یہ مسائل بھی توجہ طلب ہیں

یہ مسائل بھی توجہ طلب ہیں
یہ مسائل بھی توجہ طلب ہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پنجاب کے تمام شہروں کے بازاروں میں تجاوزات قائم ہیں، تھڑے لگے ہوئے ہیں، رہڑیاں لگی ہوئی ہیں۔ فٹ پاتھ روزانہ کی بنیاد پر نیلام ہوتے ہیں۔ سڑکوں پر قبضے کرائے جاتے ہیں، جو سڑکیں 70،70 فٹ چوڑی ہیں، وہاں ایک کار چلانا مشکل ہے۔ ٹریفک جام رہنا معمول بن گیا ہے۔ ماسوائے لاہور شہر کی خاص خاص سڑکوں کے، باقی مقامات پر اندھیر نگری مچی ہوئی ہے۔ سرکاری اہل کاروں اور دکانداروں نے ملکی اور غیر ملکی لوگوں کو سڑکیں اور فٹ پاتھ نیلام کر رکھے ہیں۔سرکاری اہل کار کرپشن کی وجہ سے ان سے سڑکیں اور بازار خالی نہیں کرواتے۔ تجاوزات کے ذریعے سینکڑوں ہزاروں نہیں،بلکہ لاکھوں کروڑوں کی کرپشن ہو رہی ہے۔ ہزاروں رہڑیاں اور دکانوں کے آگے تھڑے لگوا کر بھتہ وصول کیا جا رہا ہے۔ شنید ہے کہ یہ بھتہ اوپر تک جاتا ہے۔غریبوں کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ کیمروں کی چکاچوند میں وزیراعلیٰ اعلان کرتے ہیں کہ مجرموں کو کٹہرے میں لائیں گے۔اربوں کے بجٹ سے سڑکیں تعمیر ہوتی ہیں پھر ان پر تجاوزات قائم کروا دی جاتی ہیں۔ عوام کو ان بڑے بڑے منصوبوں اور سڑکوں کا کیا فائدہ، جس سے صرف 2فیصد لوگوں نے مفادات حاصل کرنے ہیں،آپ اربوں روپے کی جو اورنج ٹرین چلوا رہے ہیں، اس سے صرف ایک مخصوص روٹ پر جانے والے لوگ ہی فائدہ اٹھائیں گے، جتنا قرضہ لے کر یہ ٹرین چلائی جائے گی اس سے چوتھائی اخراجات سے بسوں اور ویگنوں سے عوام کو سفر کی سہولتیں بہم پہنچائی جا سکتی تھیں۔


لاہور کے ہسپتالوں میں بھی کبھی جھانک کر دیکھ لیں۔ جہاں درد سے تڑپتے مریض گرمی اورسردی کے موسم میں برآمدوں میں کراہتے نظر آتے ہیں جو اس امید پر آس پاس کے سرکاری ہسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں کہ سرکار نے مفت علاج معالجے کا اعلان کر رکھا ہے، مگر جب غریب اپنے مریض کو لے کر سرکاری ہسپتال پہنچتے ہیں تو وہاں مفت علاج کے لئے انتہائی ذلت اور خواری کی کئی منزلیں طے کرنا پڑتی ہیں۔


مریض تو مریض ہوتا ہے، خواہ وہ خوشحال طبقے کا ہو یا پھر خالی جیب غریب شہری۔ اسے دواؤں ،علاج اور دیکھ بھال کی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے، مگر مفت دواؤں کے دعوؤں اور مفت علاج معالجے کے نعروں کے باوجود حقیقت حال بہت بدتر ہے ۔سرکاری ہسپتالوں میں آنے والوں کو ایمرجنسی میں مفت دوائیں دی جاتی ہیں، مگرصرف سستی والی۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحبان مجبوری کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں سہولتیں نہیں دیتے۔ مریضوں کے لواحقین سے لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔مریضوں کے لواحقین سرکاری عہدے داروں اور حکمرانوں کے اعلان پر اعتبار کرکے آتے ہیں۔ ریگولر علاج معالجے کے لئے سستی دوائیں ہسپتال سے مل بھی جاتی ہیں، مگر مہنگے ٹیسٹ ، ایکسرے اور انجکشن انہیں اپنی ہی جیب سے خریدنے پڑتے ہیں، جس کی وہ سکت نہیں رکھتے،یوں غریب مریض مفت علاج کے سرکاری نعرے کے پُرفریب نعروں میں اُلجھ کر اپنی غربت کا ماتم کرتا رہتا ہے۔ یہاں تو عام ٹیسٹ کے لئے مریضوں کو چار چار ماہ کا ٹائم دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے مشین ایک ہے اور مریض قطاروں میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ مسئلہ بھی ہے کہ مشینیں موجود ہیں، مگر خراب ہوتی ہیں۔ نئی مشینیں خریدنے کے لئے فنڈز نہیں ہیں۔


