میدان سج گیا.... احتیاط لازم ہے!

میدان سج گیا.... احتیاط لازم ہے!
میدان سج گیا.... احتیاط لازم ہے!

  

بظاہر سارے راستے انتخابات کی طرف جا رہے ہیں۔ میدان سج رہا ہے ، پہلوان اکھاڑے میں اُتر رہے ہیں، جلسے ہو رہے ہیں، ماحول انتخابی انتخابی سا ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ بہت اچھا اور خوبصورت لگ رہا ہے ۔ ایک زندہ جمہوری قوم کی طرح ہم ایک جمہوری دور کے بعد دوسرے جمہوری دور کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایسا چشم ِ فلک پہلی بار دیکھ رہی ہے ۔ یہ خوشی اور فخر کا مقام ہے تاہم اس کے باوجود خوف کے سائے بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ہر طرف بدامنی اور دہشت گردی کے خطرات منڈلا رہے ہیں، معاملہ جوں جوں آگے بڑھے گا، سطح ¿آب پر ارتعاش بھی بڑھتا جائے گا، انتخابی گرما گرمی جمہوریت کا حسن ہے ، مگر اس سے فائدہ اُٹھا کر آگ و خون کا کھیل کھیلنے والی مذموم قوتیں بھی موقع کی تاک میں ہیں.... ایسے میں سیاسی قائدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ انتخابی مہم کو کم از کم پُرتشدد نہ بننے دیں۔ اپنے کارکنوں کو ٹھنڈا رکھیں اور طاقت کے ذریعے اپنی اکثریت منوانے کا راستہ اپنانے کی بجائے انہیں ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کا راستہ دکھائیں۔ ایشوز اور منشور کی بنیاد پر انتخابی مہم سے جہاں ووٹروں کی تربیت ہوتی ہے ، وہیں انتخابی ماحول بھی اس پرا گندگی کا شکار نہیں ہوتا، جو ذاتی اور گھٹیا شخصی حملوں کی وجہ سے پورے سیاسی اکھاڑے میں در آتی ہے ۔

حسن اتفاق یہ ہے کہ پاکستانی تاریخ کے غیر روایتی اور انتہائی اہم انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری دو ”بابوں“ کے کاندھوںپر آن پڑی ہے ۔ فخر الدین جی ابراہیم کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ عمر رسیدہ ہیں، اتنی بڑی اور پُرمشقت ذمہ داری کیسے اُٹھائیں گے؟ اب کھوسو وزیراعظم بنے ہیں تو یہ عقدہ کھلا ہے کہ وہ پہلے 82سالہ وزیراعظم ہیں۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس عمر میں وہ اتنی بڑی ذمہ داری کیونکر نبھائیں گے؟ جیسا کہ خود جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے اُن کی زائد العمری کو اُن کا منفی پوائنٹ قرار دیا ہے ، لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں” بابے“ ذہنی طور پر مکمل فٹ ہیں۔ زمانے کے سرد و گرم چشیدہ ہیں۔ ملک کے حالات میں جو مدو جزر آتا رہا ہے ، اُس سے آشنا ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کچھ کر گزرنے کا جذبہ اور آہنی عزم رکھتے ہیں۔ یہ خوبیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ عمر کے جس حصے میں یہ دونوں شخصیات موجود ہیں، اُس میں باقی سارے خوف، لالچ اور مفادات ختم ہو جاتے ہیں، اپنی عزت اور وقار کی فکر زیادہ رہتی ہے ۔ فخر الدین جی ابراہیم تو کہہ بھی چکے ہیں کہ یہ عام انتخابات اُن کی زندگی کا آخری معرکہ ہے ، جس میں وہ سرخرو ہونا چاہتے ہیں، اسی قسم کی خواہش نگران وزیراعظم میر ہز ار خان کھوسو کی بھی ہو گی۔کوئی اور بات یقین سے کہی جا سکتی ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر، حقیقت یہ ہے کہ اِن دونوں بزرگ مقتدر شخصیات کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے ۔

 ماضی کی طرح نگران وزیراعظم یا چیف الیکشن کمشنر یہ نہیں چاہیں گے کہ اپنے ماتھے پر کوئی ایسا داغ لگنے دیں، جو باقی ماندہ زندگی اور بعدازاں اِس دُنیا سے رخصت ہونے کے بعد اُن کا پیچھا کرے۔ اوپر کی نگرانی ٹھیک ہو جائے تو صوبائی سطح پر نگران حکومتیں اُس کے مطابق کام کرتی ہیں۔ یوں میرا حسن ِ ظن یہ ہے کہ انتخابات کے لئے ایک ساز گار ماحول اب زمینی حقیقت اختیار کر رہا ہے .... سیاسی قوتوں کو جہاں اس بات کا کریڈٹ لینے کا حق ہے کہ جمہوریت نے پانچ سال مکمل کئے ہیں، اُن کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ آنے والے انتخابات کو ہر لحاظ سے شفاف اور پُرامن بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ کام کھلے دل کے بغیر ممکن نہیں۔ عوام کو متاثر کرنے کے لئے انتخابی مہم میں پورا زور لگانے کی ہر سیاسی جماعت اور امیدوار کو اجازت ہے ، مگر اب اُن روایتی ہتھکنڈوں کی گنجائش نہیں، جو ماضی میں ووٹروں پر دباﺅ ڈالنے کے لئے استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔

