سیاسی گراف اتار چرھاﺅ کا شکار امیدوار ووٹروں کو رام کرنے کےلےے نت نئے طریقے اپنائے گی

سیاسی گراف اتار چرھاﺅ کا شکار امیدوار ووٹروں کو رام کرنے کےلےے نت نئے طریقے ...

                                              لاہور(شہباز اکمل جندران ، معاونت سجاد اکرم بیوروچیف)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 66میں سیاسی گراف اتارچڑھاﺅ کا شکار ہونے لگا۔امیدوار ووٹروں کو رام کرنے کے لیے نت نئے طریقے اپنانے لگے۔ حلقہ این اے سرگودھا شہر اور کینٹ ایریا کے مضافات پر مشتمل ہے اس کے ماتحت پی پی 33 اور 34 اس کے صوبائی حلقہ جات ہےں‘ این اے 66 کے کل ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 78 ہزار 58 ‘ مرد ووٹرز 2 لاکھ 6 ہزار 728 خواتین ووٹرز 1 لاکھ 71 ہزار 284ہےں‘ جبکہ 44 خواجہ سراءبھی رجسٹرڈ ووٹر ہےں‘ جو سیاسی صورتحال کے حوالے سے اہم ترین ہے‘ یہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑے،ایک وقت تھا کہ این اے 66مسلم لیگ ن کا ناقابل تسخیر قلعہ تھا ،مےاں نواز شرےف کے سابقہ دور حکومت تک شہر مےں شخصےت سے زےادہ مسلم لےگ ”ن “ کا ٹکٹ ہی انتخابات مےںکامےابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا جس کی واضح مثال اچانک سیاست میں آنے والے نوزائےدہ مہر ضےاءالرحمان لک ایم این اے بننا ہے‘ شہر میں مسلم لیگ (ن) کو نا قابل تسخیر جماعت بنانے کا سہرا 30 سال تک شہری سیاست پر راج کرنے والے سابق میئر و ایم این اے چودھری عبدالحمید مرحوم کے سر ہے‘ جن کی سیاسی بصیرت کی ان کے مخالفےن بھی قدر کرتے رہے‘ مرحوم کی فہم و فراست کی وجہ سے شہر میں لیگی متوالوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوا‘ اس حلقہ میں برادری ازم بی اہمیت کا حامل ہے‘ اس نشست پر کئی بار نتائج توقع کے بر عکس بھی دیکھنے کو ملے‘ جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت جلا وطنی کی سزا کاٹ رہی تھی تو ن لیگ کی میراث تصور کیے جانے والے اس انتخابی حلقے سے پیپلز پارٹی نے کلےن سویپ کیا‘ 2002ءکے عام انتخابات میں شہری سیاست کے بے تاج بادشاہ چودھری عبدالحمید مرحوم جو کہ پابند سلاسل تھے‘ چودھری عبدالحمید کی اسیری کے دوران جماعت اسلامی کے ڈاکٹر محمد ارشد شاہد جو کہ عوامی رابطے اور خوش اخلاقی میں اپنا ثانی نہےں رکھتے نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی‘ جو اب تک بڑھتی آ رہی ہے‘ تسنےم احمد قریشی نے پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے‘ تسنےم احمد قریشی تحصےل ناظم سرگودھا تھے کہ ان کے مد مقابل ڈاکٹر لیاقت علی خان نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا عدالت کے فیصلے کی روشنی میں تسنےم احمد قریشی تحصےل ناظم شپ سے فارغ ہوئے‘ ڈاکٹر لیاقت علی خان تحصےل ناظم بن گئے مگر اس کے بعد ان پر قسمت کی دیوی مہربان نہ ہوئی ‘ اور ہر بار وہ ہر الےکشن ہارتے آ رہے ہےں۔ اور اب مسلم لیگ (ن) میں شامل ہےں اور ٹکٹ کےلئے بھی کوشاں ہےں‘ 2002 کے انتخاب میں تسنےم احمد قریشی‘ ڈاکٹر ارشد شاہد کو 788 ووٹوں شکست دے کر ایم این اے بن گئے جبکہ چودھری عبدالحمید پر تسنےم قریشی کو ساڑھے 6 ہزار ووٹ کی برتری تھی۔ 2008ءکے عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل چودھری عبدالحمید کیسز سے بری ہو کر آئے پھر اپنا سیاسی ڈیرہ جمایا‘ جس پر مسلم لیگ (ن) کا گھوڑا ایک بار پھر اڑان کرنے لگا‘بی اے کی ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے 2008ءکے انتخابات میں چودھری عبدالحمید کے بیٹے چودھری حامد حمید جو کہ میئر کارپوریشن رہ چکے تھے مسلم لیگ (ن) اور تسنےم احمد قریشی‘ پیپلز پارٹی جبکہ اس وقت کے تحصےل ناظم ملک شعیب اعوان کی اہلیہ مسلم لیگ ق کی امیدوار تھیں جماعت اسلامی کے بائےکاٹ کے باعث ڈاکٹر ارشد شاہد نے انتخاب میں حصہ نہ لیا‘ تسنےم احمد قریشی نے 