شرم جن کو مگر نہیں آتی

شرم جن کو مگر نہیں آتی
 شرم جن کو مگر نہیں آتی
کیپشن: taraq mateen

  

بے شرمی کی انتہا ننگا پن نہیں رہی ۔ آج کی تاریخ میں اس کا نام حکومت ہے ۔ تھر میں موت دو سو کا ہندسہ پھلانگنے کو تیار ہے اور صوبے سے لے کر وفاق تک ایک بیان بازی کا کھیل جاری ہے ۔ یہ کھیل لاہورمیں اندرون یا گودھرا کراچی میں کسی ٹپیکل بی بی کے انداز میں ہورہا ہے ۔جو اپنے گھر کا تماشہ پورے محلے کے سامنے لاتی ہے پھر اس تماشے میں نہ اپنی عزت نہ سامنے والی کی اور گھر کا مسئلہ جوں کا توں ۔

ہر نیا دن تھر میں ہلاکتیں اوسطا آدھا درجن آگے بڑھا رہا ہے ۔ اسپتال تھر میں بچوں میں ہونے والی بیماریوں اور ڈاکٹرز کی کمی کا اعلان کررہے ہیں اور ٹی وی چینلز سیاستدانوںمیں بہرے اور اندھے پن کی بیماری کااعلان کررہے ہیں ۔ ایک طرف صومالیہ اور نائیجیریا سے بد تر ڈھانچہ نما انسانی پنجر زندگی کے نام پر ہماری مجموعی موت کا اعلان کرتے ہیں اور دوسری طرف تازہ ترین اور اہم ترین خبر آتی ہے کہ متحدہ اور پی پی میں قربتیں بڑھنے لگیں ۔ ایک طرف سوکھی چھاتیوں اور گیلی آنکھوں کے ساتھ مائیں اپنے بچوں کو بے بسی سے دیکھتی ٹی وی پر پوری قوم کو نظر آرہی ہیں اور دوسری طرف سائیں اور بھائی کے دل ایک دوسرے کے لئے دھڑک رہے ہیں ۔

ایک طرف سندھ حکومت وفاق کے اعلان کردہ ایک ارب روپے کی فراہمی میں تاخیر کو رو رہی ہے تھر پر وفاق کے بیان کو سازش قرار دے رہی ہے تو دوسری طرف وفاق اور پنجاب سندھ کو متنبہ کررہے ہیں کہ چولستان کا موازنہ تھر سے مت کرنا ۔ایک طرف تھر کے شروعاتی علاقوں میں امداد کا فوٹوسیشن ہوا ہے تو دوسری طرف نقل مکانی کی تصویریں اس فوٹو سیشن کے کپڑے اتار رہی ہیں۔

ایک طرف تھر ہے جس میں اس بار کی پہلی موت کے تین ہفتے بیت گئے اور اس کے بعد وزیر اعلی حرکت میں آئے اور کچھ کرتے کرتے مہینہ گزار بیٹھے اور ایک جانب امین فہیم ہے جس نے ایک بار ناراضی کا اظہار کیا تو قائم علی شاہ دوڑے دوڑے ان کے گھر پہنچے ۔ گلے ملے گئے اور گلے شکوے چلے گئے ایک طرف یہ پتہ چلا کہ معصوم بچوں کی موت کا نوٹس ہفتوں بعد تو دوسری طرف یہ پتہ چلا کہ مخدوم بچوں کی ناراضی کا نوٹس صرف گھنٹوں بعد ۔ ایک طرف محروم تھر ہے اور دوسری طرف مجھے قائم علی شاہ کی دوہزار تیرہ دو ہزار چودہ کی بجٹ تقریر یاد آرہی ہے ۔

اس تقریر میں قائم علی شاہ نے ان گنت وعدے پڑھے تھے اور سینکڑوں وعدے اور دعوے پڑھتے ہوئے فرمان سائیں تھا کہ سات چیزیں بہت اہم ہیں :

1۔ہماری پہلی ترجیح تحفظ کی فراہمی اور امن عامہ کی بہتری ہے اور اس کے لئے ہم انویسٹ کریں گے ۔

2۔روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور غربت کے خاتمے کے اقدامات کرنا ۔

3۔بہتر تعلیم کی فراہمی پر خرچ کرنا ۔

4۔صحت کے شعبے پر خرچ کرنا ، خاص طور پر غریبوں کے لئے ۔

5۔توانائی کے شعبے پر خرچ کرنا ۔

6۔زرعی ترقی پر خرچ کرنا ۔

ساتواں وعدہ کراچی سے متعلق پڑھا گیا ،اس لئے اس کا ذکر یہاں نہیں کیا جارہا، لیکن ان چھ وعدوں میں سے ایک پر بھی عمل ہوتا تو صورت حال یہ نہ ہوتی ۔

ان وعدوں کو یاد کرتا ہوں اور سندھ کی حالت دیکھتا ہوں تو سوچنا پڑتا ہے کہ قائم علی شاہ واقعی اس پتھر کے دور کے انسان ہیں، جس کا انہیں ٹی وی کے مزاحیہ پروگرامز میں قرار دیا جاتا ہے، بلکہ وہ پتھر کے دور کے نہیں پتھر کے انسان ہیں ۔ پتھر کا انسان قائم علی شاہ نے خود کو ثابت کیا جب بزرگان سیاست کے بزرگ نے نہ اپنی سیاسی ساکھ کا خیال کیا ، نہ اپنے منصب کا اور نہ ہی اپنی عمر کا ۔سندھ اسمبلی کے اس ایوان میں جس میں انہیں بھیجنے کی غلطی عوام نے اپنے ووٹ سے کی ہے ۔ قائم علی شاہ نے کسی ہلاکو خان کا وارث ثابت ہوتے ہوئے یہ کہا کہ تھر کے بچے بھوک سے نہیں نمونیا سے مرے ہیں۔ ان کی مائیں غذا کی کمی کا شکار ہوتی ہیں اور ایسی ماو¿ں کے بطن سے جنم لینے والے بچے دم توڑ دیتے ہیں۔

