بلاول بھٹو کی روانگی:حقیقت کیا ہے؟

بلاول بھٹو کی روانگی:حقیقت کیا ہے؟
بلاول بھٹو کی روانگی:حقیقت کیا ہے؟

  

سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور دونوں پیپلز پارٹیوں کے ترجمان قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے پھر درخواست کی ہے کہ وہ آزاد صحافت کے اخلاقی تقاضوں کا احترام کرے، وہ اپنے دور وزارت میں بھی شکوہ کرتے رہے ہیں اور اب بھی شکایت کی ہے اور اس مرتبہ یہ شکوہ باپ بیٹے اور پھوپھی بھتیجے کے درمیان اختلاف کی خبروں پر ہے۔ ان کے مطابق ایسا کچھ نہیں ہے اور بلاول بھٹو زرداری انتخابی جلسوں سے خطاب بھی کریں گے۔ ان کے مطابق معاملہ سیکیورٹی کا ہے۔

 ہم اس سلسلے میں قمر زمان کائرہ کے شکوے کی قدر کرتے اور اپنے بھائیوں سے کہیں گے کہ وہ اب ہتھ ہولا رکھیں کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں نہیں۔ ملک کے عام انتخابات میں حصہ لینے والی ایک جماعت ہے، دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح، لیکن کیا کیا جائے کہ جس خبر سے ان کو شکایت ہوئی، اس کو ایکسپلائٹ بھی تو ان کے انہی دوستوں نے کیا ہے، جن پر وہ اور ان کی حکومت اپنے دورِ اقتدار میں ”مہربان“ رہی، وہ سب حضرات ہمیشہ معتبر ٹھہرے اور اعتدال پسند صحافی راندہ درگاہ تھے۔ قمر زمان کائرہ اور پیپلز پارٹی کے دوسرے حضرات سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ ”ہور چُوپو“، لیکن ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئے گی۔ ویسے پیپلز پارٹی کے معتبرین سے یہ پوچھنا تو بے جا نہیں ہوگا کہ ان کے وہ دوست کہاں ہیں جو چوبیس گھنٹے ایوانِ صدر اور ایوان وزیراعظم میں ہوتے اور ان کی پسند نا پسند سے مدعو کئے جانے والے صحافیوں کی فہرستیں بنتی تھیں اور ان میں سے سب اعتدال والے حضرات باہر ہوتے تھے؟ بہرحال ہمیں اس سے غرض نہیں، ہم تو اب بھی قمر زمان کائرہ کی تائید کرتے ہیں کہ میڈیا کو غیر جانبدار ہی رہنا چاہئے اوراپنے صحافتی ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا چاہئے۔

یہ ساری بات بلاول بھٹو زرداری سے چلی تو گزارش یہ ہے کہ پیپلز پارٹی خود اپنے بیانات پر غور فرما لے تو پتہ چلے گا کہ کنفیوژن تو خود انہوں نے پیدا کیا ۔ پہلے جناب سردار لطیف کھوسہ میدان میں نکلے، جنہوں نے پیپلز پارٹی کی رجسٹریشن کے وقت بلاول بھٹو زرداری کو سیاسی نابالغ قرار دے دیا اور ان کو چیئرمین شپ سے ازخود ہٹا کر سرپرست اعلیٰ قرار دیا اورخود سیکرٹری جنرل بن گئے۔ اس صورت میں کہ بلاول بھٹو پارٹی چیئرمین نہیں، صرف سرپرست اعلیٰ ہیں تو اس پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا تو وہ خود ہوئے کہ سیکرٹری جنرل ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی” مدر آرگنائزیشن“ ہے اور چارپی والی جماعت تو مجبوری کا دوسرا نام ہے۔ ایسا کرتے وقت یہ بھی خیال نہ کیا گیا کہ بلاول بھٹو کو پیپلز پارٹی کا چیئرمین محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کی وصیت کے مطابق بنایا گیا اور پیپلز پارٹی کی رجسٹریشن تک وہی چیئرمین تھے اور شہادت سے تب تک وہ اسی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور انہوں نے جماعت کی متعدد میٹنگوں کی صدارت بھی کی تھی اور خود آصف علی زرداری شریک چیئرمین ہی کہلاتے رہے ہیں۔ سردار لطیف کھوسہ نے بلاول بھٹو زرداری کو چیئرمین شپ سے ہٹانے کے لئے جو دلیل دی ہے، وہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں کہیں نہیں لکھی ہوئی۔ قانون کے مطابق پارلیمینٹ کی رکنیت کے لئے پچیس سال کی عمر کا ذکر ہے، لیکن یہ تو کہیں تحریر نہیں کہ پچیس سال سے پہلے کوئی نوجوان پارٹی کا سربراہ نہیں ہو سکتا، اگر ان کی یہ بات درست ہے تو پھر محترمہ کی شہادت کے بعد سے سردار لطیف کھوسہ صاحب کے خود ساختہ سیکرٹری جنرل ہونے تک تو اس پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول ہی تھے جو ماضی میں رجسٹرڈ پارٹی تھی اور اس کی رجسٹریشن تکنیکی بنیادوں پر معطل تھی۔ اس کے بدلے پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کی رجسٹریشن وقت کی ضرورت تھی کہ 2002ءکے انتخابات کے موقع پر جنرل (ر) پرویز مشرف نے قانون میں ترمیم کر کے یہ پابندی عائد کی کہ بیرون ملک مقیم کوئی شخصیت ملکی سیاسی جماعت کی قیادت نہیں کر سکتی۔ محترمہ ملک سے باہر تھیں اور میاں محمد نواز شریف پر بھی یہ شق لاگو ہوگئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کا صدر (قائم مقام) جاوید ہاشمی کو بنا لیا گیا اور محترمہ کی مرضی سے پیپلز پارٹی (پارلیمینٹرین )جلدی سے رجسٹر کروائی گئی جس کے صدر مخدوم امین فہیم اور سیکرٹری جنرل راجہ پرویز اشرف تھے اور یہ جماعت اب بھی ہے اور موجودہ انتخابات میں بھی یہی ٹکٹ تقسیم کرے گی۔

