قاتل ڈور سے پتنگ بازی: وزیر اعلیٰ سخت ایکشن لیں

قاتل ڈور سے پتنگ بازی: وزیر اعلیٰ سخت ایکشن لیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


راولپنڈی میں چار سالہ بچی پتنگ کی ڈور سے شدید زخمی ہو کر ہسپتال میں ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود جاں بحق ہو گئی۔ چار سالہ اُم حبیبہ اپنے والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر جا رہی تھی کہ کٹی ہوئی پتنگ کی ڈور اس کی گردن کے گرد لپٹ گئی۔ تشویشناک حالت میں اسے ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکی۔ سی پی او راولپنڈی نے تھانہ بیرونی صدر کے ایس ایچ او کو فوری معطل کر دیا۔ قاتل ڈور سے پتنگ بازی کے باعث اموات ہونے پر حکومت پنجاب نے پتنگ اڑانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن صوبے کے مختلف شہروں میں آسمان پر بڑی تعداد میں پتنگیں عموماً چھٹی کے دن دیکھی جا سکتی ہیں، جنہیں اڑانے کے لئے قاتل ڈور بھی استعمال ہوتی ہے چنانچہ ہر ہفتے بچوں کے علاوہ بڑے بھی زخمی ہوتے ہیں۔ بیشتر زخمیوں کی زندگی نہیں بچائی جا سکتی۔پتنگ بازی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے لیکن حکومتی دعوے دھرے رہ گئے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ایسے خونی واقعات کب تک ہوتے رہیں گے؟ اُم حبیبہ انتظامیہ کی نا اہلی اور بے حسی کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پتنگ اڑانے کی کسی بھی صورت اجازت نہ دی جائے۔ سانحہ ہونے پر تھانے کے ایس ایچ او کی معطلی سے بات نہیں بنے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو اس معاملے میں سخت ایکشن لینا چاہئے ۔

مزید :

اداریہ -