قائم علی شاہ نے جس بے دردی کے ساتھ ان بچوں کے تھری جھونپڑوں میں جنم لینے اور دائیوں کے ہاتھوں یہ عمل انجام پانے کی روداد سنائی ۔ اس نے بتادیا کہ شاہ صاحب میں اتنی ہی شرم ہے جتنی پتھر کے دور میں پتے باندھنے والے انسانوں میں ہوا کرتی تھی ، لیکن بے شرمی کا یہ خطاب اپنی انتہا کو پہنچا جب انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ مرنے والے ہر بچے کے بدلے اس کے خاندان کو دو لاکھ حکومت دے گی اور حکومت ایسا کررہی ہے حالانکہ یہ بچے بھوک سے نہیں مرے، غفلت سے نہیں مرے ، اسپتال نہ ہونے سے نہیں مرے ۔پھر بھی یہ پیسے حکومت دے رہی ہے اور ان غریب خاندانوں کو دے رہی ہے کہ جنہوں نے دولاکھ روپے ایک ساتھ دیکھے بھی نہیں ۔ دولاکھ ایک ساتھ دیکھے بھی نہیں یہ الفاظ کسی بم کی طرح ایوان کو بھک سے اڑا دینے کے لئے کافی ہونے چاہیے تھے ۔

عوام کے ٹیکس پر چلنے والے وزیراعلی ہاو¿س میں بسنے والے قائم علی شاہ عوام کی تحقیر کررہے تھے ، جس طرح اپنے ووٹرز کے چہرے پر دولاکھ کا جوتا مار رہے تھے۔ مجھے توقع تھی کہ اب ایم کیو ایم یا کسی اور جماعت سے کوئی شخص عوام کے نمک کا حق ادا کرے گا ، مگر ایک سو سڑسٹھ کے ایوان میں سے کسی نے عوام کے نمک کا حق ادا نہیں کیا،کیونکہ ان میں شاید یہ حیا موجود تھی کہ ایوان میں امریکی قونصل جنرل بطور مہمان موجود تھے، مگر یہ حیا قائم علی شاہ میں موجود نہیں تھی اور نہ ہی ان میں یہ شعور موجود تھا کہ سندھ کا خزانہ عوام کا ہے سید رمضان علی شاہ کا نہیں جسے عوام کو دینا وہ احسان عظیم تصور کررہے تھے ۔

 گزشتہ کچھ برسوں سے مجھے ہر سال ستائیس دسمبر کی کوریج کے لئے لاڑکانہ جانا پڑتا ہے۔ اس بار بھی یہی دیکھا کہ کراچی سے لاڑکانہ تک گڑھوں کے درمیان کہیں کہیں سڑک بھی آجاتی ہے، لیکن لاڑکانہ سے گڑھی خدا بخش تک ، لاڑکانہ سے نوڈیرو میں بھٹو ہاو¿س تک ، سکھر سے ان علاقوں کو اور ان علاقوں سے موہنجودڑو ائر پورٹ تک صاف ستھری ، چمکتی سڑک موجود ہے، تاکہ سپرمین ان سڑکوں پر سپر پاور کی طرح گزرے۔برسی اور سال گرہ پر حاضری دینے والے اپنی کروڑ کی فور بائے فور میں جھٹکے لگے بغیر سفر کریں۔

سندھ فیسٹول کے نام پر کروڑوں روپے لٹانے والی حکومت نے پیسہ غریب شہریوں کے بجٹ سے ہی نکالا، مگر وہ وزیر اعلی ہاو¿س جس کا خرچہ بجٹ دوہزار تیرہ دو ہزار چودہ میں ساڑھے آٹھ لاکھ روپے یومیہ طے ہوا (سال کے اختتام پر یہ زیادہ ہی ہوچکا ہوگا ) اپنے اللے تللے کم کرنے پر تیار نہ ہوا۔ تھر کا مسئلہ مارچ کے آغاز میں ہی بہت بڑا ہوچکا تھا اب تک تو ہمیں اس کے حل کے بعد آیندہ کی روک تھام تک آجانا چاہیے تھا ، مگر آنے والے سالوں کی پلاننگ تو دور ہم نے تو حالیہ مسئلے کا بھی عشر عشیر حل نہیںکیا ۔ سندھ حکومت اگر کچھ کرنے کی بجائے وفاق کے ایک ارب روپے کو روتی رہی تو اس کی اپنی دو دو کوڑی کی ہوتی رہے گی۔

وزیر اطلاعات سندھ کے بیانات میں قائم علی شاہ نے تھر کے چھ دورے کیے اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی مسلسل علاقے میں موجود ہیں اور ریلیف کاکام ہورہا ہے، مگر زمینی صورت حال بتاتی ہے کہ تھر میں ریلیف اتنا ہی ہے جتنا سندھ فیسٹول میں سندھ کا کلچر تھا۔

اگر ریلیف یا خدمت کا معیار دیکھنا ہو توہمیں حضرت عمر فاروق ؓ کی مثال نظر آتی ہے جن کے فرمان کے مطابق دریا کنارے کتے کی بھوک روز آخرت دامن پکڑ لے گی ، مگر آج بھلا ہو تھر کے معصوم مرحومین کا جنہوں نے خود کفن اوڑھ لیا ،مگر حکمرانوں کو بے لباس کردیا ہے۔  ٪

مزید :

کالم -