چند ماہ پہلے مجھے سروس ہسپتال میں ایکسرے کروانے کا موقع ملا، بغیر سفارش کے، تو انہوں نے فوٹو کاپی کی طرز کے سفید کاغذپر ایکسرے کر دیا۔ میں نے تحقیقات کیں تو صرف میرے ساتھ نہیں، ہزاروں لوگوں کو کئی ماہ تک کاغذ پر فوٹو ایکسرے سے عوام کو ٹرخایا جا رہا تھا۔ یہ چیز انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہونا ممکن ہے۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ اگر تمام علاج ٹیسٹ سرکاری ہسپتالوں میں شروع ہو جائیں تو پھر پرائیویٹ ٹیسٹ لیبارٹریاں کیا کریں؟ پرائیویٹ ٹیسٹ لیبارٹریاں پروفیسر صاحبان کی ہیں یا رشتہ داروں کی ہیں یا ان میں حصہ داری ہے،سرکاری ہسپتالوں میں ہر وارڈ میں ایک ایک بستر پر تین تین مریض پڑے ہیں۔ ایمرجنسی کے لئے بیڈ نہیں ہیں۔ نئے وارڈ، نئے بستر،نئے کمروں کی ہر ہسپتال کو ضرورت ہے، مگر پنجاب حکومت اربوں کھربوں روپے ایسے منصوبوں کی نذر کر رہی ہے، جن سے ان کی واہ واہ ہو۔ جو اگلے الیکشن میں ووٹ لینے کے لئے خوش کن نعروں میں استعمال ہو سکیں۔ ایسے پراجیکٹس جو دنیا کو نظر آئیں، کسی ہسپتال کے وارڈ بنوانے اور نئی مشینیں خریدنے سے دنیا کی واہ واہ تو نہیں سمیٹی جا سکتی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے شہر کے اندر میٹروبس بھی چلا دی، شہر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے،اس سے عوام کو نہیں صرف افراد کو فائدہ دے کر کروڑوں روپے ماہانہ حکومت پنجاب متعلقہ کمپنی کو امداد گرانٹ (سبسڈی) دے رہی ہے اور یہ پنجاب کے خزانے کو ماہانہ ٹیکہ لگ رہا ہے، اب وزیراعلیٰ میٹرو ٹرین کے مہنگے ترین منصوبے کو ہر حال میں مکمل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اور تمام عوام چشمِ تصور سے ایک ترقی یافتہ پیرس نما لاہور کو دیکھ رہے ہیں ، جہاں ایک طرف جنگلہ بس فراٹے بھرتی گزر جاتی ہے اور دوسری جانب جدید ترین اورنج ٹرین چلتی ہے، مگر اس شہر میں سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریض سسک سسک کر دم توڑ رہے ہوں گے۔ لاہور شہر کے بے شمار سکولوں میں چار دیواریاں نہیں ہیں۔ تعلیمی سہولتیں ناکافی ہیں۔اساتذہ سہولتوں کا رونا رو کر بچوں کو ٹیوشن سنٹروں کی طرف مائل کرتے ہیں۔ لاہور شہر میں ہر کھانے والی چیز ملاوٹ شدہ ہے، گھٹیا سے گھٹیا میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہرروز اخبارات میں دودھ اور مضرصحت گوشت کی خبریں آتی ہیں، ان عوام دشمن لوگوں کو حکمرانوں کے کارندوں کی سپورٹ حاصل ہے۔ چالانوں اور جرمانوں سے یہ لوگ نہیں سدھریں گے۔ یہ جیلوں میں جائیں تو مسئلہ حل ہوگا۔

مزید :

کالم -