ایف بی آرسگریٹ پر ٹیکس مہر لگانے کے فیصلے پر نظرثانی کرے

ایف بی آرسگریٹ پر ٹیکس مہر لگانے کے فیصلے پر نظرثانی کرے

کراچی(اکنامک رپورٹر) سمال سگریٹ مینوفیکچرز ایسوسی ایشن اور انٹرنیشنل سگریٹ انڈسڑیز پاکستان کے چیرمین حاجی جان بہادر خان نے فیڈرل بورڈآف ریونیوکی جانب سے سگریٹ کے پیکٹوں پر مہر لگانے کا فیصلہ ناقابل قبول ہے اور اس کے انڈسٹری کو مزیدمالی بوجھ سے دو چار ہونا پڑے گا اور اس سے حکومتی ریونیو سے بھی کوئی فائدہ نہ ہو گا ۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس ضمن میں صدر پاکستان ، وفاقی ٹیکس محتسب ، سیکریڑی فنانس اور چیرمین ایف بی آر کو بھی خطوط لکھے ہیں کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے ۔اس وقت مارکیٹ میں سمگل شدہ اور بغیرہیلتھ وارننگ کے سگریٹ عام فروخت ہو رہے ہیں ۔ لیکن ایف بی آر اس طرف توجہ دینے کی بجائے ٹیکس مہر کا نظام متعارف کروانا چاہ رہی ہے جس سے لگتا ہے کہ کچھ عناصر اپنے ذاتی مفادات کے لیے ایف بی آر کوپرانی ٹیکنالوجی فروخت کرنا چاہتی ہے ۔ ا نہوں نے مزید کہا کہ ترکی اور برازیل سگریٹ پیکٹوں پر ٹیکس مہر کا نظام متعارف کروایا گیا ہے لیکن ان ممالک میں یہ نظا م ناکام ہو چکاہے کیونکہ کہ غیرقانونی عناصر نے جعلی مہر فوری طور پر تیار کرلی تھیں ۔ اس لیے ٹیکس مہر کے نافذکرنے کا فیصلہ صرف پیسے کا ضیائع ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ٹینڈرمیں پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی کے قوانین کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ ایف بی آر نے پری قوالفیکشن کے مرحلے کو ختم کیا ہے جو پی پی آر اے کے رول 15 کی خلاف ورزی ہے ۔ مزید ٹینڈر جمع کروانے کے لیے صرف دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے جو اس قسم کے ٹینڈر کے لحاظ سے غیرقانونی اور ناقاِبل عمل ہے۔ مزیدبرآں بڈنگ دستاویز میںجانچ پڑتال کے عمل کا ذکر نہیں کیا گیا جو کہ رول 23 اور29 کی خلاف ورزی ہے ۔

انہوں نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس سارے عمل کو فوری طور پر روکا جائے اور کسی بھی قسم کے فیصلے سے پہلے انڈسڑی سے بھی مشاورت کی جائے ۔

مزید : کامرس