یمن سے پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے تمام ادارے پلان کے مطابق کام کر رہے ہیں ، وزیر اعظم خو د نگران ہیں : سیکرٹری خارجہ

یمن سے پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے تمام ادارے پلان کے مطابق کام کر رہے ہیں ، ...
یمن سے پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے تمام ادارے پلان کے مطابق کام کر رہے ہیں ، وزیر اعظم خو د نگران ہیں : سیکرٹری خارجہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے یمن کی صورتحال پر ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی سفیر کی قیادت میں تقریباً 600 پاکستانی اپنی منزل پر پہنچ رہے ہیں۔اور حکومت کی جانب سے ان کے انخلاءکا جامع پلان بھی تیار کر لیا گیا ہے جس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ تمام ادارے پلان کے مطابق کام کیا جا رہا ہے اور تمام پاکستانیوں کو بحفاظت پاکستان واپس لانے کے لیے وزیر اعظم خود نگرانی کر رہے ہیں۔سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کا پہلا قافلہ اگلے 3 سے 4 گھنٹے میں الحدیدہ پہنچ جائے گا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ آنے والے پاکستانیوں کے لیے الحدیدہ میں رہائش کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔اور اس کے علاوہ پاکستان اپنے ہم وطنوں کے انخلاءکے لیے سعودی عرب سے بھی رابطے میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ پاکستانی پہلے ہی الحدیدہ میں ہیں لیکن یمن کے ایک اور شہر عدن میں صورتحال مخدوش ہے۔عدن میں لڑائی جاری ہے اور پاکستان حکومت کی کوشش ہے کہ وہاں لڑائی رکے اور اور اپنے پاکستان واپس لے کر آئیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ عمان کی سرحد کے قریب واقع شہر المکلا میں بھی کچھ پاکستانی موجود ہیں اور ہماری جانب سے پوری کوشش ہے کہ ہم عمان کی بحری حدود کا استعمال کر سکیں اور ہمارے جہازوں کو راستہ مل جائے تاکہ ہم اپنے ہم وطنوں کو واپس لا سکیں۔

یمن میں تیسرے روز بھی بمباری جاری،پاکستانیوں کی جانوں کو خطرہ ،کھانے پینے کی اشیاءکی قلت
پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے حوالے سے پاکستان نیوی کی خدمات حاصل کر لی ہیں اور اسی سلسلے میں پاکستان بحریہ کا ایک جہاز بحرہ روم روانہ کر دیا ہے جبکہ دوسرا جہاز بحرہ احمر کے لیے پرسوں روانہ کیا جائے گا۔اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کو واپس لانا ہمارا فرض ہے اور نیوی کے جہاز ایک وقت میں 200 افراد کو واپس لایا جا سکے گا۔وزیر اعظم کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ یمن کی صورتحال پر وزیر اعظم نواز شریف نے جمعرات کو اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا تھا اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے سعودی ہم منصب سے رابطہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماﺅں نے یمن میں نو فلائی زون ختم کرنے پر بات ہوئی تھی اس کے علاوہ انہوں نے واضح کیا پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد اگلے 24 سے 28 گھنٹے میں سعودی عرب جائے گا جہاں تمام معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔خارجہ پالیسی کے حوالے سے اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں دو انتہائی اہم اور مقدس مقامات ہیں جن پر کوئی مسلمان بھی قربان ہو سکتا ہے۔اس حوالے سے اگر کوئی بھی خطرہ سعودی عرب کو درپیش ہوا تو وہ نہ صرف تشویش ناک ہو گا بلکہ حکومت سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -