ایرانی گارڈ کی لاش پاکستانی حدود سے نہیں ملی:دفتر خارجہ

ایرانی گارڈ کی لاش پاکستانی حدود سے نہیں ملی:دفتر خارجہ
ایرانی گارڈ کی لاش پاکستانی حدود سے نہیں ملی:دفتر خارجہ

  


 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ ایرانی سرحدی گارڈ کی لاش پاکستانی حدود سے نہیں ملی ٗ ایران سے تعلقات خراب ہونے کا تاثر درست نہیں ٗ القاعدہ کے جنگجو پاکستان سے شام جانے کی رپورٹ مضحکہ خیز ہے ٗ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر پاک بھارت تعلقات معمول پر نہیں آسکتے ٗ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پرچم لہرانے کی پابندی نامناسب ہے تاہم اس کا اطلاق پاکستانی شائقین کیلئے نہیں ہے ۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہاکہ لیبیا نے17 مارچ کو ایک کشتی پکڑی تھی جس کا کپتان پاکستانی تھا اور عملے کے 5 ارکان بھی پاکستانی تھے ۔ لیبیا کے حکام نے انہیں کلیئر کردیا ہے اور وہ پہلی پرواز سے آج کل پاکستان پہنچ جائیں گے ، یہ کشتی غیر قانونی تیل سمگلنگ میں ملوث پائی گئی ۔ انہوں نے پاکستانی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صرف قانونی انٹرنیشنل کمپنیوں میں روزگار تلاش کریں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ نیوکلیئر سپلائر گروپ سے ہمارے پرانے رابطے ہیں ہمیں سول ایٹمی ٹیکنالوجی درکار ہے تاکہ ہم توانائی بحران سے نمٹ سکیں اور زراعت کو ترقی دے سکیں ۔ وزیراعظم نے ہیگ میں ایٹمی سکیورٹی کانفرنس میں پاکستان کا موقف بھرپورانداز میں پیش کیا ہے ہم نیوکلیئر سپلائر گروپ کے ممبر بننے کے مکمل اہل ہیں عالمی برادری کو غیر امتیازی سلوک ختم کرنا ہوگا امید ہے ہمیں نیوکلیئر سپلائر گروپ کی ممبرشپ مل جائے گی ۔ عالمی برادری نے ہمیں ذمہ دار ایٹمی ملک تسلیم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی سرحدی گارڈز کو ایرانی صوبے سیستان سے اغواء کیا گیا تھا ہم نے تحقیقات میں معاونت کی ہے جیش الاحد نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ انہیں پاکستان کی طرف لایاگیا ہم ایرانی سرحدی گارڈ کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہیں ہمیں ان کے اہل خانہ سے ہمدردی ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ یہ رپورٹ غلط ہے کہ القاعدہ کے جنگجو پاکستان سے شام جارہے ہیں اور نہ امریکہ نے ہمیں ایسی کوئی اطلاع دی ہے ۔نریندر مودی کے الزامات پر انہوں نے کہا کہ ان الزامات کی کوئی حقیقت نہیں ہے بھارت میں الیکشن آرہے ہیں اس لئے ایسی بیان بازی ہوتی رہے گی کیونکہ پاکستان کو وہ الیکشن ایشو بناتے ہیں ۔ جواد ظریف کے بیان پر ترجمان نے کہا کہ سرحدی مینجمنٹ پر پاک ایران رابطہ برقرار ہے ایرانی صدر نے وزیراعظم نواز شریف سے فون پر بات کی ہے ہمارا رویہ معذرت خواہانہ نہیں ہے ، ایران سے اچھے تعلقات جاری رہیں گے تعلقات خراب ہونے کا تاثر درست نہیں پاک ایران سرحدی تجارت معمول کے مطابق جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر دوطرفہ مذاکرات سے حل کرنا چاہیے نواز شریف کے بیان کا مدعا یہ ہے کہ اگر بھارت گریزاں ہے تو ثالثی کرائی جاسکتی ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ امریکی ایوان کی ایک کمیٹی نے پاکستان کی دس ملین ڈالر امداد کی کٹوتی کی ہے تاہم ابھی اس کی سینیٹ نے حتمی منظوری نہیں دی ہے ۔

مزید : قومی