کالم نگاری اور سنگساری

کالم نگاری اور سنگساری
کالم نگاری اور سنگساری

  


آپ کی ساڑھے سولہ سوکے لگ بھگ الفاظ پر مشتمل تحریر کا مطالعہ کیا۔ قابل ستائش بات یہ کہ آپ نے علمائے کرام کے سامنے یہ معاملہ رکھا، ورنہ بعض لوگ تومستفتی بھی خود اورمفتی بھی خود۔ ایک قلم کاراپنے آپ کو شاید اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی بھاری تصور کرتے ہیں۔ ایک سیاسی فنکار مختصر ملبوسات میں مخلوط میراتھن کو طواف بیت اللہ سے تشبیہ دیتے تھے۔ ایک سپہ سالار نے ” قوم کو ٹنڈا کردوں“ کا متعفن جملہ اگلا تھا۔ خیرچھوڑیں، طالب علم نے جواب پیش کرنے کی جسارت کی ہے،آپ نظر التفات فرمائیے۔

جناب ! آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کا تذکرہ فرمایا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نے ایک مرتکب زنا خاتون کی سنگساری کو روک ڈالا۔ پھر چند سطروں بعد آپ لکھتے ہیں : ” ہم پورے یقین سے نہیں کہہ سکتے ،حضرت عیسیٰ (علیہ السلام ) نے زنا کاروں کے ساتھ کیا سلوک کیا “؟ جب آپ کو یقین نہیں، تو پھر اس سارے قصے کی حیثیت تو مشکوک ٹھہری۔ 1۔مسلمان علماء سے آپ ناسخ و منسوخ سے متعلق استفسار فرما رہے ہیں، لیکن عیسائیت کا زنا کے حوالے سے آخری حکم بیان نہیں فرما رہے؟ واضح کیجئے کہ عیسائیت میں کنوارے اور شادی شدہ مرتکب زنا کی سزاکیا ہے؟ 2 ۔خاتون کے حوالے سے عیسائی مورخین کا اختلاف بھی قابل توجہ ہے اور جہاں تک ”ڈوانچی کوڈ“کا تعلق ہے تو یہ صرف ہائپاتھسس (فرضیہ) ہے،اور فرضیہ کی بنیاد پر کہانی تو گھڑی جا سکتی ہے، لیکن حقیقت کھڑی نہیں کی جا سکتی؟ 3 ۔کیا اولڈ ٹیسٹمینٹ بھی نیوٹیسٹمینٹ کے ساتھ عیسائیوں کے لئے قابل عمل ہے؟ 4۔کیا امت محمدی کے لئے عیسوی شریعت کے احکامات آج لائق اتباع ہیں؟

اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ کیا مسلمانوں نے مدینہ آمد پر”مقامی قوانین کو محدود وقت کے لئے قبول کر لیا“؟ صحیح مسلم کی ایک حدیث کے مطابق مدینہ میں یہود نے رجم کی سزا کو موقوف کر کے منہ کالا کرنے اور کوڑوں کی سزا کو نافذ کر رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایک مرتکب زنا یہودی کو سنگسار کیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ!مَیں سب سے پہلے تیرے اس حکم کو زندہ کرتا ہوں، جس کو انہوں نے ختم کر دیا تھا“۔ گویا”مقامی قوانین کو قبول کرنے کی مضبوط چھت “ تو ڈھے گئی۔ غامدیہ کے قصے سے آپ وہ مکھن نکالنا چاہ رہے ہیں جو اس میں پایا نہیں جاتا۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کوحالت حمل میں رجم کر دیتے اور معصوم بچے کی جان بھی لے لیتے؟ رہی یہ بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو افراد کو رجم کی سزا دی، یہ دعویٰ بھی درست نہیں۔ ایک یہودی کا واقعہ اوپر بیان کردیا گیا۔ اس کے علاوہ کتب احادیث میں مزید دوتین واقعات تو معمولی سی کدوکاوش کے ساتھ دستیاب ہیں۔ سنن ترمذی اور سنن ابو داو¿د کا مطالعہ فرمائیے، لیکن ذرا یہ بتلائیے کہ کیا سنگساری کاایک واقعہ بطوردلیل کافی نہیں ؟ کیا ایک آیت یا ایک حدیث آپ کے نزدیک قابل حجت نہیں ؟

اب ان سوالات کا ذکر کرتے ہیں جوکالم نگارنے علماء کے سامنے پیش کئے ہیں۔ پہلا سوال: کیا قرآن مجید میں کسی جگہ زنا کاروں کو سنگسار کرنے کا حکم صادر کیا؟ جواب: اگرکالم نگار قرآن مجید کی مستند اورمعروف تفاسیر سے طبری، قرطبی اورابن کثیرکسی پرنظر انتخاب جماتے اور سورة النور کی متعلقہ آیت کی تفسیردیکھ لیتے تو شاید اکثر سوالات جنم ہی نہ لیتے۔ آتے ہیں جواب کی طرف، قرآن کریم میں سنگسار کرنے کا حکم موجود نہیں۔ کالم نگار سے سوال یہ ہے کہ اگر قرآن مجید میں حکم موجود نہ ہو، لیکن حدیث شریف میں حکم موجود ہو تو کیا وہ اس پر عمل کرنے کو ”صحیح“ سمجھتے ہیں ؟ اگر نہیں سمجھتے تو پھر نماز کی کیفیت و رکعات، زکوٰة کا اڑھائی فیصد نصاب، حج کے مناسک اور یوم محشر شفاعت رسول وغیرہ کتنے ہی مسائل کا انکار لازم آتا ہے۔ پھربحث کا موضوع بھی تبدیل ہو کر”سنگساری“ کی بجائے ”حجیت حدیث“ ہو جائے گا۔

