آج آپریشن 'فیصلہ کن طوفان'ماضی میں آپریشن صحرائی طوفان،سعودی عرب کی دو جنگی مہموں میں 24سال کا فاصلہ

آج آپریشن 'فیصلہ کن طوفان'ماضی میں آپریشن صحرائی طوفان،سعودی عرب کی دو ...
آج آپریشن 'فیصلہ کن طوفان'ماضی میں آپریشن صحرائی طوفان،سعودی عرب کی دو جنگی مہموں میں 24سال کا فاصلہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے آج سے 24 سال قبل آپریشن ”صحرائی طوفان“ کا آغاز کیا اور اب ایک دفعہ پھر اس کی افواج حرکت میں ہیں اور یمنی باغیوں کے خلاف آپریشن ”فیصلہ کن طوفان“ کیا جا رہا ہے۔
سعودی مملکت کی طرف سے پہلا بڑا آپریشن 1991ءمیں ”صحرائی طوفان“ کے نام سے عراقی صدر صدام حسین کی کویت پر چڑھائی کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ یہ آپریشن اس وقت کے سعودی فرمانروا شاہ فہد نے خلیجی اور بین الاقوامی اتحادیوں کو ساتھ ملا کر شروع کیا اور اس میں بالآخر عراق کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور کویت سے اس کی فوجیں واپس چلی گئیں۔

مزید پڑھیں:یمن میں تیسرے روز بھی بمباری جاری،پاکستانیوں کی جانوں کو خطرہ ،کھانے پینے کی اشیاءکی قلت
 سعودی عرب کی طرف سے دوسرا بڑا آپریشن ”فیصلہ کن طوفان“ گزشتہ ہفتے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف شروع کیا گیا ہے۔ حوثی باغی یمنی صدر ہادی کو ان کے اپنے ہی ملک کے ایک کونے میں محدود کر چکے ہیں اور ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ انہیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔ تازہ ترین آپریشن موجودہ فرمانروا شاہ سلیمان نے اپنے عرب اور خلیجی اتحادیوں کے ساتھ مل کر شروع کیا ہے۔ گزشتہ آپریشن کی طرح اس آپریشن کو بھی حمایت کے ساتھ ساتھ متعدد حلقوں کی تنقید کا بھی سامنا ہے۔