69943‘ جبکہ چودھری حامد حمید نے 65020 ووٹ اور بےگم ملک شعےب اعوان کو 5298 ووٹ ملے اس طرح 4923 ووٹوں کی برتری سے تسنےم احمد قریشی دوسری بار ایم این اے بن کر پہلے تین سال 2 ماہ وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ اور پھر اب تک وزیر مملکت برائے پانی و بجلی ہےں ‘ پیپلز پارٹی اس حلقہ سے منسلک صوبائی اسمبلی کی دونوں سیٹیں ہار گئی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ایم پی اے بنے‘ آئندہ انتخابات میں اس حلقے میں سیاسی منظر بدلتا نظر آ رہا ہے‘ سر دست ڈاکٹر ارشد شاہد جماعت اسلامی‘ تسنےم احمد قریشی پیپلز پارٹی ‘ چودھری حامد حمید مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہےں‘ قیادت کی ہدایت پر اپنی انتخابی مہم میں چلائے ہوئے ہےں‘ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کےلئے سابق سینیٹر مہر خداداد لک مرحوم کے بیٹے مہر محمد یار لک بھی کوشاں ہےں‘ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر ارشد شاہد زور و شور سے اپنی انتخابی مہم چلائے ہوئے ہےں‘ چودھری حامد حمید اور ڈاکٹر ارشد شاہد حلقہ میں دن میں کئی کئی کارنر میٹنگز کر رہے ہےں عوام سے اپنے رابطہ دن بدن بڑھا رہے ہےں‘ تسنےم احمد قریشی وزیر مملکت پانی و بجلی ہونے کے ناطے ہوٹر والی گاڑی پر ملک بھر میں گھوم کر وزارت کے مزے لے رہے ہےں‘ اگر آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی تو این اے 66 سے ڈاکٹر ارشد شاہد دونوں جماعتوں کے متفقہ امیدوار ہونگے‘ حامد حمید دونوں میں سے ایک صوبائی حلقے پر الیکشن لڑیں گے‘ اس صورت میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو مشکلات کے ساتھ ساتھ قوی امکان ہے کہ انہےں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا‘ دلچسپ امر ےہ ہے کہ اس حلقہ میں سر دست پاکستان تحریک انصاف کا کوئی امیدوار سامنے نہےں ہے‘ اور نہ ہی اس جماعت سے منسلک کسی عہدیدار یا ورکر نے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔اسی طرح این اے 66 سے منسلک صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 33 سرگودھا پر کبھی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور کبھی پیپلز پارٹی کامیاب ہوتی رہی ےہ حلقہ اندرون شہر کے بلاکوں اور قرب و جوار کی گنجان آبادیوں پر مشتمل ہے‘ جس کے کل ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 76 ہزار 852 ہے‘ جس میں 97 ہزار 470 مرد‘ 79 ہزار 376 خواتین اور 6 خواجہ سراءووٹرز ہےں‘ اس حلقہ میں ارائےں‘ کمبوہ‘ مغل‘ ملک کثرت سے آباد ہےں‘ جبکہ جاٹ برادریوں کے خال خال لوگ بھی اس حلقہ میں رجسٹرڈ ووٹر ہےں‘ شہری سیاست پر ایک طویل عرصہ تک سابق ایم این اے چودھری عبدالحمید مرحوم کا راج رہا‘ اور وہ خود میئر کارپوریشن‘ تین بار ایم پی اے ‘ایم این اے بنے اور ان کا طوطی بولتارہا‘ 2008ءمیں ان کا بیٹا سابق میئر چودھری حامد حمید تو 4200 ووٹوں سے تسنےم احمد قریشی سے ہار گئے مگر حلقہ سے منسلک دونوں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی‘ ان انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عبدالرزاق ڈھلوں نے 34 ہزار 941‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے افضال احمد مرزا ایڈووکیٹ نے 28 ہزار 741 اور پاکستان مسلم لیگ ق کی بےگم فرحانہ شعےب اعوان نے 4 ہزار 582 حاصل کیے‘ جماعت اسلامی نے اس انتخاب کا بائےکاٹ کیا تھا‘ اس طرح درمیانے طبقے کے ملنسار اور یوتھ ونگ کے نوجوان عبدالرزاق ڈھلوں ایم پی اے بن گئے‘ اب اس حلقہ میں سیاسی منظر پلٹ چکا ہے‘ اب حالات بدل چکے ہےں‘ سردست مسلم لیگ (ن) کے عبدالرزاق ڈھلوں اس حلقہ سے امیدوار ہےں‘ تا ہم قومی اسمبلی کی نشست پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ متوقع ہے‘ اس صورت میں ڈاکٹر ارشد شاہد دونوں جماعتوں کے متفقہ امیدوا ر