دو افراد کو زندہ جلانے کے شبہ میں پکڑے گئے افراد کو عدالت پیش نہ کرنے پر ایس ایچ او تھانہ نشتر کالونی کی سرزنش

دو افراد کو زندہ جلانے کے شبہ میں پکڑے گئے افراد کو عدالت پیش نہ کرنے پر ایس ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس محمود مقبول باجوہ نے سانحہ یوحنا آباد میں دو افراد کو زندہ جلانے کے شبہ میں پکڑے گئے افراد کو عدالت پیش نہ کرنے پر ایس ایچ او تھانہ نشتر کالونی کی سرزنش کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ کو رپورٹ سمیت طلب کرلیاہے۔درخواست گزار ایم اے جوزف نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے یوحنا آباد میں دو افراد کو زندہ جلانے کے شبہ میں درجنوں مسیحیوں کو کسی قانونی ضابطے کے بغیر حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے۔عدالتی حکم پر تھانہ نشتر کالونی کے ایس ایچ نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مطلوبہ افراد پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں جس کی وجہ سے انہیں عدالت پیش نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے ایس ایچ او کے بیان پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ حبس بے جا کے مقدمات میں غلط بیانی پولیس والوں کا وطیرہ بن چکی ہے ۔تھانیداروں کے اسی رویہ کے باعث عدالتوں کو اعلیٰ پولیس افسر طلب کرنا پڑتے ہیں تاکہ انہیں بھی معلوم ہو کہ ان کے ماتحت کیا کررہے ہیں ۔عدالت نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی راناایازسلیم کورپورٹ سمیت طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 30 مارچ تک ملتوی کر دی۔

مزید :

صفحہ آخر -