مودی بھارتی مسلمانوں کو نئی ’’تحریکِ پاکستان‘‘پر مجبور نہ کریں

مودی بھارتی مسلمانوں کو نئی ’’تحریکِ پاکستان‘‘پر مجبور نہ کریں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک ہونے کے خوف سے او آئی سی کے انسانی حقوق کمیشن کو دورے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اس لئے کسی بھی عالمی تنظیم کو ریاست کے دورے کی اجازت نہیں دی جارہی اور نامساعد حالات کا بہانہ بنایا جارہا ہے اس کے برعکس اس تنظیم کا وفد اب پاکستان اور آزاد کشمیر کا تین روزہ دورہ کرے گا، آٹھ رُکنی وفد صدر پاکستان، وزیر اعظم ، مشیر خارجہ اور وزیر امور کشمیر سے ملاقاتیں کرے گا اور آزاد کشمیر کا دورہ بھی کرے گا جہاں وہ کیمپوں میں مقیم مہاجروں سے ملاقاتیں کرے گا۔اوآئی سی کا انسانی حقوق کمیشن گزشتہ کئی ماہ سے اس کوشش میں تھا کہ اسے مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت مل جائے بھارت نے اس سلسلے میں ہمیشہ لیت و لعل سے کام لیا، کیونکہ مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے سیکیورٹی فورسز نے کشمیری نوجوانوں کی زندگیاں اجیرن کررکھی ہیں جلوس نکالنے والوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں یہاں تک کہ کرفیو کے دوران گھروں کی کھڑکیوں سے باہر جھانکنے والی خواتین اور بچوں کو بھی گولی کا نشانہ بنادیا جاتا ہے۔گزشتہ روز بھی بھارتی فوج اور پولیس نے دو کشمیری نو جوانوں کو شہید کردیا جن کا تعلق حزب المجاہدین سے تھا یہ کارروائی ضلع پلوامہ میں کی گئی دونوں نوجوانوں کی شہادت کے بعد احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اس طرح کے مظاہرے وادی میں روز کا معمول ہے ان حالات میں انسانی حقوق کمیشن کو ریاست کے دورے کی اجازت اس لئے نہیں دی گئی کہ اس سے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر پردہ ڈالنا مقصود ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں تو تحریک آزادی چل رہی ہے اور کشمیری نوجوان بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لے رہے ہیں لیکن بھارت کے دوسرے صوبوں میں بھی بے چینی کی ایک لہر موجود ہے۔ وزیر اعظم مودی کے آبائی علاقے گجرات میں جہاں ان کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں بد ترین مسلم کش فسادات ہوئے تھے اور تین ہزار کے لگ بھگ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا وہاں ایک بار پھر مسلمانوں کو خوف و ہراس کا شکار کیا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پانچ ہزار ہندوؤں نے ایک مسلم اکثریتی علاقے پر حملہ کیا اور وہاں درجنوں مکانات اور گاڑیوں کو آگ لگادی ضلع پٹن کے اس گاؤں میں فسادات اس وقت شروع ہوئے جب ہندو طلبانے ایک مسلمان کے ساتھ بدتمیزی کی ،فسادات میں دو مسلمانوں کو ہلاک اور 14کو زخمی کردیا گیا اتر پردیش میں بھی جہاں انتہا پسند ہندو یوگی ادتیا ناتھ وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں حالات کشید ہ ہیں کیونکہ نئے وزیر اعلیٰ اپنے انتہا پسندانہ خیالات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی گھٹیا اور سوقیانہ خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔یہاں تک کہ ان کا لہجہ گالم گلوچ کی حدوں کو چھوتا نظر آتا ہے۔
گنجان آبادی والی اس ریاست میں تاریخی طور پر مسلمانوں کے وہ مقامات بھی واقع ہیں جن کی شہرت پوری دنیا میں ہے۔ دارالعلوم دیوبند سے ہزار وں لاکھوں علما نے دینی علوم کی تعلیم و تربیت حاصل کی اور اس وقت بھی پاکستان اور بھارت میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو دارالعلوم دیو بند سے فارغ التحصیل ہیں ،نامور علما اس مدرسے سے وابستہ رہ چکے ہیں ،اب اس شہر کا نام بدلنے کی تحریک چلائی جارہی ہے۔ حالانکہ یہ نہ صرف صدیوں پرانا نام ہے بلکہ مسلمانوں کی علمی خدمات کی وجہ سے ہی یہ نام سربلند ہوا۔ بھارت میں انتہا پسندی کا ایک دور وہ بھی گزر چکا ہے جب ہندوؤں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے خلاف بھی اپنے خبثِ باطن کا مظاہرہ کیا تھا کیونکہ یہ یونیورسٹی مسلم قومیت کے اولین علمبردار سر سید احمد خان نے قائم کی تھی اور بعدازاں یہ تحریک پاکستان کا مرکز و محور بنی رہی۔
