بزرگوں کو فل پنشن کی ادائیگی نہ ہوئی تو وزیراعلیٰ پنجاب کو طلب کرینگے، ہائیکورٹ

بزرگوں کو فل پنشن کی ادائیگی نہ ہوئی تو وزیراعلیٰ پنجاب کو طلب کرینگے، ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ نے چیف سیکرٹری پنجاب کو 2 اپریل تک بزرگ پنشنرز کو فل پنشن کی ادائیگی کا معاملہ حل کرنے کی آخری مہلت دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر آئندہ سماعت تک معاملہ حل نہ ہوا تو عدالت کے پاس وزیر اعلیٰ کو طلب کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہو گا ۔ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ کارروائی مروت گردیزی سمیت درجنوں بزرگ پنشنرز کی طرف سے دائرچیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری خزانہ کے خلاف توہین عدالتوں کی درخواستوں پرکی ہے۔درخواست گزاروں کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود 15سال سے زیادہ ریٹائرمنٹ کا عرصہ گزارنے والے پنشنرز کو فل پنشن ادا نہیں کی جا رہی، چیف سیکرٹری پنجاب خضر حیات گوندل نے پیش ہو کر موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت سپریم کورٹ کے فل پنشن کے فیصلے کا وفاق اور دیگر صوبوں کے ملازمین کی پنشن کے ساتھ موازنہ کرنا چاہتی ہے لہٰذاچند دن کی مہلت دی جائے کیونکہ حکومت کے حساب سے فل پنشن کی رقم پہلے ہی ادا کی جا چکی ہے، عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کا بیان مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فل پنشن سے متعلق فیصلے کی مزید کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہے، پہلے بھی محکمہ خزانہ کے ایک افسر نے متوازی عدالت لگا کر سپریم کورٹ کافیصلہ مسترد کرنے کی کوشش کی، سپریم کورٹ نے یہ بات طے کر دی ہے کہ بزرگ پنشنرز فل پنشن کے حقدار ہیں لہٰذااب تشریح کا نہیں بلکہ انہیں ادائیگی کرنے کا مرحلہ ہے جس پر عدالت کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، عدالت نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ آئندہ سماعت پر پنجاب حکومت اپنی مالی مشکلات کا رونا رونے کی بجائے رقم کی ادائیگی کی بابت عدالت کو آگاہ کرے ورنہ پنجاب حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔چیف سیکرٹری نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ آئندہ سماعت سے قبل اس معاملے کا حل نکال لیں گے جس پر عدالت نے چیف سیکرٹری کو 2 اپریل تک فل پنشن کی ادائیگی کا معاملہ حل کرنے کی آخری مہلت دیتے ہوئے قرار دیا کہ اگر آپ بھی آئندہ سماعت تک معاملہ حل نہ کر سکے تو پھر عدالت کے پاس وزیر اعلیٰ پنجاب کو طلب کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچے گا، عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ان بزرگ پنشنرز کے جذبات کو سمجھیں، یہ ہر سماعت پر صبح 8 بجے عدالت میں آکر اپنے حق کی امید لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔
فل پنشن کیس

مزید :

صفحہ آخر -