ہونگے اور چودھری حامد حمید پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پی پی 33 سے امیدوار ہونگے‘ کیونکہ ان کے والد چودھری عبدالحمید مرحوم کی پارٹی کےلئے گرانقدر خدمات ہےں‘ ان کی سیاست کی پہلی اور آخری جماعت بھی مسلم لیگ (ن) تھی جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت جلا وطنی کاٹ رہی تھی اس وقت چودھری عبدالحمید جےل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے‘ مرزا بردران ‘مرزا محمد الیاس سابق نائب تحصیل ناظم مرزا افضال احمد سابق ایم پی اے پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو چکے ہےں‘ اس طرح پیپلز پارٹی کو اس حلقہ سے امیدوار کی تلاش ہے اور قوی امکان ہے کہ سابق وزیر مملکت تسنےم احمد قریشی کے بھائی متین احمد قریشی پی پی 33 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہوں۔ اس نشست کے حلقہ میں جماعت اسلامی اپنا وسیع ووٹ بےنک رکھتی ہے‘ اسی بناءپر حاجی جاوید اقبال چےمہ دو بار ایم پی اے اور ایک بار ایم این اے رہ چکے ہےں‘ 2002ءکے انتخاب میں تسنےم احمد قریشی کو جماعت اسلامی کے ڈاکٹر ارشد شاہد مےں ناقابل یقین مقابلہ ہوا تھا اور ڈاکٹر ارشد شاہد پر تسنےم قریشی کو صرف 514 ووٹوں کی برتری تھی‘ پی پی 33 سے میاں اظہار الحق جو کہ سابق ناظم رہ چکے ہےں‘ جماعت اسلامی کے امیدوار ہےں‘ این اے 66 پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں جماعت اسلامی اس حلقہ میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت کرے گی ‘ نوجوانوں میں مقبول پاکستان تحریک انصاف کا بظاہر تو کوئی امیدوار اس حلقہ سے سامنے نہےں ہے‘ صحافی اکرم عامر سمیت لا تعداد نئے چہرے اس حلقہ میں بطور آزاد امیدوار سامنے ہےں‘ اور اپنے تئےں محدود انتخابی مہم چلا رہے ہےں‘ حلقہ میں امیدواروں کے انتخابی دفتر قائم ہو چکے ہےں‘ جہاں ووٹروں کی آﺅ بھگت شروع ہے‘ نتیجہ کیا ہو گا ےہ تو وقت ہی بتائے گا‘ ہاں ےہاں مقابلہ کانٹے دار ہوگا۔جبکہ این اے 66 سے منسلک صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 34 کینٹ ایریا کی پوش آبادیوں اور مضافات پرمشتمل ہے جس میں 1 لاکھ 39 ہزار 724 کل ووٹرز ہےں‘ جن میں 75 ہزار 56 مرد‘ 64 ہزار 657 خواتین اور 11 خواجہ سراءرجسٹرڈ ووٹر ہےں‘ ہر الےکشن میں اس حلقہ سے نیا چہرہ ہی کامیاب ہوتا آ رہا ہے‘ ہر بار نتائج غیر متوقع سامنے آتے ہےں‘ ارائےں‘ راجپوت‘ ملک‘ چےمہ‘ چٹھہ‘ گوندل‘ قریشی سمیت تمام قوموں کے لوگ اس حلقہ میں رجسٹرڈ ووٹر ہےں‘ خاموش ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار ہی اس حلقہ سے کامیاب قرار پاتا ہے‘ 2008ءکے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نوجوان یوتھ ونگ کی وجہ سے ٹکٹ حاصل کرنے والے رضوان گل نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق ایم پی اے ڈاکٹر نادےہ عزیز جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اس وقت کے ڈویژنل کوآرڈی نیٹر عزیز الحق کی صاحبزادی ہےں‘اور سابق تحصےل ناظم ڈاکٹر لیاقت علی خان جو کہ آزاد حیثیت سے امیدوار تھے کو کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی‘ مگر شو مئی قسمت کہ دیرینہ مخالف سید اظہر الحق شیرازی ایڈووکیٹ نے رضوان گل کی بی اے کی ڈگری ہائےکورٹ میں چیلنج کر دی‘ 2010ءمیں عدالت عالےہ لاہور ہائےکورٹ نے رضوان گل کی ڈگری جعلی قرار دے دی‘ جس پر اس حلقہ میں ضمنی انتخاب ہوا‘حامد حمید پاکستان مسلم لیگ (ن) اور سابق ایم پی اے نادےہ عزیز پیپلز پارٹی کی ٹکٹ کے خواہشمند تھے مگر دونوں اپنی پارٹیوں کے ٹکٹ سے محروم رہے‘ نا اہل قرار پانے والے رضوان گل کے بھائی حاجی تبریز گل کو پاکستان مسلم لیگ (ن) نے تھپکی دے کر انتخابی اکھاڑے میں اتارا‘ نیا چہرہ فیاض احمد اوٹھی جو کہ سابق ناظم بھی رہ چکے ہےں اس حلقہ سے پاکستان پیپلز پارٹی اور اس وقت کے وزیر