دوسرا سوال سورة النور کے نزول کے وقت کے بارے میں ہے۔ پہلا جواب تو یہ ہے کہ علماء نے ذکر کیا ہے کہ رجم کا معاملہ سورة النور کے بعد ہوا ہے۔ ابن حجر نے فتح الباری میں یہی موقف اختیار کیا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ سورة النور میں زنا کی سزا اجمالاً بیان کی گئی ،جبکہ حدیث میں کنوارے اور شادی شدہ مرتکب زنا دونوں کی سزا تفصیل سے بیان کی گئی۔ بالفرض سورة النور رجم کے واقعہ کے بعد بھی نازل ہوئی ہو تب بھی کوئی تعارض نہیں۔ یہی خلفائے راشدین نے سمجھا اور اس پر عمل درآمد کروایا۔ مزید تفصیلات کے لئے کالم نگار سے مو¿دبانہ گزارش ہے کہ مترجم صحیح بخاری ،سنن ترمذی وغیرہ حاصل کریں اور متعلقہ ابواب کا مطالعہ فرمائیں۔ سیرت کے مطالعہ کے لئے کتب حدیث نہایت مفید ثابت ہوں گی، بشرطیکہ جناب کومیڈیا کی مصروفیات سے فرصت نصیب ہو۔ صحیح بخاری میں موجود ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :”الا فقد رجم رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم وقد رجمنا بعدہ“.... (خبر دار! یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا)....حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی رجم کیا۔ یاد رہے کہ پتھر مارنے والے خلیفہ کی رضا مندی سے پتھر مارتے تھے۔ حاکم وقت کی اجازت کے بغیر کام توشاید دورحاضرمیں مقبول ٹھہرا۔ سانحہ لال مسجد اور سانحہ بے نظیر بھٹو جیسے لا پتہ اور لا وارث واقعات اس دور میں جنم نہیں لیتے تھے، جن کی ذمہ داری نہ افسر قبول کرتے ہیں، نہ حاکم وقت۔

 اب آتے ہیں چار گواہوں کے معاملے کی طرف.... چار گواہوں کا ہونا”حد رجم“ کے لئے لازمی ہے۔ گواہی یقینی ہونی چاہئے۔ گواہ کے لئے شرائط وہی ہیں جو قتل اور دیگر جرائم میں ہوتی ہیں۔ مجرم کے اعتراف جرم پر بھی اسے رجم کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں تفتیش اور گواہی کا ذکربھی ملتا ہے، بالفرض نہ بھی ملتا ہو تب بھی قرآن کریم کے الفاظ گواہی کی تائید کرتے ہیں۔ مجرم کو سزا دینا یقینا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن جس ملک میں ماورائے عدالت قتل ہوتے ہوں، جس ملک میں کورٹ ٹرائل کے ساتھ میڈیا ٹرائل کا رواج ہو، جس ملک میں میگا سٹی کراچی میں ذاتی عدالتوں اور گولیوں کا راج ہو، اس ملک میں چند لوگوں نے سنگساری کی سزا دے کرکرپٹ نظام پرعدم اعتماد کا اظہار کیا ،تو اچنبھا کیا ہے؟ شکار پور میں جرگے کے ذریعے خواتین پرنافذ کی گئی موت کے بارے میں جناب کی کیا رائے ہے ؟ اس خبر کو اخبارات نے رپورٹ کیا ہے (دروغ بر گردن راوی)۔

محترم قلم کار! بیان کردہ دلائل کے مکمل حوالہ جات کے لئے آپ .... ejazhassan9@yahoo.com ....پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ جناب صاحب قلم، صاحب علم اور صاحب فہم ہیں۔ تحریر سے محسوس ہوتا ہے کہ جناب نے ایک مخصوص سوچ کو”ہائی لائٹ“ کیا اور مسلم علماء کے معروف موقف کو کمزورکرکے پیش کیا اور ”زیرو پوائنٹ“ پر لا کھڑا کیا۔ ایک خاص مکتب فکر ”حد رجم“ کا ”انکار حدیث“ کے پیش نظر قائل نہیں، موصوف نے شاید صرف ان ہی کے دلائل کوپیش نظر رکھا ہے۔ ممکن ہے مَیں نے آپ کی تحریر کے حوالے سے جومحسوس کیا وہ غلط ہو، البتہ اپنے پیش کردہ دلائل کے حوالے سے مَیں پوری طرح مطمئن ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ آپ بھی میری گزارشات کو شک بھری نہیں ،بلکہ رس بھری نظروں سے دیکھیں گے، آپ کا مخلص۔ ٭

مزید : کالم