سیر صبح اور جانوروں کے ریوڑ!

سیر صبح اور جانوروں کے ریوڑ!
سیر صبح اور جانوروں کے ریوڑ!

  


جدید دور کے تقاضے اپنی جگہ، آج مواصلات کا زمانہ ہے۔کمپیوٹر،انٹرنیٹ، موبائل اور ٹیلی ویژن نے عادات تبدیل کردی ہیں، پرانے دور والوں کو یہ سب عجیب لگتا ہے۔وہ سب بھی ان ایجادات کو تسلیم کرتے ہیں، البتہ ان سے پیدا ہونے والے منفی رجحانات پر کڑھتے اور پھر اپنے دور کو یاد کرنے لگتے ہیں، ہمارے زمانے میں شہر ہو یا دیہات، صبح جلدی ہوتی تھی۔سکول،کالج اور دفاتر کو جانے والوں کے اپنے اوقات کار متعین تھے تو تاجر حضرات بھی جلد دکانیں کھول لیتے تھے۔یہ اوقات کچھ اس طرح بن چکے ہوئے تھے کہ سکول ، کالج جانے والے طلباءو طالبات پہلے تیار ہو کر روانہ ہو جاتے، ان کے بعد دفاتر والوں کی باری آتی اور پھر تاجر حضرات اپنی اپنی مارکیٹوں کو جاتے تھے۔یہ بات شاید آج کے نوجوانوں کو عجیب لگے کہ دکانیں صبح نو سے دس بجے کے دوران کھل جاتیں اور نماز مغرب کی اذان کے ساتھ ہی بند ہو جاتی تھیں، صرف وہ دکانیں دیر تک کھلی رہتیں جو کھانے پینے سے متعلق ہوتی تھیں۔منڈیاں اور مارکیٹیں سورج غروب ہونے کے بعد بند ہوتی تھیں۔

آج کاجو دور جدید ہے اس میں بچے اور نوجوان راتوں کو جاگتے اور دن کو سوتے ہیں۔طالب علموں کی مجبوری ہوتی ہے تو وہ مکتب جانے کے خیال سے اٹھ جاتے بلکہ ان کو اٹھنا پڑتا ہے۔بزرگوں کا خیال ہے کہ دور جدید کے مواصلاتی نظام کا ناجائز استعمال ہو رہا ہے۔ٹیلی ویژن کے ڈرامے اور فلمیں تو رہیں اپنی جگہ انٹرنیٹ اور موبائل ہی سونے نہیں دیتے اور رات کو بہت دیر تک استعمال دیر سے سونے اور تاخیر سے اٹھنے کا سبب بنتا ہے جبکہ مارکیٹیں اور بازار تو دوپہر کے بعد ہی کھلنا شروع ہوتے اور رات دیر تک کھلے رہتے ہیں، ایسے میں صبح خیزی عیاشی یا مجبوری ہو کر رہ گئی ہے، چنانچہ صبح کو بیدار ہو کر سیر اور ورزش کرنے والوں میں بھی نوجوانوں کی تعداد کم ہے۔یہ بچے جم جا کر ورزش کو ترجیح دیتے ہیں، سیر صبح والوں میں بھی اکثریت ان حضرات کی ہے جن کو ڈاکٹروں نے ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ سیر ضرور کریں، ان میں سے بھی اکثر بعد ازسہ پہر ”واک“ کو ترجیح دیتے ہیں۔اس کے باوجود سیر صبح والوں کی تعداد کافی ہے جو مشہور اور بڑی پارکوں کے علاوہ علاقے کی پارکوں اور سڑکوں پر چلتے نظر آ جاتے ہیں۔

اب ذرا غور فرمایئے کہ صبح کو سیر کے لئے آنے والوں کی یہ ترجیح کیوں ہے؟ یہ اس لئے کہ صبح آکسیجن بھی ملتی اور فضا بھی صاف ہوتی ہے۔یہ حضرات نماز فجر کی ادائیگی کے بعد پارکوں اور سبزہ زاروں میں نظر آنے لگتے ہیں، قارئین! یہ موضوع اس لئے چنا کہ ایک دکھ، افسوس اور تکلیف دہ عمل کو آپ کے سامنے رکھا جائے اور شاید اسی بہانے یہ سطور متعلقین تک پہنچ جائیں یا ان کی نظر سے گزریں تو بہتوں کا بھلا ہو جائے۔سیر صبح کی وجہ عرض کی کہ آکسیجن وافر ملتی اور ماحول نسبتاً صاف ہوتا ہے، اب ذرا یہ سین بھی ملاحظہ فرمائیں کہ آپ جونہی مسجد سے باہر آکر گرین بیلٹ کی طرف آتے ہیں تو آپ کا واسطہ ستر،اسی بھیڑ بکریوں سے پڑتا ہے جو کھلے بندوں سڑکوں سے ہوتی ہوئی گھروں کی کیاریاں اور گرین بیلٹ کے پودے اور گھاس کھا رہے ہوتے ہیں اور صبح ہی صبح ان کا برنچ ہوجاتا ہے۔یہ چھوڑیئے اسی جگہ کہ یہ روز کا معمول ہے اور ایسے ریوڑ کئی ہیں جن کے ساتھ ایک فرد ہوتا ہے چاہے وہ کوئی مرد ہو یا پھر کوئی نوجوان بچی، ان کو کوئی فکر اور پریشانی نہیں ہوتی کہ ان کے ریوڑ کے یہ بھیڑ اور بکریاں ہریالی کا ستیا ناس کررہے اور سڑکوں پر گندگی پھیلا رہے ہیں۔

