امریکہ :اسرائیل کشیدہ تعلقات

امریکہ :اسرائیل کشیدہ تعلقات
امریکہ :اسرائیل کشیدہ تعلقات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یا ہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی جیت کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں اس وقت جو کشیدگی دیکھنے میں آرہی ہے اس کی مثال حالیہ عشروں میں نہیں ملتی۔ایران کے ساتھ جوہری معا ہدے پر امریکہ کے مذاکرات امریکہ اور اسرائیل کے ما بین حا لیہ کشیدگی کی سب سے اہم وجہ بنے۔اوباما انتظا میہ کی ایران کے ساتھ مذاکرات کی پا لیسی کے خلاف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یا ہو کا امریکی کا نگرس سے خطا ب اور اس خطا ب میں اوما با پر بھر پور تنقید نے اوباما اور نیتن یا ہو کے ما بین تعلقات خراب کرنے میں جلتی پر تیل کا کا م کیا۔ 3مارچ کو جب نیتن یا ہو نے امریکی کانگرس سے خطاب کیا تو اس وقت اسرائیلی انتخا بات کے انعقاد میں صرف دوہفتوں کا وقت رہ گیا تھا۔ امریکی میڈیا کے بڑے حصے حتی ٰکہ مشرق وسطیٰ اور اسرا ئیلی امور پر کا م کر نے والے کئی تھنک ٹینکس اسرائیلی انتخا بات پر یہ پیش گوئی کر رہے تھے کہ ان انتخا با ت میں نیتن یا ہو کی لیکو ڈ پا رٹی اور اس کے اتحا دی حکو مت سازی کے لئے مطلو بہ اکثر یت حاصل نہیں کر پا ئیں گے۔حتی ٰکہ خود اسرائیل میں ہو نے والے ایگز ٹ پو لز بھی یہ تا ثر دے رہے تھے کہ ان انتخابات میں لیکوڈ اور نیتن یا ہو مخالف بڑی سیاسی جماعت زائنسٹ اتحاد میں سے کوئی بھی جماعت اکثریت حا صل کرنے کی پو زیشن میں نہیں ہو گی، مگر 17مارچ کو ہو نے والے انتخا با ت میں لیکوڈ پا رٹی اور اس کے اتحا دی مطلوبہ اکثریت حا صل کرنے میں کا میاب ہو گئے۔120رکنی کنیسٹ(اسرائیلی پا رلیمنٹ) میں لیکوڈ پارٹی کو 30 نشستیں، جبکہ اس کی اتحادی جما عتوں میں جیوئش ہوم کے پاس 8،تورا جوڈازم کی 6، یسرائیل بیٹنیو کی 6،شاذ پارٹی 7 ،کولانو پارٹی کو10 نشستیں حاصل ہونے سے نیتن یا ہو کو ایک بار پھر وزیراعظم بننے کے لئے 67نشستیں حا صل ہو چکی ہیں، جبکہ اپوزیشن کا حصہ بننے والی جما عتوں میں زائنسٹ یونین 24، یش ایڈٹ 11، اور میریٹز 4جبکہ متحدہ عرب لسٹ 14 نشستیں حاصل کر پا ئی۔یہاں پرمتحدہ عرب لسٹ کی توقع سے بھی بڑھ کر کامیا بی کا ذکر کرنا بے جانہ ہو گا۔متحدہ عرب لسٹ اسرائیل میں مو جود عربوں کی چا ر جما عتوں کا ایک اتحا د ہے، جس کے سربرا ہ ایمن اوڈے ہیں۔ اس بار اسرائیل کے انتخا با ت میں نیتن یا ہو کی عرب مخا لف پالیسیوں حتیٰ کہ واضح دشمنی کے با وجود عربوں کے اس چار جماعتی اتحاد متحدہ عرب لسٹ کا 14 نشستوں پر کامیاب ہو جانا اسرائیل کے اندر رہتے ہوئے عربوں کی ایک بڑی سیا سی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس اسرائیلی پا رلیمنٹ میں متحدہ عرب لسٹ پارٹی تیسری بڑی جماعت کے طو ر پر موجود ہو گی۔اس سے پہلے اتنی بڑی تعداد میں عرب جماعتیں کبھی اسرائیل میں اتنی بڑی کامیابی حا صل نہیں کر سکیں،جبکہ اس بار اسرا ئیل میں مقیم عربوں نے بڑی تعداد میں اپنے ووٹ کا سٹ کئے۔ تمام جا ئز وں کے مطا بق اس بار عربوں کی جا نب سے ٹرن آوٹ 60فیصد سے بھی زیا دہ رہا، جبکہ اس سے پہلے ہو نے والے انتخا با ت میں یہ ٹر ن آوٹ 53فیصد تھا۔ متحدہ عرب لسٹ نے عرب علا قوں سے 90فیصد سے بھی زائد ووٹ حا صل کئے۔