 یہ بات ہم نے لکھ دی کہ خود پیپلز پارٹی کے حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس کی وضاحت خود پیپلز پارٹی والوں کے ذمہ ہے۔ ان کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ کیا یہ سب صرف بلاول بھٹو کے لئے کیا گیا یا پھر بلاول کے معتمد حضرات کو بھی کھڈے لائن لگایا گیا۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سارا میلہ سینٹ میں قائد ایوان جہانگیر بدر کا کمبل چرانے کے لئے لگا کہ ابھی تک جماعت کی طرف سے ہی وضاحت نہیں کی گئی کہ سردار لطیف کھوسہ کے سیکرٹری جنرل بن جانے کے بعد جہانگیر بدر کی کیا پوزیشن ہے، کیا وہ پارلیمینٹرین کے سیکرٹری جنرل ہوگئے اور راجہ پرویز اشرف فارغ ہو کر سابق وزیراعظم رہ گئے ہیں؟

اب بختاور بھٹو ، آصفہ بھٹو اور قمر زمان کائرہ کچھ بھی کہتے رہیں،بات چل نکلی ہے تو دور تک جائے گی۔ آخر کچھ تو بات ہوتی ہے جو خبر یا افواہ بنتی ہے اور جب تردید کے لئے زیادہ زور لگایا جائے تو کہتے ہیں دال میں کالا ہے۔ اب یہاں کالا ہے یا سفید، ایک بات تو ظاہر ہے کہ بلاول اچانک چلے گئے ہیں۔ ان کے سیکرٹری کہتے ہیں وہ دُبئی گئے اور پارٹی کے دوسرے ذرائع کے مطابق وہ لندن چلے گئے ہیں اور یہی زیادہ مصدقہ بات ہے کہ وہ لندن گئے، جہاں ان کے دوستوں کے علاوہ خالہ اور ان کے بچے بھی ہیں، جن کے ساتھ بہرحال پھوپھو کی نسبت بلاول کی زیادہ بنتی ہے۔

ہم محترمہ کے آخری دور کی طرف نہ بھی جائیں تو یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور نواب شاہ چھوڑ کر نوڈیرو (لاڑکانہ) میں فروکش ہیں اور بقول صدر زرداری وہ بچوں کی سرپرست بنائی گئیں اور یہ خود بی بی نے کہا تھا (وصیت کی طرح) فریال تالپور اس حیثیت سے تمام جائیداد اور خاندانی امور کی نگران ہیں تو ان کو سیاسی طور پر بھی اہمیت دی گئی اور اہم فیصلے وہی کرتی ہیں۔ ایسے میں اگر بلاول بھٹو زرداری کو مالی ضرورت ہو یا سیاسی طور پر کسی کی حمایت کرنا مقصود ہو تو وہ از خود کیسے کر سکتے ہیں؟.... اس کے لئے پھوپھو کی نظر کرم بہرحال ضروری ہے ۔ اب اگر بلاول بچہ ہے تو پھر اس کا لاڈ پیار بھی بچوں جیسا ہوگا۔ ایسے میں پھوپھو کا یہ فرض نہیں کہ وہ لاڈ دیکھے اور ضرورت بھی پوری کرے؟ قارئین! یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔ ویسے محترمہ کی وصیت کے مطابق جانشین کوئی اور نہیں بلاول ہے اور یہ بات بھری محفل میں بتائی گئی اور اسی کے تحت بلاول کو چیئرمین بنایا گیا۔ اب وہ کیا بات ہوئی کہ یکایک وہ چیئرمین بننے کے اہل نہیں رہے، سرپرست اعلیٰ بن گئے۔ پھر یہ بھی تو پوچھا جائے گامحترم کھوسہ صاحب !جو شخص نوجوان چیئرمین بننے کی اہلیت کا حامل نہیں، وہ سرپرست اعلیٰ کیونکر بن گیا؟   ٭

مزید : کالم