انڈونیشیا کی دنیا کا قدیم ترین پیشہ بند کرنے کی کوشش

انڈونیشیا کی دنیا کا قدیم ترین پیشہ بند کرنے کی کوشش
Indonesia

  


لاہور،برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) کہتے ہیں کہ وقت اور حالات میں تبدیلیوں سے کاروباربھی متاثر ہوتاہے اور پیشے سے منسلک افراد کو دوسراکام شروع کرناپڑتاہے لیکن جسم فروشی کاکاروبارتین ہزار سال پہلے بھی تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اِسے دنیا کا قدیم ترین پیشہ تصورکیاجاتاہے جو آج بھی دنیا بھرمیں بدستورجاری ہے تاہم بعض ممالک جن میں انڈونیشیا سرفہرست ہے ، پیشے کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انڈونیشیاءکے شہرسورابایاکی خاتون میئرٹرائی رسمھارنی نے غریبوں کو مفت صحت کی اور مفت تعلیم کے سہولت دینے کے ساتھ ریڈلائٹ ایریا’ڈولی‘ میں 19جون تک 60کے قریب چکلے بند کرنے کی ڈیڈلائن دے دی ہے جہاں ایک سو سے زائد جسم فروش خواتین دھندہ کرتی ہیں جبکہ گردونواح میں ایک ہزار خواتین کے کام کا دعویٰ کیاگیاہے ۔ 52 سال کی رسمھارنی نے 2010ءمیں عہدہ سنبھالا اور تین قحبہ خانوں کو بند کرانے کے علاوہ 2010ءسے 2013ءکے درمیان 650 جسم فروش خواتین کو کھانا پکانے اور ہیئر ڈریسنگ کے کام کی تربیت دلاچکی ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ کو نقد رقم بھی دی گئی ہے تاکہ وہ کسی چھوٹے موٹے کاروبار کے ذریعے نئی زندگی شروع کر سکیں۔ رسمھارنی کا کہنا ہے کہ رواں سال مزید 900 خواتین کو تربیت دی جائے گی جس سے ”وہ اپنی مرضی کی زندگی“ گزار سکیں گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس