سی اینڈ ڈبلیو، اربوں روپے کی کرپشن پر مبنی بیسیوں انکوائریاں دبائے جانے کا انکشاف،لاہور

سی اینڈ ڈبلیو، اربوں روپے کی کرپشن پر مبنی بیسیوں انکوائریاں دبائے جانے کا ...
سی اینڈ ڈبلیو، اربوں روپے کی کرپشن پر مبنی بیسیوں انکوائریاں دبائے جانے کا انکشاف،لاہور

  


 لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) سی اینڈڈبلیو میں اربوں روپے کی کرپشن پر مبنی بیسیوں انکوائریاں دبا ئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات میاں مشتا ق احمدکے حکم کے باوجود انجنئیروں نے اپنےً پیٹی بھائیوںً کے خلاف دو ماہ سے زائد عرصے سے زیر التوا انکوائریاں پندرہ دنوں میں ختم کرنے نہیں کیں۔باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صوبائی محکمہ مواصلات وتعمیرات میں انکوائری افسروں نے مبینہ طورپر اربوں روپے کی کرپشن پر مبنی بیسیوں انکوائریاں دانستاًسردخانے میں ڈال دی ہیں۔ یہ انکوائریاں سٹرکوں اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر مرمت کے دوران کی جانے والی بدعنوانیوں پر مشتمل ہیں۔ ذرائع کے مطابق سی اینڈڈبلیو کے انجنئیر ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے سرکاری منصوبہ جات میں ایک طرف ناقص تعمیراتی مٹیریل سی کلاس(سوئم ) اینٹیں ، انڈر گریڈ سریا، سی کلاس سیمنٹ استعمال کرتے ہیں جس سے تعمیر ہونے والی سرکاری عمارتوں کی عمر اصل سے نصف رہ جاتی ہے۔سٹرکوں کی تعمیر کے دوران بیس اور سب بیس پر انتہائی کم توجہ دی جاتی ہے۔ لک (BITUMEN) کی مقدار کم رکھی جاتی ہے۔ جس سے سٹرکیں جلد ہی ادھڑ جاتی ہیں۔ دوسری طرف ان منصوبوں میں تاخیر کا سبب پیدا کرکے ٹھیکیداروں کو پرائس ایسکیلیشن فارمولے کے تحت اضافی ادائیگیاں کرتے ہیں۔اسی طرح انجنئیر غیر قانونی طورپر مختلف منصوبہ جات میں ٹھیکیداروں کو ایڈوانس ادائیگیاں کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق سی اینڈڈبلیوکے انجنئیر وں کو ہی دیگر اور جونئیر انجنئیروں کو انکوائری افسر مقرر کیا جاتا ہے۔ان میں اکثر الزام علیہہ انجنئیر ماضی میں انکوائری افسروں کے ماتحت انجنئیر کے طورپر کام کرچکے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انکوائری افسر الزام علیہان کے خلاف نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اور انکوائریاں بروقت مکمل کرنے کی بجائے سرد خانے میں ڈال دیتیہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اکثر انکوائری افسر اپنے ہی محکمے کے انجنئیروں کے حق میں انکوائری رپورٹ لکھنے یالٹکانے کے عوض بھاری رشوت بھی لیتے ہیں۔ صوبائی سیکرٹر مواصلا ت وتعمیرات میاں مشتاق احمد نے دسمبر میں اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث انجنئیروں کی انکوائریاں دبائے جانے کی شکایات سامنے آنے پر صوبے بھر سے تمام انکوائری افسروں کو اپنے دفتر میں طلب کرکے ان کی سرزنش کی تھی ۔ اور انہیں ہدایات جاری کیں کہ ایسی تمام انکوائریاں جودو ماہ سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں۔انہیں پندرہ یوم کے اندر نمٹا یا جائے۔لیکن صوبائی سیکرٹری کے حکم کے باوجود انجنئیروں نے اپنےً پیٹی بھائیوںً کے خلاف دو ماہ سے زائد عرصے سے زیر التوا انکوائریاں پندرہ دنوں میں ختم کرنے نہیں کیں۔اور بیسیوں انکوائریاں زیر التوا ہیں۔

مزید : جرم و انصاف