زرعی شعبے کے لئے حکومتی کوششیں

زرعی شعبے کے لئے حکومتی کوششیں
زرعی شعبے کے لئے حکومتی کوششیں

  

ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓآر اے ڈی پی ، پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کا گراں قدر اثاثہ ہے جو 2,963 ملین روپے کی لاگت سے زرعی شعبے کی ترقی و خوشحالی کے لئے سرگرداں اور صارفین کے لئے تحقیق و تکنیک کا منبع ثابت ہو رہا ہے۔ زرعی شعبے کی ترقی و بہتری کو حکومتِ پاکستان کی بھرپور توجہ اور سپورٹ میسر ہے۔ بھرپور سرکاری سرپرستی کی بدولت زیادہ قابلِ نفع کاشتکاری کے لئے مسائل کے سائنسی سدِباب ،زیادہ پیداوار کے حصول، گرانقدر فصلوں کی تنوع پر مبنی تقسیم ،طلب کے مطابق پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور بہتر مسابقانہ قیمت کی ادائیگی جیسے اقدامات کے ثمرات سے کماحقہ مستفیض ہوا جا رہا ہے۔ مُلک بھر میں تبدیل ہوتی غذا ئی صورت حال، غذائیت کا معیار اورپیداوار بڑھانے، نیز فوڈ سیکیورٹی جیسے مسائل کے تدارک کے لئے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل (PARC)مسلسل کوشش کررہا ہے کہ اپنے تحقیقاتی و ترقیاتی پروگرام میں جدت و بہتری لاتے ہوئے مُلک میں سبز انقلاب لانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔

پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 2,963 ملین روپے کے سرمائے سے 60ماہ کی مدت کے لئے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC)کا میگا پراجیکٹ ریسرچ فار ایگریکلچرل ڈیویلپمنٹ پروگرام، یعنی (RADP)قائم کیا گیا تھا جس کی توثیق مارچ 2007ء میں کی گئی تھی۔مذکورہ پراجیکٹ کے لئے مختص فنڈز مُلک کی دگرگوں معاشی صورت حال کے پیشِ نظر ان اعداد و شمار سے بھی کہیں کم رہے جو پی سی ون (PC-1) میں دکھائے گئے تھے، چنانچہ 2014-15ء کے مالی سال کے اختتام پرحقیقی خرچہ صرف 1403.725 ملین روپے تھا، جس کی وجہ سے اس پراجیکٹ میں جون تک توسیع کر دی گئی ہے۔مذکورہ پراجیکٹ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل((PARCکی زیرِ نگرانی مکمل کیا جارہا ہے۔یہ پروگرام زرعی تحقیق و ترقی کو درپیش موجودہ اور مستقبل کے چیلنجوں و مسائل کے سدِباب کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ پروگرام ان بائیس (22)ترجیحی شعبوں میں تحقیق کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہے جن کی نشاندہی نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سسٹم کے آئین میں کی گئی ہے۔ (RADP) ،زرعی ترقی،تحقیقی ڈھانچے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے،موجودہ لیبارٹریوں کی بہتری و اصلاح، کاشتکاری کی مشینری ،دستیابی اور ہنرمند افرادی قوت جیسے ابھرتے ہوئے مسائل کا سدِ باب کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

اسی مد میں مالی سال 2014-15ء کے اختتام تک 148تحقیقی سرگرمیاں یاذیلی پراجیکٹ شروع کئے گئے تھے، جن میں سے101ذیلی پراجیکٹ کامیابی سے ختم ہوچکے ہیں۔(PARC) کے سینئر حکام زیرِ تکمیل پراجیکٹس اور سرگرمیوں کا بنیادی طور پر اثرات و ثمرات کے تحت سالانہ بنیادوں پر جائزہ لیتے ہیں نیز ان پراجیکٹس کی ممکنہ تکمیل اور فنڈز کے مناسب استعمال کے جائزہ کے ساتھ ساتھ اہداف کے سبک رفتار حصول کے لئے درست سمت کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے۔ (RADP) نے فصلوں کی سائنس،قدرتی وسائل، حیواناتی سائنس،زرعی انجینئرنگ اور فارم مشینری کے شعبے میں تحقیق کے 101سب پراجیکٹس مکمل کر کے نمایاں کامیابی سمیٹی ہے،جس کی بدولت فصلوں کی پیداوار، فارم مشینری،سماجی و اقتصادی سروے اور افرادی قوت کی بڑھوتری جیسے تیزی سے سر اٹھانے والے مسائل کا بروقت تدارک کیا گیا ہے۔ان تحقیقی سرگرمیوں کی بیش قیمت معاشی افادیت ان پراجیکٹس کے داخلی جائزے سے بھی آشکار ہوتی ہے۔

(RADP) کے ان مذکورہ تحقیقی پراجیکٹس سے فصلوں کے جینیاتی تنوع ،سورج مکھی کی اعلیٰ پیدوار کا حامل ہائی برڈ بیج ، کینولا،کینو، ٹماٹر ،سورغم گراس،قلیل المدتی مونگ پھلی کی اقسام کے حصول جیسی بیش بہا کامیابیاں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ قسم کے پھلوں کی پیداوا ر اور فروغ،چھوٹے پیمانے پر زیتون کے تیل کی کشید کے یونٹس کے قیام،پھلوں اور فصلوں کی بیماریوں کی تشخیص اور تدارک،آم توڑنے والی مشین،مویشیوں کی بیماریوں کی تشخیص ،علاج معالجے اور حفاظتی ٹیکہ جات وغیرہ ،پیداوار افزائشِ نسل کا اعلیٰ نظام و انتظام، بڑھوتری بڑھانے کی خوراک کے بہتر فارمولے،سود مند ماہی گیری،پانی اور زمین کے تحفظ کی ٹیکنالوجی جیسے انقلاب آفرین اقدامات بھی(RADP)تحقیق سے ہی ممکن ہوئے ہیں۔علاوہ ازیں شہد کی ذیلی پیداوار، حیاتیاتی تدارک،زرعی پیداوار اور ویلیوایڈیشن،تکنیکی منتقلی اورمختلف شعبوں میں زرعی پالیسی کا تجزیہ بھی ان پراجیکٹس ہی کا حاصل ہے۔(RADP) کی ان مخلصانہ کاوشوں کی بدولت لیبارٹریوں ،فیلڈ میں استعمال ہونے والے سامان، دفتری سامان،ٹرانسپورٹ کے نظام ،نئی تجربہ گاہوں اور گلاس ہاؤسز کا قیام،حیاتیاتی کنٹرول کی تجربہ گاہیں،نظام آبپاشی کی اصلاح و ترقی اور مواصلاتی نظام کی مد میں پی اے آر سی (PARC)کے تحقیقی شعبہ میں نمایاں بہتری ممکن ہوسکی ہے۔قصہ مختصر یہ کہ (RADP) کی جدید تکنیک اور سائنس پر مبنی تحقیق سے زرعی تحقیق و ترقی کو نہ صرف نئی جہتیں میسر آگئی ہیں، بلکہ اس موثر اور مفید تحقیق کے ثمرات اور اثرات دیرپا اور بارآور بھی ثابت ہوں گے۔

مزید :

کالم -