مملکت برائے داخلہ تسنےم احمد قریشی کے حمایت یافتہ امیدوار تھے تا ہم پارٹی نشان تیر کی بجائے تانگہ کے نشان پر انتخاب لڑا‘ جبکہ سیاست میں نو وارد اعجاز احمد کاہلوں مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت سے امیدوار تھے‘ اعجاز احمد کاہلوں نے 15 ہزار 944 تبریز گل نے 14 ہزار 740 اور فیاض احمد اوٹھی نے 7 ہزار 381 ووٹ حاصل کیے‘ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کی اکثریت بظاہر تو خاموش رہی‘ مگر اندرون خانہ آزاد امیدار اعجاز احمد کاہلوں کو بھر پور سپورٹ کیا اس طرح ضمنی انتخاب میں حکومتی مشینری کے حرکت میں ہونے کے باوجود اعجاز احمد کاہلوں آزاد حیثیت سے 1204 ووٹوں کی برتری سے ایم پی اے بن گئے ‘انتخابی مہم کے جلسوں میں اعجاز احمد کاہلوں اور ان کے بھائی حاجی ممتاز احمد کاہلوں برملا اظہار کرتے رہے کہ وہ جیت کر سیٹ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو تحفے میں دیں گے‘ مگر جونہی اعجاز احمد کاہلوں کی کامیابی کا اعلان ہوا تو صدر مملکت آصف علی زرداری اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت پیپلز پارٹی کی پوری قیادت نے کاہلوں برادران سے رابطہ کر کے انہےں پاکستان پےپلز پارٹی میں شامل کر لیا‘ جس کے بدلے حاجی ممتاز احمد کاہلوں کو وفاقی ادارے نیو ٹیک کا چیئر مےن بنایا گیا‘ جبکہ اعجاز احمد کاہلوں کو حلقے کے دیہاتوں کےلئے سوئی گیس کے منصوبے کے لئے کروڑوں کی گرانٹ دی گئی‘ جسے انہوں نے حلقہ میں خوب استعمال بھی کیا‘ اب اس حلقہ کا سیاسی منظر نامہ مداری کے کھیل کی طرح تبدیل ہو گیا ہے‘ پیپلز پارٹی کی سابق ایم پی اے ڈاکٹر نادےہ عزیز اور ان کے والد پیپلز پارٹی کے سابق ڈویژنل کوآرڈی نیٹر ملک عزیز الحق نے وزیر مملکت پانی و بجلی تسنےم احمد قریشی کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر رکھا ہے‘ اور ان کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے پی پی34 کے ٹکٹ کے لئے بات بھی طے پا چکی ہے‘ جس کا ملک عزیز الحق اور نادےہ عزیز نا صرف برملا اظہار کر رہی ہےں بلکہ مسلم لیگ کی امیدوار کے طور پر اپنی انتخابی مہم بھی شروع کر دی ہے‘ سابق تحصےل ناظم ڈاکٹر لیاقت علی خان ن لیگ جوائن کر چکے ہےں اور سرگودھا کا دورہ کرنے والے مسلم لیگ (ن) کے ہر قائد کا اپنی رہائش گاہ پر وسیع دستر خوان والا استقبالےہ دینے میں مشغول ہےں‘ اس طرح رضوان گل‘ تبریز گل‘ ڈاکٹر لیاقت علی خان‘ حاجی اسلم کچھیلا‘ اور چیئر مےن بےت المال عمران گھمن پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے خواہاں‘ پیپلز پارٹی کے وزیر مملکت تسنےم احمد قریشی جن کا ڈاکٹر نادےہ عزیز سے اٹ کڑکا ہے حلقہ سے پارٹی کےلئے امیدوار تلاش کر رہے ہےں‘ حلقے میں منظم ووٹ بےنک رکھنے والی جماعت اسلامی کے ملک محمود الحسن سابق ناظم یونےن کونسل میدان میں ہےں اور اپنی خوب انتخابی مہم چلا رہے ہےں جماعت اسلامی کے اداروں اور دفتر کا وسیع نےٹ ورک بھی اس حلقہ میں موجود ہے‘اس حلقہ سے 2002ءکے انتخاب میں آزاد حیثیت سے 7600 ووٹ حاصل کرنے والے عبدالرحمن ساہی جنہوں نے شکست کے بعد پہلے پیپلز پارٹی اور اب تحریک انصاف کا پرچم تھاما ہے‘ اب وہ اپنے تئےںتحریک انصاف کے امیدوار ٹھہرے ہوئے ہےں‘ جبکہ مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ کسی حلقہ کےلئے تحریک انصاف نے کئی امیدوار نامزد نہیں کیا‘ 10 ماہ سے آزاد حیثیت سے چودھری ابوبکر باٹھ انتخابی مہم چلا رہے ہےں‘ حال ہی میں ٹرانسپورٹر اورنگزےب بٹ نے بھی پی پی 34 سے انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا ہے اور اپنی تشہیری مہم شروع کر دی ہے۔حلقہ میں سب سے زیادہ کارنر میٹنگز اور جلسے جماعت اسلامی کا امیدوار کر رہا ہے۔جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے امیدوار گومگو صورتحال کا شکار ہےں۔نتائج کیا ہونگے ےہ تو وہی بتائے گا مگر حلقہ میں میدان خوب سجے گا۔