اگرچہ اسرائیلی سیا ست میں نسل پرستی یا عرب دشمنی کو ئی نیا رویہ نہیں ہے، بلکہ اسرا ئیلی ریا ست کی تشکیل میں نسل پرستی کے عامل نے ہی بنیادی کردار ادا کیا۔ اگر ایک ریا ست خود اپنے وجود کے جواز اور آئین میں اس امر کی ٹھوس انداز میں وضا حت کر دے کہ اس ریا ست کو صرف یہودیوں کے لئے ہی وجود میں لا یا جا رہا ہے تو ایسے میں اسرائیلی سیا ست میں یہود نواز اور عرب مخالف پالیسیا ں اور رویے حیر ت کا باعث نہیں، مگر اسرا ئیل کے ان حا لیہ انتخا بات میں نیتن یا ہو کا نسل پرستا نہ اور عرب مخا لفت پر مبنی رویہ اس قدر انتہا پسندانہ رہا کہ اسرائیل کے ’’ان داتا‘‘ امریکہ کو بھی پریشانی لا حق ہو گئی ہے۔اس پریشانی کا واضح اظہار امریکی صدر بارک اوباما کی جانب سے امریکی اخبار Huffington Post کو دےئے گئے ایک انٹرویو میں سامنے آیا، جس میں اوباما نے نیتن یا ہو کی جانب سے اسرائیلی انتخا بات میں انتہا پسند انہ رویہ اپنا نے پر شدید تنقید کی۔

نیتن یا ہو نے ان انتخا با ت میں دائیں با زو کے یہودی انتہا پسند انہ ووٹ حا صل کرنے کے لئے انتخا بات سے پہلے واضح انداز میں یہ اعلان کر دیا کہ جب تک وہ وزیراعظم رہے گا تب تک فلسطین کی آزاد ریا ست قائم نہیں ہو گی، یعنی دوسرے الفاظ میں دوریاستی حل (امریکہ اور مغربی دنیا بھی دو ریا ستی حل کی حما یت کرتی ہے)کے معا ہدے کو اسرا ئیل تسلیم نہیں کرے گا۔ پو لنگ کے روز نیتن یا ہو کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ ’’دائیں بازو کی حکومت (نیتن یا ہوکی اپنی حکومت) خطرے میں آگئی ہے، کیو نکہ بڑی تعداد میں عرب آبا دی ووٹنگ میں حصہ لے رہی ہے۔ انتہا پسند یہو دی بھی زیا دہ سے زیا دہ تعداد میں با ہر نکل کر دائیں با زو کی حکومت کو بچائیں‘‘۔ نیتن یا ہو کا یہ جملہ سن کر ذہن میں یہی خیا ل آ رہا ہے کہ اگر کل کو جرمنی کے انتخا بات میں پو لنگ کے روز جرمن نسل پرست جماعتیں یہ اعلان کر دیں کہ یہودی بڑی تعداد میں ووٹنگ کے لئے با ہر نکل آ ئے ہیں ،اس لئے جرمن قوم پرست بھی بڑی تعداد میں ووٹنگ کے لئے با ہر نکل کر یہودیوں کے عزائم کو نا کا م بنا دیں، تو اس اعلان سے جرمنی یا پو رے یو رپ میں کیا طوفان برپا ہو جائے گا؟


ووٹوں کے حصول کے لئے نیتن یا ہو نے اسرائیل میں پہلے سے موجود جس انتہا پسندی کو بڑھا وا دیا اب انتخابات کے بعد اس کے نتا ئج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔نیتن یا ہو کی کامیا بی کے صرف تین روز کے بعد ہی مشرقی یروشلم اور نابلوس کے علا قوں میں مسلح یہودی آبا دکا روں نے نہتے فلسطینیوں کی بستیو ں پر حملے کر کے ان کو نقصان پہنچایا ۔اسرائیل میں فلسطینیوں پر اس نو عیت کے حملے کو ئی نئی با ت نہیں، مگر ان حالیہ حملوں کے لئے مسلح اسرائیلی جتھوں کو شہہ نیتن یا ہو کے حالیہ عرب دشمن اعلانات سے ہی ملی۔

