رنگ روڈ کی تکمیل اور پیدل حضرات کے پُل!

رنگ روڈ کی تکمیل اور پیدل حضرات کے پُل!
رنگ روڈ کی تکمیل اور پیدل حضرات کے پُل!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بابے کہتے تھے، انگریز سوسال پہلے سوچتا ہے۔ بنیا پچاس اور سکھ بھائی بروقت سوچ لیتے ہیں یعنی جب سر پر آ جائے تو ہوش آتا ہے لیکن مسلمان مصیبت آکر چلی جانے کے بعد غور کرتا ہے۔ یہ ہم ان بابوں کا ذکر کررہے ہیں جو پچاس کی دہائی میں تھڑوں پر بیٹھ کر حقہ پیتے اور باری باری کش لگاتے ہوئے حالات حاضرہ پر بھی تبصرہ کرتے تھے ان کی تمام تر گفتگو کا محور برصغیر ہی ہوتا تاہم اس وقت کے عالمی حالات پر بھی نظر رکھتے تھے، سوچنے والی بات مختلف مسائل پیش آنے پر ہوتی اور جب بھی کوئی کام خراب ہوا نظر آتا یہی مثال دیتے۔


ہم نے کبھی غور نہیں کیا تھا لیکن جب عملی تجربہ ہوا تو یقین آ گیا کہ بابے تو ٹھیک ہی کہتے تھے، اگر آپ کو مثال کی ضرورت ہے تو براہ کرم لاہور کی رنگ روڈ ملاحظہ کرلیں اور پھر قرطبہ چوک سے مسلم ٹاؤن موڑ تک فیروزپور روڈ کا جائزہ لیں تو ہر دو ترقیاتی کاموں میں یہی ثابت ہو گا کہ ہم واقعی بعد میں سوچتے ہیں رنگ روڈ پر محمود بوٹی انٹرچینج سے ایئرپورٹ انٹرچینج تک چلے جائیں دو تین مقامات پر انڈر پاس بنتے نظر آئیں گے۔ اس سے پہلے بتی چوک سے ایئرپورٹ تک ایسا کوئی راستہ نہیں تھا جو رنگ روڈ کے دونوں اطراف کی بستیوں کو آپس میں ملانے کے لئے بنایا گیا ہو یہ بستیاں ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گئی ہیں اور واحد راستہ یہ تھا کہ سروس روڈ (جہاں ہے) سے ہوتے ہوئے کسی انٹرچینج پر آئیں اور پھر وہاں سے دوسری طرف جا کر اس طرف کی سروس روڈ کے ذریعے اپنے راستے پر آ جائیں دیر بعد خیال آیا تو پہلے شاد باغ کے لئے ایک انڈر پاس بنایا جو ڈیزائن اور نقشے کے لحاظ سے بہت کمزور ہے بلکہ عارضی راستہ محسوس ہوتا ہے لیکن اب اس کے بعد ایئرپورٹ تک دو تین انڈر پاس بنائے جا رہے ہیں۔


اسی رنگ روڈ کے حوالے سے یہ بھی پڑھ لیں بلکہ اکثر قارئین کو تو واسطہ بھی پڑتا ہے کہ دریا راوی کے پل سے پہلے بتی والے چوک کے قریب تک تو رنگ روڈ ہی ہے لیکن اس کے بعد بابو صابو انٹرچینج تک وہی بند روڈ ہے، یہاں کام شروع کرکے ادھورا چھوڑ دیا گیا اور اب یہ کب مکمل ہوگا کسی کو علم نہیں یوں بھی رنگ روڈ کے ڈیزائن اتنی مرتبہ تبدیل ہوئے ہیں کہ اصل ڈیزائن کہاں ہے کسی کو علم نہیں البتہ لاگت بڑھتی رہتی ہے۔ اب یہ خبر ہے کہ رنگ روڈ کے جنوبی حصے کو مکمل کرنے کا حتمی فیصلہ ہو گیا اور ایئرپورٹ سے لاہور بائی پاس(ملتان روڈ) تک 30کلومیٹر سڑک بنے گی جس پر لاگت کا تخمینہ 50ارب روپے ہے لاہور ہائی پاس بابو صابو انٹرچینج پر موٹروے اور بند روڈ سے ملتا ہے۔ معلوم نہیں کہ اس منصوبے میں بند روڈ کا باقی ٹکڑا بھی رنگ روڈ میں تبدیل کرنے کی گنجائش ہے یا یہ پہلے ہی کی طرح رہے گا اور پھر کسے معلوم کہ اس میں بھی آبادیوں کو جدا کرکے ملانے کے لئے انڈر پاس بنیں گے یا نہیں۔ دیکھیں منصوبے کا آغاز ہو گا تو پتہ چلے گا بہتر تو ہے کہ خود رنگ روڈ کی تعمیر کی ذمہ دار اتھارٹی ہی مکمل تفصیل سے عوام کو آگاہ کر دے تاکہ جو بھی اعتراضات ہونا ہیں وہ سڑک کی تعمیر سے پہلے پہلے ہو جائیں، بعد میں تو مسلمانوں والی سوچ ہوگی۔


بابوں کے کہے کو سچ کرنے کے لئے ہمارے محکمے ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ایسا گلبرگ کی مرکزی سڑک کی تعمیر نو پر بھی کیا گیا۔ پیدل گزرنے والوں کے لئے کوئی سہولت مہیا نہیں کی گئی تھی۔ جیل روڈ سے لبرٹی تک درمیان میں دو اشارے ہیں ان سے ہی گزر ہوتی تھی کہ چند لوگ سڑک پار کر لیتے تھے تاہم زیادہ بوجھ حفیظ سنٹر لاہور اور پیس سے سڑک پار کرنے پر تھا۔ یہاں بھی لوگ تیز چلتی ٹریفک ہی میں سڑک پارکرتے دکھائی دیتے ہیں۔یہاں حادثے بھی ہو چکے بہرحال بعد از خرابی بسیار اب تو حفیظ سنٹر اور پیس کے درمیان سے ایک اوورہیڈ پل بنا دیا گیا ہے جو پیدل سڑک پار کرنے والوں کی سہولت کے لئے بنایا گیا ہے اور لوگ استعمال بھی کر رہے ہیں۔

فیروز پور روڈ کا منظربھی اسی نوعیت کا ہے، اسے سگنل فری کرتے وقت یہ دھیان ہی نہ رکھا گیا کہ لوگ پیدل بھی چلتے ہیں اور ان کو سڑک پار کرنا ہوتی ہے، چنانچہ قرطبہ چوک سے مسلم ٹاؤن موڑ تک یہی نظارہ نظر آتا ہے کہ سڑک پار کرنے والے تیز رفتار ٹریفک کے باوجود گاڑی والوں کو ہاتھ سے روکتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے خود کئی کالم لکھے اور وزیراعلیٰ کی توجہ دلائی۔ تو اب جا کر سنی گئی ہے۔ تین چار مقامات پر پیدل چلنے والوں کے لئے اوورہیڈ برج بنائے جا رہے ہیں یوں یہاں بھی بعد میں سوچنے والی مثال لاگو ہوتی ہے۔اب جیل روڈ اور گلبرگ مین بلیوارڈ کو قرطبہ چوک سے لبرٹی گول چکر تک سگنل فری منصوبہ زیر تکمیل ہے۔ پیدل والوں کے لئے پھر گنجائش نہیں، ابھی سے کریں تو بہتر ہوگا۔ *

مزید :

کالم -