نریندر مودی نے اپنے اقتدار کے لئے پورے بھارت میں مسلم دشمنی کی جو مہم شروع کررکھی ہے وہ اب برگ و بار لا رہی ہے اور اس کے مظاہرے کسی نہ کسی ریاست میں دیکھے جاسکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا ہندو انتہا پسند بھارت میں ’’ایک اور پاکستان‘‘ کی تحریک کے لئے تو راہ ہموار نہیں کررہے؟ متحدہ ہندوستان میں مسلمان صدیوں سے ہندوؤں کے شانہ بشانہ رہ رہے تھے اور تمدن ہند پر مسلمانوں نے ان مِٹ نقوش مرتب کئے تھے۔ایک ہزار سال تک مسلمان بادشاہوں نے اس وسیع و عریض خطے پر حکومت کی اور اپنی رعایا کے ساتھ ان کی روا داری کا یہ عالم تھا کہ ہندو اکثریت میں ہونے کے باوجود مسلمان بادشاہوں کے حسنِ سلوک کے معترف تھے، لیکن جدید جمہوری دور کے آغاز میں ہی ہندوستان میں ہندو رام راج کی تیاریاں شروع کردی گئی تھیں اور مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک شروع کردیا گیا تھا جس کا اظہار اب بھی بھارت میں ہو رہا ہے اسی لئے ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلانے والے قائد اعظمؒ کو الگ وطن کا مطالبہ کرنا پڑا، اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند قیادت مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کے جس مشن پر چل نکلی ہے اور جسے مودی جیسے انتہا پسند وزیر اعظم کی اشیر باد حاصل ہے وہ بھارت میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کو اس بات پر مجبور کردے گی کہ وہ اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے لئے تحریک پاکستان جیسی کوئی نئی تحریک اُٹھائیں۔ ایسے خدشات کا اظہار اب یوپی کے انتخابات کے بعد برملا کیا جانے لگا ہے۔
یوپی میں مسلمانوں کی آبادی 20فیصد کے لگ بھگ ہے لیکن بی جے پی نے ایک بھی مسلمان امیدوار کو انتخاب لڑنے کا ٹکٹ نہیں دیا تھا، جو پچیس مسلمان ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں وہ دوسری جماعتوں سے وابستہ ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کے عزائم کیا ہیں او روہ مستقبل میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرنے جارہی ہے۔ مودی نے تو مقبوضہ کشمیر میں بھی ہندو وزیر اعلیٰ لانے کی پوری کوشش تھی جو مسلم اکثریت کی ریاست ہے اور قیام پاکستان کے بعد سے اب تک اس کا وزیر اعلیٰ ہمیشہ مسلمان ہی منتخب ہوتا رہا ہے لیکن مودی نے ہندو وزیر اعلیٰ بنانے کا منصوبہ بنایا جو اس وجہ سے ناکام ہوگیا کہ ان کی جماعت کو اکثریت حاصل نہ ہوسکی اور مفتی محمد سعید مرحوم کے ساتھ ان کی سودے بازی نہ ہوسکی، لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کے حربوں سے مودی آخر بھارت کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کو بھارت سے دیس نکالا تو نہیں دیا جاسکتا ان مسلمانوں اور ان کی اگلی نسلوں نے وہیں رہنا ہے ان کے جمہوری حقوق کا احترام ضروری ہے اگر ایسا نہ ہوا تو مسلمان ایک بار پھر ’’ تنگ آمد، بجنگ آمد‘‘ پر مجبور ہو جائیں گے اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے کسی نئی تحریک پاکستان کا آغاز بھی کرسکتے ہیں۔ مودی سوچ لیں وہ پانچ نہیں تو دس سال وزیر اعظم رہ جائیں گے اس کے بعد انہوں نے جانا ہے لیکن کیا اُن کے بوئے ہوئے کانٹے اُن کے جانشینوں کو نہیں چُننے پڑیں گے؟

مزید :

اداریہ -