اس کو نظر انداز کریں تو اگلے ہی لمحے گرین بیلٹ میں ایک دو گدھے اور گھوڑوں کے ساتھ ساتھ پندرہ بیس بھینسوں کا ایک ریوڑ بھی دکھائی دیتا ہے، ان کے ساتھ کوئی محافظ نہیں ہوتا۔ضرورت بھی نہیں ہوتی کہ ان کو راستہ بھولتاہی نہیں، سیر ہو جائیں تو از خود واپس ڈیرے پر پہنچ جاتی ہیں، ایسے سین سے ہم کو ہر روز واسطہ پڑتا ہے اور ہم کڑھنے اور دل جلانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔

گزشتہ دنوں لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے وزیراعلیٰ کی ہدایات پر تجاوزات کے خلاف مہم شروع کی اور ساتھ ہی ساتھ مویشیوں کو شہر سے باہر منتقل کرنے کا بھی اعلان کیا۔بڑے بڑے اشتہار شائع کرائے گئے اور انتباہ کیا گیا کہ جو احکام کی خلاف ورزی کریں گے ان کے مویشی ضبط کر لئے جائیں گے اس کے باوجود کسی پر کوئی اثر نہیں ہوا کہ تجاوزات کے خلاف مہم تو نظر آئی، لیکن مویشیوں کی بے دخلی کا کوئی عمل دکھائی نہیں دیا اور اب تو تجاوزات کے خلاف مہم بھی ٹھنڈی ہوگئی ہے جبکہ جو تجاوزات گرائی گئی تھیں اکثر مالکان نے درستگی کرلی ہے ،لیکن بیشتر ایسے ہیں جنہوں نے پھر سے عارضی باڑھ کھڑی کرلی ہیں اور مہم ختم ہونے کے منتظر ہیں کہ پھر سے حالت پہلے جیسی ہو جائے ، اگرچہ جہاں جہاں آپریشن ہوا وہاں کافی اراضی واگزار کرائی گئی۔

یہ بہت پرانی بیماری ہے جسے دور یا درست کرنے کے لئے وزیراعلیٰ نے سخت نوٹس لیا لیکن فالواپ نہ ہونے کی وجہ سے حالات پھر سے واپسی کا سفر شروع کرنے والے ہیں کہ ماتحت عملہ کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے اور یہ خود تجاوزات کراتا ہے اور جب ہٹانے کا وقت آتا ہے تو حق نمک بھی ادا کرتا ہے اور بروقت اطلاع دینے کے علاوہ رعائت سے بھی کام لیتا ہے۔تجاوزات تو گرائی گئی ہیں، تجاوزات کے ذمہ داروں کو کسی نے نہیں پوچھا اور نہ ہی بھینسوں اور ریوڑوں کے لئے کوئی مہم شروع کی گئی ہے۔

بات ختم کرنے سے پہلے پی ایچ اے اور واسا والوں کی مہربانی کا ذکر بھی کردیں، ہماری رہائش مصطفےٰ ٹاﺅن میں ہے ۔پی ایچ اے نے اس کے مرکزی پارک کو جو کمرشل ایریا کے سامنے ہیں، اعلیٰ پارک قرار دے کر اس کی بحالی کا کام شروع کیا تھا، اس میں جم بھی بنایا گیا، ورزش کے قیمتی آلات نصب کئے گئے،شہریوں نے مستفید ہونا بھی شروع کیا پھر اچانک یہ اس لئے بند کردیا گیا کہ چوکیدار نہیں، اب تو اس بے چارے جم کی مشینوں کے کل پرزے بھی چوری ہو چکے اور یہ بند پڑا ہے جبکہ پارک کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے اس کی خصوصی حیثیت کہاں گئی؟ ابھی علم نہیں، اسی طرح مصطفےٰ ٹاﺅن کی مرکزی دو رویہ سڑکوں کے درمیان والی گرین بیلٹ میں دو مین ہول ٹوٹے پڑے ہیں، سیوریج کا پانی نکاسی کے پائپوں کے ذریعے خارج ہونے کی بجائے اس گرین بیلٹ میں جمع ہوتا رہتا ہے اور باقاعدہ ایک گندے جوہڑ کا منظر پیش کرتا ہے نہ تو واسا والے اپنے نقص کو دور کرتے ہیں اور نہ ہی پی ایچ اے والوں کو علاقے کے مکینوں پر رحم آتا ہے، نہ تو اسے درست کیا جاتا ہے نہ ہی گانے،بھینسوں، گدھوں، گھوڑوں اور بھیڑوں کے ریوڑوں کو روکنے والا کوئی ہے،نتیجہ صاف ظاہر ہے ،صبح کی سیر تکدر کا شکار ہوجاتی ہے، جبکہ اس گرین بیلت میں بار بار کی شجر کاری بھی یہی جانور ہضم کر چکے ہوئے ہیں، کیا نچلی سطح کی اس کرپشن کو روکنے کا کوئی سلسلہ ہو سکتا ہے؟ ٭

مزید : کالم