تا ریخ میں زیا دہ دور جا نے کی بجا ئے اگر صرف 1993ء کے اوسلو معا ہدے کے بعد کی صورت حا ل کو دیکھا جائے تو اس کے بعدسے 300,000یہو دیوں کو مغربی کنارے میں لا کر بسا یاگیا۔ اور 2.7ملین فلسطینیوں کو یہاں مقید کر کے رکھ دیا گیا،جبکہ غزہ کی پٹی میں بھی 1.7ملین فلسطینیوں کی مکمل طور پر معاشی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال کے موسم گرما میں 2300سے زیا دہ معصوم بچوں، عورتوں اور بوڑھے افراد کا نا حق خون بہایاگیا۔اوسلو معا ہدے میں دو ریا ستوں کے قیا م کو ہی مسئلے کا حل قرار دیا گیا تھا دو عشروں سے بھی زائد کا عرصہ گز رنے کے بعد اس معا ہد ے کے مکمل طور پر فعال نہ ہو نے میں اسرا ئیلی ہٹ دھرمی تو واضح ہے، مگر دوسری طرف اگر ہم پی ایل او فلسطینی لبریشن آر گنائزیشن کی قیادت خاص طور پر الفتح پا رٹی اور محمود عبا س کے رویے کو دیکھیں تو واضح ہو جا ئے گا کہ فلسطین کی آزادی کے لئے ماضی میں پی ایل او یا الفتح پارٹی کا جو بھی کردار رہا ہو، مگر اس حا لیہ عہد میں یہ پارٹی سامراج کا ایک دم چھلا بن چکی ہے۔ الفتح پارٹی کی لیڈر شپ پر کرپشن کے الزامات بھی اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔کرپشن کی یہ نو عیت اسلئے زیا دہ سنگین ہے، کیو نکہ الفتح پا رٹی کی لیڈر شپ نے دولت اور اثا ثوں کے لئے معصوم فلسطینیوں کے خون اور آنسووں کا سودا کیا۔


جہاں تک اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی کا تعلق ہے تو امریکہ نیتن یا ہو کی مخا لفت فلسطینیوں سے کسی بھی قسم کی ہمدردی کے با عث نہیں کر رہا۔امریکہ کو اگر فلسطینیوں سے ہمد ردی ہو تی تو اسرائیل کا وجود میں رہنا ممکن نہ رہتا یا اگر اسرائیل کسی طرح اپنے وجود کو برقرار رکھ بھی پاتا تو اس کے لئے فلسطینیوں پر وہ مظالم ڈھا نا ممکن ہی نہ ہو تا جو وہ اب تک ڈھا تا آیا ہے۔ امریکہ کا بغل بچہ ہونے ہی کے باعث اسرائیل اپنا وجود بر قرار رکھ پا یا ۔اس وقت امریکہ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یا ہو کی مخا لفت اس لئے کر رہا ہے، کیونکہ ایک طرف وہ ایران سے اپنے معاملات درست کرنے جا رہا ہے جس سے اس کے عرب حلیف ممالک تشویش میں مبتلا ہیں۔ امریکہ اپنے سامراجی مقا صد کے لئے عرب حلیف ممالک کو بھی نا راض نہیں کرنا چا ہتا ۔جان کیری کا حالیہ دورہ سعودی عرب اس با ت کی غما زی کرتا ہے۔ ایسے میں اس وقت اگر اسرائیل کی جانب سے بھی عربوں کے خلاف انتہا پسندانہ رویے اور فلسطینی ریا ست کو نہ ماننے کی با ت کی جائے گی تو امریکہ کے حلیف عرب مما لک اس بنا پر مکمل طور پر امریکی مخالف رویہ اپنا سکتے ہیں کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں پہلے عرب مخالف اسرائیل کو اپنا بغل بچہ بنائے رکھا اور اب ایران سے بھی اپنے معاملات درست کرکے امریکہ، مشرق وسطیٰ میں عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب کو تنہا کررہا ہے۔ایسے میں امریکہ اسرائیل کی زبانی کلامی مذمت کر کے عرب ممالک کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے لئے عرب ممالک کی اب بھی اہمیت ہے۔ *

مزید :

کالم -