 الیکشن مہم کے دوران اسلحہ کی بے دریغ نمائش اور سیکیورٹی گارڈز کے نام پر درجنوں مسلح افراد کی موجودگی سے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی ایک روایت شروع دن سے چلی آ رہی ہے ۔ اس بار شاید یہ سب کچھ نہ ہو سکے۔ اس کی ایک وجہ تو الیکشن کمیشن کا سخت اور غیر جانبدارانہ کردار ہے ، جس کی وجہ سے سارے ملک میں انتظامیہ کو امیدواروں کی طرف سے اسلحہ کی نمائش یا استعمال پر سخت ایکشن لینے کے احکامات بھی نافذ ہو رہے ہیں اور اس سلسلے میں امیدواروں کے حامیوں پر مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں۔ اگر اس ضابطے کو سختی کے ساتھ کراچی اور کوئٹہ میں بھی نافذ کر دیا جاتا ہے اور اسلحہ استعمال کرنے والے امیدوار کی نااہلیت کی شق پر عمل درآمد کر کے ایک دو مثالیں قائم کر دی جاتی ہیں، تو حالات میں بہتری پیدا ہونے کے امکانات بہت زیادہ روشن ہیں۔یہ بات بھی یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ عدلیہ کی جانب سے بھی ماضی کی طرح کوئی ایسا ریلیف نہیں ملے گا، جو انتخابات میں کسی امیدوار کے بے جا اثر انداز ہونے کی بنیاد بن سکتا ہو، جبکہ میڈیا کا کردار تو اب سب کے سامنے ہے ، کسی بے قاعدگی یا الیکشن کمیشن کے کسی ضابطے کی خلاف ورزی پر میڈیا یقینا فوری نشاندہی کرے گا، یوں اس بار سب کچھ اندھیرے میں نہیں، بلکہ روشنی میں ہو گا اور کوئی کسی کو دھوکہ نہیں دے سکے گا، خصوصاً بیلٹ بکسوں میں چھو منتر پڑھ کر تبدیلی لانے کی کہانیاں اب نہیں دہرائی جا سکیں گی۔

عمران خان نے لاہور کے جلسے میں ایک منفرد انداز سے تنقید کی، جس میں مخالفین پر الزامات کی بجائے سارا زور اس بات پر دیا گیا کہ وہ اقتدار میں آ کر کیا کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے لاہور کے تاریخی جلسے میں جو چھ وعدے کئے، وہ بذات خود ایک نئی سیاسی سوچ کے آئینہ دار ہیں۔ انہوں نے معاشی ترقی یا دودھ کی نہریں بہا دینے جیسے بلند بانگ دعوے کرنے کی بجائے چھ ایسے وعدے کئے، جن کا تعلق خود احتسابی سے جڑتا ہے ۔ انہوں نے قوم سے سچ بولنے کا وعدہ کیا، بیرون ملک دولت نہ رکھنے اور منتقل کرنے کی بات کی، اپنے یا اپنے رشتے داروں کے لئے مراعات و مفادات نہ لینے کا وعدہ کیا، یہ ایسے وعدے ہیں جو منزل نہیں، البتہ منزل تک پہنچنے کا راستہ ضرور ہیں۔ اگر ہماری لیڈر شپ سب سے پہلے اپنی ذات پر ایک ضابطہ ¿ اخلاق نافذکرے، پھر اس پر چلنے کا مصمم ارادہ کر لے، تو ہم بآسانی اس گرداب سے نکل سکتے ہیں، جس میں آج لیڈر شپ کے فقدان کی وجہ سے گھرے ہوئے ہیں۔

 عمران خان نے لاہور کے جلسے میں جس اندازِ سیاست کو متعارف کرایا ہے ، وہی ہماری قومی پہچان بننی چاہئے۔ اگر تمام سیاسی رہنما ایک دوسرے کو چور چور کہنے کی بجائے انتخابی مہم میں قوم سے سچ بولیں اور مستقبل کے حوالے سے اپنے منشور کو سبز باغ دکھانے کے لئے اس قدر پُرکشش نہ بنائیں کہ انتخابات جیتنے کے بعد اسے پورا ہی نہ کر سکیں اور عوام کو ایک بار پھر یہ احساس ہو کہ اُن کے ساتھ دھوکہ ہو گیا ہے۔ آج دُنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستانی قوم آمریت کے دائرے سے نکل چکی ہے اور اُس نے اپنے اردگرد جمہوریت کا ہالہ بنا لیا ہے ۔ یہ65برسوں میں بہت بڑی کامیابی ہے اور پوری قوم بشمول سیاست دانوں کے ایک خاص سمت میں دیکھ رہی ہے ، ایک خاص سمت کی طرف جا رہی ہے ۔ اس سفر کو ہر قیمت پر جاری رہنا چاہئے اور سیاسی قائدین کو اِس بات پر خاص نظر رکھنی چاہئے کہ اُن کی وجہ سے سیاسی ماحول میں وہ تلخی پیدا نہ ہو، جو انتخابات کے دِنوں میں خون خرابے کا باعث بنے.... اور آخری بات عوام کے لئے! الیکشن کا بازار لگ رہا ہے ، انہیں فیصلے کا اختیار مل رہا ہے ، اس اختیار کو وہ کسی کے ہاتھوں میں گروی نہ رکھیں، ہر خوف اور لالچ سے بلند تر رہ کر اپنے ووٹ کا استعمال ملک کی بہتری کے لئے کریں، صرف یہی وہ راستہ ہے ، جو عوامی منشاءکے مطابق تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے ۔    ٭

مزید : کالم