے چےف جسٹس کو ان کے معصوم بچوں سمےت نظر بند کرے، صرف ےہی نہیں، بلکہ اےک عام پولےس آفےسر کو ےہ حوصلہ دے کہ وہ چےف جسٹس کو گرےبان سے پکڑ لے ۔ مےرے بھائی تےرا تعلق ساہےوال سے ہے ۔ ساہےوال اےک چھوٹا شہر ضرور ہے، لےکن اس نے بڑے عظےم لوگوں کو جنم دےا ہے ۔ اس وقت بھی اس چھوٹے شہر کے وکلاءمےں اےک بہت بڑا نام افتخار خاور کا ہے۔ ہاں بھئی وہی افتخار خاور جس نے اپنے بار کے وکلاءکے ہمراہ جناب صدر کے خلاف اےک جلوس نکالنے کی جرا¿ت کی ، جس کے جواب مےں اےک معمولی پولےس افسر نے ان کا چہرہ جھلسا دےا۔ سنا ہے افتخار خاور اب بھی صبح کو کورٹ جانے سے پہلے تےار ہونے کے لئے شےشہ دےکھتا ہے، تو اس سے جناب صدر ےاد آجا تے ہےں ۔ اےسے مےں ساہےوال کے لوگ جناب صدر کو کےسے بھول سکتے ہےں۔ ساہےوال کا ذکر مَےں نے صرف تےری نسبت سے کےا ، چھوٹے شہر ہی نہےں ، 12 مئی کو کراچی مےں وکلاءکس طرح جل کر کوئلہ ہوئے ، انہیں کون بھول سکتا ہے؟ اب سب سے آخر مےں جب چےف جسٹس کراچی کے ہوائی اڈے پر محصور ہو کر رہ گئے، تو اس وقت جناب صدر نے اسلام آباد مےں اپنے دونوں مکے لہراتے ہوئے اعلان کےا تھا ، مَےں ڈرتا ورتا کسی سے نہےں ۔ کےا آپ اس کو بھول چکے ہےں۔ اگر آپ بھول چکے ہےں، تو ےہ آپ کی حماقت ہے۔ پاکستان کے عوام کو ےہ سب ےاد ہے اور جب تک انہیں ےہ سب ےاد ہے، اس وقت تک انھےں جناب صدر بھی ےاد رہےں گے ۔

مَےں نے ٹھنڈی سانس لےتے ہوئے آخری سوال کےا تو کےا آپ اس بنےاد پر انتخابات مےں حصہ لےں گے؟ پروےز مشرف کی روح نے اےک بار پھر مےری طرف گھور کر دےکھتے ہوئے کہا، لگتا ہے تم کو پاکستان گئے مدت ہو چکی ہے۔ اےسا نہ ہوتا تو آپ ےہ سوال نہ کرتے ۔ صحافی بھائی پاکستان مےں اےک ڈھونڈو ہزار ملتے ہےں ، کےا.... ؟ پھر خود ہی بولی، بے و قوف ، خود غرض ، لالچی اور مطلبی لوگ، جنہوں نے اپنی جماعتےں بھی بنا رکھی ہےں ۔ انہی مےں سے کسی نہ کسی جماعت سے ملکی اور قومی مفاد کے نام پر اتحاد ہو گا اور ہو سکتا ہے، سےٹ اےڈجسٹمنٹ بھی ہو اور اس کے نتےجے مےں چند سےٹےں آل پاکستان مسلم لےگ کو بھی مل جائےں۔ صحافی بھائی اِس بات پر ےقےن کرو کہ جناب صدر کے پاس پےسے کی کمی نہےں ، جس ملک مےں بم دھماکوں کے لئے والدےن اپنے بچے فروخت کر دےتے ہوں، اس ملک مےں ووٹ کی کےا اوقات ہے؟مال موجود ہے، صرف خرےدار کی ضرورت ہے اور جناب صدر کی واپسی کے بعد مال بھی ہو گا اور خرےدار بھی ۔ مَےں نے نم آلود آنکھوں سے سامنے دےکھا تو روح بھاگ کر واپس جا چکی تھی ۔ اس نے سچ کہا تھا، بھاگنے مےں ہمارا کوئی ثانی نہےں ہے ۔    ٭

مزید : کالم