نیا پاکستان

نیا پاکستان
نیا پاکستان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔ وزیراعظم جس وقت کراچی میں جرائم کی کمی پر رینجرز کی تعریف کر رہے تھے اس وقت خیبر اور کرم ایجنسی میں فورسز انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف تھیں، جس طرح کراچی آپریشن کو سیاسی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔ اِسی طرح قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کی حمایت میں پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ ہے ۔

دہشت گردی کے خلاف جس طرح بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے اور اس کے نتیجے میں جو خوفناک حقائق منظر عام پر آ رہے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی میں کس طرح حکومتوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت سے کام لیا، جس طرح متعدد علاقے نو گوایریاز بن گئے تھے اور عملی طو رپر وہ دہشت گردوں کے کنٹرول میں تھے ۔یہ ماضی میں سرکاری اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان نظرآتی ہیں ۔پاکستان میں دہشت گردی50 ہزار سے زیادہ افراد کی جان لے چکی ہے ۔ جنرل راحیل شریف سے پہلے طالبان سے مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ۔ ان کے ساتھ معاہدے بھی ہوتے رہے، مگر دہشت گردی کے واقعات ختم نہیں ہو پائے ۔ دہشت گردوں سے نہ تو جی ایچ کیو محفوظ تھا او رنہ ہی ایئر پورٹ جیسی حساس تنصیبات۔ لوگ عدم تحفظ کا شکار تھے ۔ پولیس کے جوانوں کو ہدایت کی جاتی تھی کہ وہ پبلک مقامات پر زیادہ تعداد میں ایک جگہ اکٹھے نہ ہوں، کیونکہ پاکستان ایک نئی اور خوفناک قسم کی دہشت گردی کا شکار تھا۔یہاں دہشت گرد واردات کرنے کے بعد فرار ہونے کی کوشش نہیں کرتا تھا،بلکہ وہ خود اپنے آپ کو بم سے اڑا کر زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلاتا تھا اور پھر پشاور میں آرمی سکول پر حملے کا واقعہ ہو گیا۔ جنرل راحیل شریف نے اسی جوش و جذبے کے ساتھ تحفظ وطن کے لئے اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا جو ان کے خاندان کی روایت ہے ۔ تحفظ وطن کے لئے جان قربان کر کے ان کا خاندان پہلے ہی دو نشان حیدر حاصل کر چکا ہے ۔ انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف جارحانہ پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ۔ اہم تنصیبات پر خار دار تاریں بھی لگائی گئیں ۔ دیواروں کو اونچا بھی کیا گیا ، مگر اصل کام دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات کرنا تھا۔ طالبان کے متعلق اچھے اور برے کی تمیز ختم کر دی گئی ۔ وہ دہشت گرد جو پاکستان میں وارداتیں کر کے افغانستان میں پناہ لے لیتے تھے ان کے خلاف افغانستان کی حکومت کا تعاون حاصل کیا گیا اور اب کابل سے آنے والی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ وہاں کس طرح دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیاں ہو رہی ہیں ۔

23مارچ 2015 ء کو دنیا کو ایک نیا پاکستان نظر آیا ۔ ایک ایسا پاکستان جو دہشت گردی کے خطرات سے نجات حاصل کر رہا ہے ۔ عوام میں دہشت گردوں کے خلاف ایک نیا جوش و جذبہ نظر آیا اور ایسا محسوس ہوا جیسے پاکستان کے عوام کے لئے ایک نئی صبح طلوع ہو رہی ہے ۔اسلام آباد میں شاندار پریڈ ہوئی ۔ سات سال کے بعد وفاقی دارالحکومت پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجا ۔ وطن عزیز کی اعلی سول اور فوجی قیادت قومی یکجہتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کرتی نظر آ ئی ۔ پریڈ میں جدید ترین اسلحہ کی بھی نمائش ہوئی۔ ایٹمی میزائل اور ڈرونز جہاں پاکستان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا اعلان کر رہے تھے ۔ وہاں الخالد، الضرار ٹینک اور دوسرے جنگی ہتھیار پاکستان کے ناقابل تسخیر ہونے کی خبر دے رہے تھے۔ ایئر چیف لڑاکا طیاروں کے فلائی پاسٹ کی خود قیادت کر رہے تھے ۔ آرمی ، نیوی اور ایئر فورس کے افسروں اور جوانوں کا جوش و جذبہ پاکستان کے لئے ہر قربانی کے لئے ہر وقت تیار رہنے کی غمازی کر رہا تھا ۔ جوش و جذبے کی یہ فضا صرف اسلام آباد تک محدود نہیں تھی ۔ لاہور میں واہگہ بارڈر پر نعرہ تکبیر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کی گونج سرحد پار بھی سنائی دے رہی تھی ۔ لاہور میں گلبرگ کی مین بلیوارڈ پر عزم پاکستان پریڈ میں جوش و جذبہ جنون کی حدوں کو چھو رہا تھا ۔ اہلِ لاہور پاکستان سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کر رہے تھے ۔ کراچی ، پشاور اور کوئٹہ میں یوم پاکستان کا آغاز اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا تھا اور مختلف تقریبات میں پاکستان کے لئے تن ،من اور دھن کی بازی لگانے کا اعلان کیا جا رہا تھا ۔ 


جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ممکنہ دہشت گردی سے بچنے کے لئے کچھ نئے طریقے ایجاد کئے گئے تھے ۔ سیکیورٹی کی وجہ سے جن منصوبوں کا افتتاح کرنے کے لئے وہ سائٹ پر نہیں جاسکتے تھے ان کی افتتاحی تختیاں ایوان صدر طلب کر لی جاتی تھیں ۔مشرف ان کی نقاب کشائی کر تے تھے اور اگلے روز وہ پراجیکٹ کی سائٹ پر نصب کر دی جاتی تھیں ۔ پاکستان میں صدر مشرف نے بے شمار منصوبوں کا افتتاح کیا، مگر ان منصوبوں کا افتتاح کرنے کے لئے وہ ایوان صدر سے نہیں نکلتے تھے بلکہ ،افتتاحی تختیاں ایوان صدر کی زیارت کرتی تھیں۔

یہ جنرل پرویز مشرف کے آخری دور کا تذکرہ ہے۔سندر کے مقام پر تاجروں اور صنعت کاروں نے ایک بہت بڑی تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ سینکڑوں افراد کو مدعو کیا گیا، مگر اس وقت فضا میں جنرل مشرف کی رخصتی کی افواہیں گردش کر رہی تھیں اس لئے بہت کم لوگ اس تقریب میں آئے ۔حاضرین کی کمی کی وجہ دہشت گردی کا ممکنہ خطرہ بھی تھا۔پنڈال میں اصل حاضرین کی تعداد اتنی کم تھی کہ اگر جنرل صاحب وہاں تشریف لاتے تو منتظمین کے حصے میں خاصی ڈانٹ آنے کا خدشہ تھا ۔ اس موقع پر ایک پرانا نسخہ آزمایا گیا۔ سادہ لباس میں سرکاری ملازمین اور سپاہیوں کو کرسیوں پر ’’رونق افروز‘‘ کر دیا گیا۔ جنرل مشرف پنڈال میں حاضرین کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر بہت خوش ہوئے اس کے بعد جب انہوں نے تقریر شروع کی تو انہوں نے فرضی تاجروں اور صنعت کاروں کی طرف اشارہ کر کے زور دے کر کہنا شروع کیا کہ ’’ مَیں آپ کے پاس آیا ہوں اس ملک کی تقدیر آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔آپ نے کشکول توڑنا ہے ۔ آپ نے اس ملک کو ترقی کی طرف لے کر جانا ہے۔ ہم نے باہر نہیں دیکھنا ۔ ہم نے آپ کی طرف دیکھنا ہے‘‘ ۔ صدر مشرف جعلی حاضرین کی طرف اشارہ کر کے بار بار ان سے بڑی توقعات کا اظہار کر رہے تھے اور سرکاری اہلکار مسکرا رہے تھے اور شرمندہ شرمندہ ہو رہے تھے ۔ پرویز مشرف قوم کی تقدیر کی تبدیلی کی امید لے کر جلسہ گاہ سے رخصت ہو گئے اس کے بعد جب کھانے کا مرحلہ آیا اور ایک ایک کباب کے پیچھے چھ ،چھ سرکاری اہلکاروں نے دوڑیں لگائیں توپتہ چلا کہ کچھ عرصہ پہلے معزز تاجروں و صنعت کاروں کے کردار کی ایکٹنگ کون لوگ کر رہے تھے۔


23مارچ 2015ء کو دنیا کو ایک نیا پاکستان نظر آیا۔ ایک ایسا پاکستان جو دہشت گردی کے خطرات سے نجات حاصل کر رہا ہے ۔ پاک فوج کے جوان جرأت اور شجاعت کی نئی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ شہیدوں کے خون کی روشنی سے پاکستان دہشت گردی کے اندھیروں سے نکل کر ترقی اور خوشحالی کے اندھیروں کی طرف سفر کر رہا ہے۔ پاکستان کے عوام کے لئے ایک نئی صبح طلوع ہو رہی ہے۔ *

مزید :

کالم -