کسی جماعت سے اتحاد کا وقت ننےں سیٹ ارجسٹمنٹ ہو سکتی ہے

کسی جماعت سے اتحاد کا وقت ننےں سیٹ ارجسٹمنٹ ہو سکتی ہے

                             کراچی (ثناءنیوز ) بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کسی جماعت سے اتحاد کرنے کا وقت نہیں ہے تاہم سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے ۔بلوچستان کے وسائل پر بلوچوں کا حق ہے ۔طاقت کے ذریعہ بلوچ قوم کو زیادہ وقت تک ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ بلوچستان کے عوام پر ظلم و ستم جاری ہے روزانہ بلوچوں کو اغواءکرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں ۔بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کیاجارہا ہے ۔اگر بلوچستان کے لوگوں کا احساس محرومی دور کرنا ہے تو وہاں آپریشن فوری بند کرنا ہوگا اور تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا ہوگا ۔ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے آئندہ انتخابات کا پرامن ماحول میں شفاف طریقے سے انعقاد ضروری ہے ۔وہ بدھ کو اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پر ظلم و ستم جاری ہے روزانہ بلوچوں کو اغواءکرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں ۔بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کیاجارہا ہے ۔بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے ۔بلوچ عوام میں شدید احساس محرومی پایا جاتا ہے ۔اختر مینگل نے کہا کہ ظلم کا ایک وقت ہوتا ہے تاہم فتح ہمیشہ مظلوموں کی ہوتی ہے ، بلوچ مظلوم قوم ہیں ۔بلوچ عوام کا دفاع نہتے ہاتھوں سے کیا اور آئندہ بھی بلوچوں کا دفاع کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میںآپریشن کو بلوچوں کی نسل کشی سمجھتے ہیں ۔اگر حالات کو بہتر بنانا ہے تو وہاں آپریشن فوری بند کرنا ہوگا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے دائر کیس میں بلوچستان کے ایک پولیس افسر نے بیان دیا ہے کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں بعض قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران ملوث ہیں اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ بے گناہ بلوچوں کو اغواءکرنے میں ملوث ہیں ان پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جاتا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی این پی نے اپنے خدشات سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کردیا ہے ۔اگر الیکشن کمیشن نے ہمارے تحفظات کو دورنہیں کیا تو پھر شفاف الیکشن انعقاد مشکل نظر آتا ہے اور ایسے الیکشن کا مطلب یہ ہوگا کہ بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ ۔انہوں نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہین اور جمہوری انداز میں مذاکرات کا حل سمجھتے ہیں ۔تاہم اس پہلے ضروری ہے کہ بلوچوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ نہیں لیا گیا ۔اب ضروری ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل جمہوری انداز میں تلاش کیا جائے۔

اختر مینگل

مزید : صفحہ آخر