لاہور سانحہ،وزیر اعلیٰ پنجاب کا وہ ’کام‘جس نے دنیا بھر کے ڈاکٹروں کو چکراکررکھ دیا، ہر کوئی ایک دوسرے کا منہ تکنے لگا

لاہور سانحہ،وزیر اعلیٰ پنجاب کا وہ ’کام‘جس نے دنیا بھر کے ڈاکٹروں کو ...
لاہور سانحہ،وزیر اعلیٰ پنجاب کا وہ ’کام‘جس نے دنیا بھر کے ڈاکٹروں کو چکراکررکھ دیا، ہر کوئی ایک دوسرے کا منہ تکنے لگا

  

تحریر : نعمان تسلیم

وزیر اعلیٰ شہباز شریف اپنی انتھک محنت کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں اور ہر موقع پر وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو بھاگنے پر مجبور کرتے ہیں۔جب بھی پنجاب میںکوئی مشکل وقت آتاہے تو وہ سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے ہیں۔گذشتہ روز لاہور کے علاقے اقبال ٹاﺅن میں المناک دہشتگرد حملہ ہوا تو وہ بھی پیچھے نہ رہے اور زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے نہ صرف دکھی لوگوں کا دکھ بانٹا بلکہ خون کا عطیہ بھی دیا۔ اس خون کے عطیہ کی تصاویر آج ہر اخبار میں فرنٹ پیج پرچھپی ہیں۔میں بھی یہ تصاویر دیکھ کر ان کے جذبے کو داد دئیے بغیر نہ رہ سکا کہ 65سال کی عمر میں بھی وہ خون دینے کے لئے لیٹ گئے تاہم میں نے جب میں نے ماہر ڈاکٹرسے پوچھا کہ کیااس عمر میںانسان خون دے سکتا ہے ؟ تو ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ 50سال کے بعد خون دینا کسی بھی صورت ممکن نہیں کیونکہ ایسی صورت میں خون دینے والا خود”دوسروں کا خون “لینے کی صورتحال سے دوچار ہوسکتا ہے۔میں شدید حیرت میں ڈوب گیا اور اس ڈاکٹر کی رائے کو یہ سوچ کر رد کردیا کہ ہو نہ ہو یہ ڈاکٹر تحریک انصاف سے تعلق رکھتا ہے جو وزیر اعلیٰ کی اس قربانی کو چھوٹا بنانے پر تلا ہے۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے مزید ڈاکٹروں سے پوچھاتو نہ صرف انہوں نے بھی یہ بات دہرائی بلکہ یہ بھی بتایا کہ 50سال کی عمر تک کے صرف وہ لوگ خون دے سکتے ہیں جو صحت مند ہوںاور اگر کسی کو کوئی عام سی بیماری بھی لاحق ہوتو وہ کسی بھی صورت خون نہیں دے سکتا۔انہوں نے میرے علم میں مزید یہ اضافہ بھی کیا کہ 40سال کی عمر تک انسان کا خون بنتا رہتا ہے اور اس عمر کے بعد خون کے عطیے کی رفتار کو کم کردینا چاہیے یعنی اگر آپ چھ ماہ بعد خون دیتے آئے ہیں تو اس عمر کے بعد یہ وقفہ ایک سال تک ہونا چاہیے۔ان ماہرڈاکٹروں نے میرے علم میں مزید اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی انسان کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہوتو اس کا خون تو کسی بھی صورت نہیں لیاجاسکتا۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف کے مخالفین یہ کہتے ہیں کہ وہ کسی بھی منفی صورتحال کو اپنے حق میں کرنے کے بہت ماہر ہیں جس کے لئے وہ کئی مثالیں بھی دیتے ہیں جیسے ماضی قریب میں وہ ہسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں جاکر ڈاکٹروں کو معطل کردیتے ہیں۔اگر وہ کوئی وزیر صحت لگادیں تو ڈاکٹروں سے پوچھنے کی بجائے اس سے براہ راست پوچھا جاسکتا ہے لیکن اگر ایسا ہوجائے تو وہ منفی صورتحال کو کس طرح اپنے حق میں استعمال کریں ۔ان کے ایک ناقد نے تو یہاں تک کہا کہ ماضی بعید میں ہر کوئی اس بات سے آگاہ ہے کہ انہوں نے اپنے قریبی ساتھی کے ساتھ آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی سے رات کے اندھیروں میںکئی ملاقاتیں کیں،اگر یہ ملاقات کسی اور سیاستدان نے کی ہوتی تو یقیناًاسے کافی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا اور اسے جمہوریت پر شب خون بھی قرار دیا جاتالیکن چونکہ یہ ملاقات ان کی جانب سے تھی اس لئے اسے جمہوریت کی مضبوطی سے تعبیر کیاگیا۔

مزید :

بلاگ -