لاہور میں ڈاکو راج، جرائم کی ہاف سنچری

لاہور میں ڈاکو راج، جرائم کی ہاف سنچری

پولیس کی دوڑیں، 15کے علاوہ سپیشل فون لائن بھی قائم

لاہور میں ڈاکو راج، جرائم کی ہاف سنچری

  


لاہور (نعیم مصطفیٰ ) صوبائی دارالحکومت میں ڈاکوﺅں کے 8 مختلف گروہوں نے لاہور پولیس کو چکرا کر رکھ دیا ہے، شہر کے طول و عرض میں روزانہ ہونے والی درجنوں وارداتوں میں شہری کروڑوں روپے کے طلائی زیورات، نقدی، گاڑیوں، سمیت دیگر قیمتی اشیاءسے محروم ہوجاتے ہیں۔ صرف جمعرات اور جمعہ کے 30گھنٹوں کے دوران 50 سے زائد وارداتیں منظر عام پر آئیں جبکہ کئی ایک ایسی بھی ہوں گی جو پولیس کے پاس رپورٹ نہیں ہوئیں یا پولیس نے دانستہ مقدمات درج کرنے سے گریز کیا۔ ان وارداتوں کے دوران شاہدرہ کے ایک نجی سکول کی پرنسپل پروفیسر عائشہ کو ڈاکوﺅں نے مزاحمت پر قتل اور دوشہریوں شیراز اور احمد کو شدید زخمی بھی کیا۔ ڈکیتی کی وارداتوں میں رواں ہفتے کے دوران ہوشربا اضافے کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام سے مقتدر حلقے ہل کر رہ گئے اور آئی جی پنجاب نے اوپر سے ملنے والی ہدایات کے بعد ان ڈاکوﺅں کے گروہوں کو قابو کرنے کے لئے پولیس کی کوئیک رسپانڈ فورس (کیو آر ایف) دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ شہری ڈکیتی کی فوری اطلاع 15 ایمرجنسی کے ساتھ ساتھ 99201905پر بھی کریں۔ اس نئی فورس کا سربراہ ایس ایس پی عمر ورک کو مقرر کیا گیا ہے، ڈاکوﺅں کا نشانہ بننے والے شہری ان سے موبائل فون نمبر 0300-4603020 پر بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کے روز ڈکیتی کی وارداتیں شاہدرہ کے ونڈالہ روڈ، جوہرٹاﺅن، مصطفیٰ آباد، مسلم ٹاﺅن، فیکرٹری ایریا، مصری شاہ، باغبانپورہ، ماڈل ٹاﺅن، علامہ اقبال ٹاﺅن، سٹی رائے ونڈ، گارڈن ٹاﺅن، شادباغ، گڑھی شاہو، اچھرہ، غالب مارکیٹ، کاہنہ، شاہدرہ ٹاﺅن، اسلام پورہ، ساندہ کلاں، وحدت کالونی اور شہر کے دیگر علاقوں میں وقوع پذیر ہوئیں۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے ڈکیتی کی درجنوں وارداتوں کے بعد اعلیٰ حکام کو مشورہ دیا کہ ڈکیتیوں کا زور اور توڑ پولیس مقابلوں کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس مشورہ کے بعد جمعرات کے روز بیدیاں اور راوی روڈ کے علاقوں میں تین مبینہ ڈاکو پولیس مقابلوں میںہلاک کردئیے گئے جن کے بارے میں مارے جانے والے افراد کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی روز سے پولیس کی حراست میں تھے اور انہیں جعلی مقابلوں میں مارا گیا ہے۔ پولیس نے عدالتی منصب بھی خود ہی سنبھال لیا ہے اور ڈکیتیوں کی روک تھام کا شارٹ کٹ طریقہ اپنانے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقابلے اصلی تھے، ڈاکوﺅں نے آمنا سامنا ہونے پر پولیس پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں خود مارے گئے۔

مزید : لاہور