الیکشن این اے 66

سےاسی گراف اتار چرھاﺅ کا شکار امےدوار ووٹروں کو رام کرنے کے لےے نت نئے طرےقے اپنائے گی                                                لاہور(شہباز اکمل جندران ، معاونت سجاد اکرم بیوروچیف)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 66میں سیاسی گراف اتارچڑھاﺅ کا شکار ہونے لگا۔امیدوار ووٹروں کو رام کرنے کے لیے نت نئے طریقے اپنانے لگے۔ حلقہ این اے سرگودھا شہر اور کینٹ ایریا کے مضافات پر مشتمل ہے اس کے ماتحت پی پی 33 اور 34 اس کے صوبائی حلقہ جات ہےں‘ این اے 66 کے کل ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 78 ہزار 58 ‘ مرد ووٹرز 2 لاکھ 6 ہزار 728 خواتین ووٹرز 1 لاکھ 71 ہزار 284ہےں‘ جبکہ 44 خواجہ سراءبھی رجسٹرڈ ووٹر ہےں‘ جو سیاسی صورتحال کے حوالے سے اہم ترین ہے‘ یہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑے،ایک وقت تھا کہ این اے 66مسلم لیگ ن کا ناقابل تسخیر قلعہ تھا ،مےاں نواز شرےف کے سابقہ دور حکومت تک شہر مےں شخصےت سے زےادہ مسلم لےگ ”ن “ کا ٹکٹ ہی انتخابات مےںکامےابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا جس کی واضح مثال اچانک سیاست میں آنے والے نوزائےدہ مہر ضےاءالرحمان لک ایم این اے بننا ہے‘ شہر میں مسلم لیگ (ن) کو نا قابل تسخیر جماعت بنانے کا سہرا 30 سال تک شہری سیاست پر راج کرنے والے سابق میئر و ایم این اے چودھری عبدالحمید مرحوم کے سر ہے‘ جن کی سیاسی بصیرت کی ان کے مخالفےن بھی قدر کرتے رہے‘ مرحوم کی فہم و فراست کی وجہ سے شہر میں لیگی متوالوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوا‘ اس حلقہ میں برادری ازم بی اہمیت کا حامل ہے‘ اس نشست پر کئی بار نتائج توقع کے بر عکس بھی دیکھنے کو ملے‘ جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت جلا وطنی کی سزا کاٹ رہی تھی تو ن لیگ کی میراث تصور کیے جانے والے اس انتخابی حلقے سے پیپلز پارٹی نے کلےن سویپ کیا‘ 2002ءکے عام انتخابات میں شہری سیاست کے بے تاج بادشاہ چودھری عبدالحمید مرحوم جو کہ پابند سلاسل تھے‘ چودھری عبدالحمید کی اسیری کے دوران جماعت اسلامی کے ڈاکٹر محمد ارشد شاہد جو کہ عوامی رابطے اور خوش اخلاقی میں اپنا ثانی نہےں رکھتے نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی‘ جو اب تک بڑھتی آ رہی ہے‘ تسنےم احمد قریشی نے پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے‘ تسنےم احمد قریشی تحصےل ناظم سرگودھا تھے کہ ان کے مد مقابل ڈاکٹر لیاقت علی خان نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا عدالت کے فیصلے کی روشنی میں تسنےم احمد قریشی تحصےل ناظم شپ سے فارغ ہوئے‘ ڈاکٹر لیاقت علی خان تحصےل ناظم بن گئے مگر اس کے بعد ان پر قسمت کی دیوی مہربان نہ ہوئی ‘ اور ہر بار وہ ہر الےکشن ہارتے آ رہے ہےں۔ اور اب مسلم لیگ (ن) میں شامل ہےں اور ٹکٹ کےلئے بھی کوشاں ہےں‘ 2002 کے انتخاب میں تسنےم احمد قریشی‘ ڈاکٹر ارشد شاہد کو 788 ووٹوں شکست دے کر ایم این اے بن گئے جبکہ چودھری عبدالحمید پر تسنےم قریشی کو ساڑھے 6 ہزار ووٹ کی برتری تھی۔ 2008ءکے عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل چودھری عبدالحمید کیسز سے بری ہو کر آئے پھر اپنا سیاسی ڈیرہ جمایا‘ جس پر مسلم لیگ (ن) کا گھوڑا ایک بار پھر اڑان کرنے لگا‘بی اے کی ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے 2008ءکے انتخابات میں چودھری عبدالحمید کے بیٹے چودھری حامد حمید جو کہ میئر کارپوریشن رہ چکے تھے مسلم لیگ (ن) اور تسنےم احمد قریشی‘ پیپلز پارٹی جبکہ اس وقت کے تحصےل ناظم ملک شعیب اعوان کی اہلیہ مسلم لیگ ق کی امیدوار تھیں جماعت اسلامی کے بائےکاٹ کے باعث ڈاکٹر ارشد شاہد نے انتخاب میں حصہ نہ لیا‘ تسنےم احمد قریشی نے 69943‘ جبکہ چودھری حامد حمید نے 65020 ووٹ اور بےگم ملک شعےب اعوان کو 5298 ووٹ ملے اس طرح 4923 ووٹوں کی برتری سے تسنےم احمد قریشی دوسری بار ایم این اے بن کر پہلے تین سال 2 ماہ وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ اور پھر اب تک وزیر مملکت برائے پانی و بجلی ہےں ‘ پیپلز پارٹی اس حلقہ سے منسلک صوبائی اسمبلی کی دونوں سیٹیں ہار گئی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ایم پی اے بنے‘ آئندہ انتخابات میں اس حلقے میں سیاسی منظر بدلتا نظر آ رہا ہے‘ سر دست ڈاکٹر ارشد شاہد جماعت اسلامی‘ تسنےم احمد قریشی پیپلز پارٹی ‘ چودھری حامد حمید مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہےں‘ قیادت کی ہدایت پر اپنی انتخابی مہم میں چلائے ہوئے ہےں‘ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کےلئے سابق سینیٹر مہر خداداد لک مرحوم کے بیٹے مہر محمد یار لک بھی کوشاں ہےں‘ جماعت اسلامی کے ڈاکٹر ارشد شاہد زور و شور سے اپنی انتخابی مہم چلائے ہوئے ہےں‘ چودھری حامد حمید اور ڈاکٹر ارشد شاہد حلقہ میں دن میں کئی کئی کارنر میٹنگز کر رہے ہےں عوام سے اپنے رابطہ دن بدن بڑھا رہے ہےں‘ تسنےم احمد قریشی وزیر مملکت پانی و بجلی ہونے کے ناطے ہوٹر والی گاڑی پر ملک بھر میں گھوم کر وزارت کے مزے لے رہے ہےں‘ اگر آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی تو این اے 66 سے ڈاکٹر ارشد شاہد دونوں جماعتوں کے متفقہ امیدوار ہونگے‘ حامد حمید دونوں میں سے ایک صوبائی حلقے پر الیکشن لڑیں گے‘ اس صورت میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو مشکلات کے ساتھ ساتھ قوی امکان ہے کہ انہےں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا‘ دلچسپ امر ےہ ہے کہ اس حلقہ میں سر دست پاکستان تحریک انصاف کا کوئی امیدوار سامنے نہےں ہے‘ اور نہ ہی اس جماعت سے منسلک کسی عہدیدار یا ورکر نے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔اسی طرح این اے 66 سے منسلک صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 33 سرگودھا پر کبھی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور کبھی پیپلز پارٹی کامیاب ہوتی رہی ےہ حلقہ اندرون شہر کے بلاکوں اور قرب و جوار کی گنجان آبادیوں پر مشتمل ہے‘ جس کے کل ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 76 ہزار 852 ہے‘ جس میں 97 ہزار 470 مرد‘ 79 ہزار 376 خواتین اور 6 خواجہ سراءووٹرز ہےں‘ اس حلقہ میں ارائےں‘ کمبوہ‘ مغل‘ ملک کثرت سے آباد ہےں‘ جبکہ جاٹ برادریوں کے خال خال لوگ بھی اس حلقہ میں رجسٹرڈ ووٹر ہےں‘ شہری سیاست پر ایک طویل عرصہ تک سابق ایم این اے چودھری عبدالحمید مرحوم کا راج رہا‘ اور وہ خود میئر کارپوریشن‘ تین بار ایم پی اے ‘ایم این اے بنے اور ان کا طوطی بولتارہا‘ 2008ءمیں ان کا بیٹا سابق میئر چودھری حامد حمید تو 4200 ووٹوں سے تسنےم احمد قریشی سے ہار گئے مگر حلقہ سے منسلک دونوں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی‘ ان انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عبدالرزاق ڈھلوں نے 34 ہزار 941‘ پاکستان پیپلز پارٹی کے افضال احمد مرزا ایڈووکیٹ نے 28 ہزار 741 اور پاکستان مسلم لیگ ق کی بےگم فرحانہ شعےب اعوان نے 4 ہزار 582 حاصل کیے‘ جماعت اسلامی نے اس انتخاب کا بائےکاٹ کیا تھا‘ اس طرح درمیانے طبقے کے ملنسار اور یوتھ ونگ کے نوجوان عبدالرزاق ڈھلوں ایم پی اے بن گئے‘ اب اس حلقہ میں سیاسی منظر پلٹ چکا ہے‘ اب حالات بدل چکے ہےں‘ سردست مسلم لیگ (ن) کے عبدالرزاق ڈھلوں اس حلقہ سے امیدوار ہےں‘ تا ہم قومی اسمبلی کی نشست پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ متوقع ہے‘ اس صورت میں ڈاکٹر ارشد شاہد دونوں جماعتوں کے متفقہ امیدوا ر ہونگے اور چودھری حامد حمید پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پی