سعودی سلامتی کے لئے خطرات اور پاکستان

سعودی سلامتی کے لئے خطرات اور پاکستان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


مُلک کی سیاسی و فوجی قیادت نے اتفاق کیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے پر پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف،مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور مسلح افواج کے نمائندوں پر مشتمل وفد صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے ریاض جا رہا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے ممالک سے قریبی اور برادرانہ تعلقات ہیں، ہم ان کی سیکیورٹی کو بہت اہمیت دیتے ہیں، وزیراعظم نواز شریف سے سعودی ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز نے جمعرات کو ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور چیف آف ائر سٹاف ، ائر چیف مارشل سہیل امان نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔ قبل ازیں دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے ہنگامی طور پر رابطہ کیا ہے۔ پاکستان یمنی باغیوں کے خلاف اتحاد کا حصہ بننے کی سعودی درخواست کا جائزہ لے رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے سعودی عرب پر جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، پاکستان کسی فرقہ وارانہ جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب برادر اسلامی ملک ہیں اور دونوں نے عالمی امور میں ہمیشہ ایک دوسرے کی حمایت کی ہے، سعودی حکمران پاکستان کو اپنا دوسرا گھر بھی کہتے ہیں اور ہر آڑے وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے، اب یمن میں حوثی باغیوں کی بغاوت کی وجہ سے سعودی سیکیورٹی کے لئے بعض مسائل پیدا ہوئے ہیں تو سعودی حکمرانوں کو بجا طور پر توقع ہے کہ اس موقع پر اسے پاکستان کی حمایت حاصل ہو گی، اسی لئے سعودی ولی عہد نے پاکستان سے ہنگامی رابطہ کیا اور وزیراعظم نے فوری طور پر عسکری قیادت سے مشاروت کے لئے اجلاس بُلا لیا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ یمنی باغیوں کے خلاف پاکستان سعودی اتحاد کے ساتھ ہو گا اور اگر سعودی عرب کی سیکیورٹی کو کوئی مسائل درپیش ہوئے یا سعودی عرب کے خلاف کوئی جارحیت ہوئی تو پاکستان اس اتحاد میں شریک ہو کر بھرپور جواب دے گا۔
مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی سال سے سیاسی زلزلوں کی زد میں ہے۔ ’’عرب بہار‘‘ کی جو لہر اُٹھی تھی وہ کئی ممالک میں پھیل گئی، بہت سی حکومتیں تبدیل ہو گئیں، جہاں تبدیلی نہیں آئی، وہاں بھی حکمرانوں کو مشکلات درپیش ہیں، عراق اور شام میں داعش نے مسلح کارروائیاں کر کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور بعض علاقوں سے داعش تیل نکال کر عالمی منڈی میں فروخت بھی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ چھ ماہ سے تیل کی قیمتیں تیزی سے گری ہیں۔ سعودی عرب کی ہمسائیگی میں یمن گزشتہ کئی برسوں سے عدم استحکام کا شکار ہے گزشتہ ماہ حوثی باغیوں نے ایوانِ صدر پر قبضہ کر لیا تھا اب صدر منصور ہادی سعودی عرب پہنچ گئے ہیں، جہاں سے وہ عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کے لئے قاہرہ جا رہے ہیں۔
اِن حالات میں اگر سعودی حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ ہنگامی مشاورت کی ہے یا پھر کسی قسم کی امداد کی امید باندھی ہے تو یہ عین فطری ہے، ایسے حالات میں حکومتیں دوستوں کی جانب ہی رجوع کرتی ہیں اور اگر پاکستان یمنی باغیوں کے خلاف سعودی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان کر رہا ہے یا کسی قسم کی جارحیت کے خلاف عملی تعاون کا یقین دلا رہا ہے تو اس میں حیرت و اچنبھے کی کوئی بات نہیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال بڑی پیچ دار ہے، بیرونی طاقتیں اس خطے میں اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر ہی پالیسی بناتی ہیں، ظاہر ہے جب متضاد مفادات باہم ٹکراتے ہیں تو پھر پہلے سے پیچیدہ صورت حال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ پاکستان کو اس ساری صورت حال کو پیش نظر رکھ کر ہی کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔
سعودی عرب پاکستان سے کس قسم کے تعاون کا خواہاں ہے یا اس کی سیکیورٹی کی ضروریات کا کیف و کم کیا ہے اس کا حقیقی اندازہ تو پاکستانی وفد کی سعودی حکمرانوں سے ملاقات کے بعد ہی ہو گا تاہم پاکستان کے اندر جونہی یہ اطلاع سامنے آئی کہ سعودی ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز نے وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان یمنی بحران پر بات ہوئی ہے تو کوئی وقت ضائع کئے بغیر اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنے اپنے نقطہ نظر کا اظہار شروع کر دیا۔ ان کا یہ ردعمل فوری ہے اور ہمارے خیال میں ان تمام جماعتوں میں سے کسی ایک نے بھی اس معاملے پر غور کے لئے اپنی اپنی جماعتوں کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس تک نہیں بلایا۔ یہ کمیٹیاں تو عرصہ ہوا سیاسی جماعتوں کے لئے اجنبی اجنبی ہو گئی ہیں،من پسند کور کمیٹیوں کے کسی اجلاس کی بھی خبر یا اطلاع نہیں، بس سیاسی جماعتوں کے سربراہوں یا بعض دوسرے عہدیداروں نے اپنے طور پر جو مناسب خیال کیا کہہ دیا۔ لگتا تو یہی ہے ان میں سے کسی کو بھی یمن کے حالات کی گہرائی کا پوری طرح اندازہ نہیں، نہ ان کے پاس کوئی کلاسیفائیڈ اطلاعات ہیں جو حکومتی اداروں کے پاس ہو سکتی ہیں،نہ کسی نے ایسی ضرورت محسوس کی ہے کہ وہ پہلے جان لے کہ برسر زمین حالات کیا ہیں اور کس قسم کی امداد طلب کی جا رہی ہے۔ حکومت نے تو فوری طور پر اعلیٰ سطح کا اجلاس بُلا لیا، دفتر خارجہ نے بھی اطلاع دے دی۔ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں غور کر کے ہی وزیر دفاع اور مشیر خارجہ کو سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن جن جماعتوں نے اس پر ردعمل دیا ہے کیا اُن کے رہنماؤں نے بھی کسی جگہ بیٹھ کر کوئی مشاورت کرنے کی ضرورت محسوس کی یا ساتھیوں سے صلاح مشورہ ضروری گردانا؟ بظاہر لگتا ہے انہوں نے اس مشق کو کار لا حاصل سمجھا اور اپنے طور پر جو بہتر خیال کیا کہہ دیا۔ تحریک انصاف، اے این پی اور جماعت اسلامی نے اپنا موقف بیان کر دیا ہے۔ ایک سابق سیکرٹری خارجہ نے جو ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں بھی آ گئے تھے اور الیکشن بھی لڑتے رہے ہیں، بڑا دلچسپ بیان دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب فوج بھیجنے کا فیصلہ عسکری قیادت کسی صورت قبول نہیں کرے گی، اس بیان میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ سعودی عرب فوج بھیجنے کا فیصلہ(پہلے ہی) کر لیا گیا ہے، حالانکہ ایسا کوئی فیصلہ تادم تحریر سامنے نہیں آیا دوسری بات یہ ہے کہ جب (ایسا کوئی) فیصلہ ہو گا تو ہی یہ سوال اُٹھے گا کہ عسکری قیادت قبول کرے گی یا نہیں۔اگر فوج بھیجنے کے متعلق کچھ سوچا بھی جا رہا ہو گا تو اسی اجلاس میں اس پر غور کیا گیا ہو گا، جس میں آرمی چیف اور ائر چیف شریک ہوئے۔ اگر وہ فوج بھیجنے کو کسی وجہ سے ممکن یا مناسب خیال نہیں کر رہے ہوں گے تو انہوں نے اجلاس میں اپنی رائے ظاہر کر دی ہو گی، اس لئے ہمارے خیال میں سابق سیکرٹری خارجہ کا فرمان قبل از وقت اور عاجلانہ ہے۔
اس وقت بھی جو صورت حال ہے اس کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے اجلاس بُلائیں اور وہاں مشاورت کریں پھر اگر ضرورت ہو تو حکومت کے ساتھ بیٹھیں اور وہاں تفصیل سے اس معاملے پر غور کریں۔ حکومت بھی اگر مناسب سمجھے تو اے پی سی کا اہتمام کر سکتی ہے، لیکن معاملے کی تہہ تک جائے بغیر محض سطحی بیان جاری کرنے سے تو یوں لگا ہے کہ ہمارے رہنما سنجیدہ معاملات کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے اور کسی چیز پر گہرے غور و فکر کے بغیر ہی اظہار خیال کر دیتے ہیں۔کسی فیصلے سے پہلے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال ہماری توجہ چاہتی ہے اور ہمارے ہاں خطے کی سیاست اور جغرافیے کو سمجھنے والوں کی کمی نہیں، بہتر ہے وہ میدان میں آئیں اور معاملے کے تمام پہلوؤں کو قوم کے سامنے لائیں۔ سطحی اور بغیر سوچے سمجھے بیانات سے صورت حال کو سمجھنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔

مزید :

اداریہ -