سابقہ اسمبلیوں کے جعلی ڈگری والے ارکان بچ نہیں سکیں گے!

سابقہ اسمبلیوں کے جعلی ڈگری والے ارکان بچ نہیں سکیں گے!
سابقہ اسمبلیوں کے جعلی ڈگری والے ارکان بچ نہیں سکیں گے!

  

کوئی دن نہیں گزرتا، جب کوئی نہ کوئی نئی درخواست عدالت عظمیٰ میں دائر نہ ہو یا پھر الیکشن کمیشن سے رجوع نہ کیا جائے۔ عدالت عظمیٰ اور پاکستان الیکشن کمیشن کے سامنے اتنی درخواستیں ہیں کہ تمام وقت انہی کے بارے میں غور کا احساس ہوتاہے اور اب تو اس میں یوں بھی شدت آ گئی کہ عدالت عظمیٰ کو اپنے پہلے سے دیئے گئے احکام پر عمل درآمد کے لئے نیا حکم جاری کرنا پڑتا ہے۔ منگل کو عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پھر یہ ہدایت کی کہ جعلی ڈگری والے سابق اراکین پارلیمینٹ کا محاسبہ دو دن کے اندر کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے بتایا گیا تھاکہ کارروائی ہو رہی ہے یہاں مسئلہ قریباً دو سو افراد کی ڈگریوں کے بارے میں ہائر ایجوکیشن سے تصدیق کا ہے جبکہ جن حضرات کی ڈگریاں جعلی قرار دی جا چکی ہیں ان کی تعداد بھی درجنوں میں ہے اور ان میں سے جمشید دستی سمیت کئی افراد انتخاب میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک تو یہ تصور تھا کہ رات گئی بات گئی۔ اب یہ مسئلہ زیادہ سنجیدہ ہوگیا اور جعلی ڈگریوں والے نہ صرف نااہل ہوں گے بلکہ ان کے خلاف مقدمات بھی چلیں گے ۔

عدالت عظمیٰ اور الیکشن کمیشن نے شفاف انتخابات کے لئے الگ الگ ہدایت جاری کردی ہیں۔ سابق وزراءاور کمیٹیوں کے سربراہوں سے گاڑیاں واپس کرنے اور سرکاری واجبات ادا کرنے کے لئے کہا گیا، حکم ہے کہ اگر خود واپس نہ کریں تو پولیس کے ذریعے عمل کرایا جائے۔ الیکشن کمیشن نے صدر، گورنر اور نگران حضرات پر پابندی عائد کی کہ وہ الیکشن کے دوران کسی حلقہ نیابت میں نہیں جاسکتے مطلب یہ کہ وہ غیر جانبدار رہیں، جبکہ تقرر اور تبادلے بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔

پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کا فیصلہ ہوتے ہی وفاق اور چاروں صوبوں میں نگران حکومتوں کے قیام کا مسئلہ حل ہو گیا، اب نگران وزارت سازی کا مرحلہ ہے جو اگلے ہفتے کے دوران مکمل ہو جائے گا اور ان حضرات کو انتخابی ماحول کی طرف توجہ دینا پڑے گی کیونکہ کوئٹہ اور کراچی میں امن و امان کی حالت خراب ہے، خیبر پختون خوا میں دھماکے ہو رہے ہیں، اس پر اب پاکستان کے دو قومی حساس اداروں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی نے رپورٹ دی اور خدشات ظاہر کئے ہیں کہ خیبر پختون خوا ،باجوڑ، خیبر ایجنسیوں اور سوات میں دہشت گردی بڑھ سکتی ہے کیونکہ تحریک طالبان پاکستان کی افغان حکومت سے مفاہمت ہو گئی ہے، اس کی وجہ سے سرحد پار سے مداخلت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

جہاں تک ملک کے اندر ماحول کا مسئلہ ہے تو نگران حکومتوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ انتخابی جلسوں اور امیدواروں کی حفاظت کا ہے۔تحریک طالبان کی اس دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پیپلزپارٹی ،اے این پی اور متحدہ قومی موومنٹ اس کے ہدف ہیں، اب اگر یہ جماعتیں انتخابی مہم چلاتی ہیں تو ان کو حفاظت کا مسئلہ درپیش ہوگا، اگرچہ یہ اپنے طور پر اس کا انتظام کریں گی لیکن وہ ناکافی ہوں گے اس لئے نگران حکومتوں کے سامنے بڑا چیلنج تخریب کاری کو بروقت روکنا اور انتخابی مہم کے لئے پرامن اور ساز گار ماحول فراہم کرنا ہے، تبھی انتخابات شفاف کہلا سکیں گے۔ موجودہ صورتحال میں تو ان تینوں جماعتوں کے لئے جلسے کرنا مشکل ترین مرحلہ ہو گا۔

آج مارچ کی 28 تاریخ ہے اور یوں کاغذات نامزدگی داخل کرانے کے لئے صرف ایک دن رہ گیا ہے،ابھی تو سیاسی جماعتیں پوری طرح ٹکٹیں تقسیم نہیں کر پائیں، گزشتہ شام اہم سیاسی جماعتوں نے ٹکٹوں کے لئے درخواست دینے والوں کو ترجیحاً ایک سے تین تک قرار دے کر کاغذات داخل کرانے کی ہدایت کردی ہے جن حلقوں کے بارے میں فیصلہ نہیں ہوا ہو گا کاغذات نامزدگی کی واپسی سے پہلے کر لیا جائے گا اور ٹکٹ کے ساتھ انتخابی نشان کے لئے جماعتی سرٹیفکیٹ بھی دے دیا جائے گا۔

اس وقت مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سمیت خواہش مند تو ہیں مگر فیصلوں میں مشکل ہے جبکہ یہ خیال رکھنا کہ کوئی نااہل نہ ہو جائے ضروری ہو چکا ہے تحریک انصاف نے ایک ایک حلقے سے تین، تین امیدواروں کو کاغذات جمع کرانے کے لئے کہا ہے۔ کل کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ کتنے امیدوار میدان میں ہیں اور ان میں سے کن، کن کو ٹکٹ مل چکا یا ملنے کا امکان ہے۔ بہرحال جانچ پڑتال کا عمل بہت سخت ہو گا اور بہت سے امیدوار اس زد میں آئیں گے ۔ عدالت عظمیٰ اور الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے لئے پر عزم ہیں نگران وزیراعظم اور وزراءاعلیٰ نے بھی ملکی مسائل کا حل شفاف انتخابات ہی کو قرار دیا ہے۔

مزید : تجزیہ