پی 33 سے امیدوار ہونگے‘ کیونکہ ان کے والد چودھری عبدالحمید مرحوم کی پارٹی کےلئے گرانقدر خدمات ہےں‘ ان کی سیاست کی پہلی اور آخری جماعت بھی مسلم لیگ (ن) تھی جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت جلا وطنی کاٹ رہی تھی اس وقت چودھری عبدالحمید جےل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے‘ مرزا بردران ‘مرزا محمد الیاس سابق نائب تحصیل ناظم مرزا افضال احمد سابق ایم پی اے پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو چکے ہےں‘ اس طرح پیپلز پارٹی کو اس حلقہ سے امیدوار کی تلاش ہے اور قوی امکان ہے کہ سابق وزیر مملکت تسنےم احمد قریشی کے بھائی متین احمد قریشی پی پی 33 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ہوں۔ اس نشست کے حلقہ میں جماعت اسلامی اپنا وسیع ووٹ بےنک رکھتی ہے‘ اسی بناءپر حاجی جاوید اقبال چےمہ دو بار ایم پی اے اور ایک بار ایم این اے رہ چکے ہےں‘ 2002ءکے انتخاب میں تسنےم احمد قریشی کو جماعت اسلامی کے ڈاکٹر ارشد شاہد مےں ناقابل یقین مقابلہ ہوا تھا اور ڈاکٹر ارشد شاہد پر تسنےم قریشی کو صرف 514 ووٹوں کی برتری تھی‘ پی پی 33 سے میاں اظہار الحق جو کہ سابق ناظم رہ چکے ہےں‘ جماعت اسلامی کے امیدوار ہےں‘ این اے 66 پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں جماعت اسلامی اس حلقہ میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حمایت کرے گی ‘ نوجوانوں میں مقبول پاکستان تحریک انصاف کا بظاہر تو کوئی امیدوار اس حلقہ سے سامنے نہےں ہے‘ صحافی اکرم عامر سمیت لا تعداد نئے چہرے اس حلقہ میں بطور آزاد امیدوار سامنے ہےں‘ اور اپنے تئےں محدود انتخابی مہم چلا رہے ہےں‘ حلقہ میں امیدواروں کے انتخابی دفتر قائم ہو چکے ہےں‘ جہاں ووٹروں کی آﺅ بھگت شروع ہے‘ نتیجہ کیا ہو گا ےہ تو وقت ہی بتائے گا‘ ہاں ےہاں مقابلہ کانٹے دار ہوگا۔جبکہ این اے 66 سے منسلک صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی 34 کینٹ ایریا کی پوش آبادیوں اور مضافات پرمشتمل ہے جس میں 1 لاکھ 39 ہزار 724 کل ووٹرز ہےں‘ جن میں 75 ہزار 56 مرد‘ 64 ہزار 657 خواتین اور 11 خواجہ سراءرجسٹرڈ ووٹر ہےں‘ ہر الےکشن میں اس حلقہ سے نیا چہرہ ہی کامیاب ہوتا آ رہا ہے‘ ہر بار نتائج غیر متوقع سامنے آتے ہےں‘ ارائےں‘ راجپوت‘ ملک‘ چےمہ‘ چٹھہ‘ گوندل‘ قریشی سمیت تمام قوموں کے لوگ اس حلقہ میں رجسٹرڈ ووٹر ہےں‘ خاموش ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار ہی اس حلقہ سے کامیاب قرار پاتا ہے‘ 2008ءکے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نوجوان یوتھ ونگ کی وجہ سے ٹکٹ حاصل کرنے والے رضوان گل نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق ایم پی اے ڈاکٹر نادےہ عزیز جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اس وقت کے ڈویژنل کوآرڈی نیٹر عزیز الحق کی صاحبزادی ہےں‘اور سابق تحصےل ناظم ڈاکٹر لیاقت علی خان جو کہ آزاد حیثیت سے امیدوار تھے کو کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی‘ مگر شو مئی قسمت کہ دیرینہ مخالف سید اظہر الحق شیرازی ایڈووکیٹ نے رضوان گل کی بی اے کی ڈگری ہائےکورٹ میں چیلنج کر دی‘ 2010ءمیں عدالت عالےہ لاہور ہائےکورٹ نے رضوان گل کی ڈگری جعلی قرار دے دی‘ جس پر اس حلقہ میں ضمنی انتخاب ہوا‘حامد حمید پاکستان مسلم لیگ (ن) اور سابق ایم پی اے نادےہ عزیز پیپلز پارٹی کی ٹکٹ کے خواہشمند تھے مگر دونوں اپنی پارٹیوں کے ٹکٹ سے محروم رہے‘ نا اہل قرار پانے والے رضوان گل کے بھائی حاجی تبریز گل کو پاکستان مسلم لیگ (ن) نے تھپکی دے کر انتخابی اکھاڑے میں اتارا‘ نیا چہرہ فیاض احمد اوٹھی جو کہ سابق ناظم بھی رہ چکے ہےں اس حلقہ سے پاکستان پیپلز پارٹی اور اس وقت کے وزیر مملکت برائے داخلہ تسنےم احمد قریشی کے حمایت یافتہ امیدوار تھے تا ہم پارٹی نشان تیر کی بجائے تانگہ کے نشان پر انتخاب لڑا‘ جبکہ سیاست میں نو وارد اعجاز احمد کاہلوں مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت سے امیدوار تھے‘ اعجاز احمد کاہلوں نے 15 ہزار 944 تبریز گل نے 14 ہزار 740 اور فیاض احمد اوٹھی نے 7 ہزار 381 ووٹ حاصل کیے‘ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کی اکثریت بظاہر تو خاموش رہی‘ مگر اندرون خانہ آزاد امیدار اعجاز احمد کاہلوں کو بھر پور سپورٹ کیا اس طرح ضمنی انتخاب میں حکومتی مشینری کے حرکت میں ہونے کے باوجود اعجاز احمد کاہلوں آزاد حیثیت سے 1204 ووٹوں کی برتری سے ایم پی اے بن گئے ‘انتخابی مہم کے جلسوں میں اعجاز احمد کاہلوں اور ان کے بھائی حاجی ممتاز احمد کاہلوں برملا اظہار کرتے رہے کہ وہ جیت کر سیٹ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو تحفے میں دیں گے‘ مگر جونہی اعجاز احمد کاہلوں کی کامیابی کا اعلان ہوا تو صدر مملکت آصف علی زرداری اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت پیپلز پارٹی کی پوری قیادت نے کاہلوں برادران سے رابطہ کر کے انہےں پاکستان پےپلز پارٹی میں شامل کر لیا‘ جس کے بدلے حاجی ممتاز احمد کاہلوں کو وفاقی ادارے نیو ٹیک کا چیئر مےن بنایا گیا‘ جبکہ اعجاز احمد کاہلوں کو حلقے کے دیہاتوں کےلئے سوئی گیس کے منصوبے کے لئے کروڑوں کی گرانٹ دی گئی‘ جسے انہوں نے حلقہ میں خوب استعمال بھی کیا‘ اب اس حلقہ کا سیاسی منظر نامہ مداری کے کھیل کی طرح تبدیل ہو گیا ہے‘ پیپلز پارٹی کی سابق ایم پی اے ڈاکٹر نادےہ عزیز اور ان کے والد پیپلز پارٹی کے سابق ڈویژنل کوآرڈی نیٹر ملک عزیز الحق نے وزیر مملکت پانی و بجلی تسنےم احمد قریشی کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر رکھا ہے‘ اور ان کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے پی پی34 کے ٹکٹ کے لئے بات بھی طے پا چکی ہے‘ جس کا ملک عزیز الحق اور نادےہ عزیز نا صرف برملا اظہار کر رہی ہےں بلکہ مسلم لیگ کی امیدوار کے طور پر اپنی انتخابی مہم بھی شروع کر دی ہے‘ سابق تحصےل ناظم ڈاکٹر لیاقت علی خان ن لیگ جوائن کر چکے ہےں اور سرگودھا کا دورہ کرنے والے مسلم لیگ (ن) کے ہر قائد کا اپنی رہائش گاہ پر وسیع دستر خوان والا استقبالےہ دینے میں مشغول ہےں‘ اس طرح رضوان گل‘ تبریز گل‘ ڈاکٹر لیاقت علی خان‘ حاجی اسلم کچھیلا‘ اور چیئر مےن بےت المال عمران گھمن پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے خواہاں‘ پیپلز پارٹی کے وزیر مملکت تسنےم احمد قریشی جن کا ڈاکٹر نادےہ عزیز سے اٹ کڑکا ہے حلقہ سے پارٹی کےلئے امیدوار تلاش کر رہے ہےں‘ حلقے میں منظم ووٹ بےنک رکھنے والی جماعت اسلامی کے ملک محمود الحسن سابق ناظم یونےن کونسل میدان میں ہےں اور اپنی خوب انتخابی مہم چلا رہے ہےں جماعت اسلامی کے اداروں اور دفتر کا وسیع نےٹ ورک بھی اس حلقہ میں موجود ہے‘اس حلقہ سے 2002ءکے انتخاب میں آزاد حیثیت سے 7600 ووٹ حاصل کرنے والے عبدالرحمن ساہی جنہوں نے شکست کے بعد پہلے پیپلز پارٹی اور اب تحریک انصاف کا پرچم تھاما ہے‘ اب وہ اپنے تئےںتحریک انصاف کے امیدوار ٹھہرے ہوئے ہےں‘ جبکہ مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ کسی حلقہ کےلئے تحریک انصاف نے کئی امیدوار نامزد نہیں کیا‘ 10 ماہ سے آزاد حیثیت سے چودھری ابوبکر باٹھ انتخابی مہم چلا رہے ہےں‘ حال ہی میں ٹرانسپورٹر اورنگزےب بٹ نے بھی پی پی 34 سے انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا ہے اور اپنی تشہیری مہم شروع کر دی ہے۔حلقہ میں سب سے زیادہ کارنر میٹنگز اور جلسے جماعت اسلامی کا امیدوار کر رہا ہے۔جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے امیدوار گومگو صورتحال کا شکار ہےں۔نتائج کیا ہونگے ےہ تو وہی بتائے گا مگر حلقہ میں میدان خوب سجے گا۔

الیکشن این اے 66

مزید : صفحہ آخر