انتخابات اور عوام

انتخابات اور عوام
 انتخابات اور عوام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

وزیر اعظم نواز شریف کا موجودہ مہینے میں سندھ کا پانچواں دورہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آئندہ انتخابات کے سلسلے میں وہ اپنی حکمت عملی کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔ کراچی، ٹھٹھہ کے بعد اب حیدرآباد کا دورہ ہے۔ سندھ سے نواز لیگ کو قومی ا نتخابات کے نتیجے میں کوئی خاطر خواہ نمائندگی حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن ان کی جماعت کو مناسب تعداد میں ووٹ ضرور ڈالے گئے تھے اسی طرح جیسے تحریک انصاف اپنے حامی ووٹروں کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ نواز لیگ 2013ء کے انتخابات سے قبل ممتا ز بھٹو، غلام مر تضے جتوئی، لیاقت جتوئی، قادر مگسی، جلال محمود شاہ، ایاز لطیف پیلجو، شیرازی، ارباب ، پیر پگارو، و دیگر کو ساتھ ملا کر انتخابی حمایت حاصل کر سکی تھی لیکن نواز لیگ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد اکثر اتحادی نواز شریف کی سندھ کی سیاست میں عدم دلچسپی اور اتحادیوں پر عدم توجہ کی وجہ سے مخالف ہو گئے اور اکثر نے اپنی راہیں جدا کر لیں۔ پیر کے روز حیدرآباد دورے کے دوران نواز شریف کی کھانے پر ممتاز بھٹو اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ رسمی سی ملاقات رہی۔ کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔

ما ضی میں نواز شریف کے اتحادی سیاسی عناصر آپس میں بھی افہام پیدا نہ ہونے کی وجہ سے شکست سے دو چار ہوئے تھے۔ ہالہ میں مخدوم امین فہیم مرحوم کی کامیابی پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا جہاں عبدالرزاق میمن نے فنکشنل کے امیدوار کی حیثیت سے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کئے تھے۔انتخابات سے قبل، انتخابات کے دوران مختلف الخیال سیاسی عناصر انتخابات میں کامیابی کے ایک نکاتی ایجنڈا پر بھی متفق نہیں ہو سکے تھے اسی لئے امیداروں کی نامزدگی کے مرحلے میں ہی ان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے ۔ دھاندلی کا الزام لگانے کا شور تو اس وقت شروع ہوا جب نتائج آچکے تھے۔ کیوں نہیں ایسی حکمت عملی اختیار کی گئی کہ جس وقت دھاندلی ہو رہی تھی ، اسی وقت اس پر قابو پایا جاتا۔ بہر حال بظاہر 2018 ء انتخابات کا سال ہے، اسی لئے نواز لیگ کی قیادت سرگرم ہے، پیپلز پارٹی کی قیادت اپنی حکمت عملی پر عمل در آمد کر رہی ہے۔ پارٹی کا ایسے افراد کی شمولیت کا زور بھی رہا جو کسی طور پر انتخابات میں اپنا اثر استعمال کر سکتے ہیں۔ آصف زرداری کہہ رہے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری آئندہ وزیر اعظم ہوں گے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ بلاول کو وزیر اعظم بنوا کر دم لیں گے۔ جمعیت علما اسلام کے مولانا فضل الرحمان کو آئندہ حکومت سازی میں آصف زرداری کی منصوبہ بندی کی وجہ سے پیپلز پارٹی کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا۔ البتہ نواز شریف نے کارکنوں کے کنونشن میں جو تقریر کی ، وہ ایک طرح سے پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کی محاذ آرائی کے جاری سلسلے کا حصہ تھی۔ وفاقی وزیر سعد رفیق نے تو کھل کر کہا کہ میاں نواز شریف نے سندھ میں دستک دے دی ہے اور آئندہ انتخابات میں سندھ کو متبادل قیادت دیں گے اور حکومت سازی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور برخوردار بلاول بھٹو پنجاب آیا کریں ، ہمیں خوشی ہوتی ہے لیکن ہم نے بھی سندھ میں دستک دے دی ہے۔ سارے تبصرے اور سیاست اپنی جگہ لیکن ایک بات طے ہے کہ پاکستانی سیاست ابھی کئی ہچکولوں سے گزرے گی۔ پاناما کیس کا فیصلہ سامنے آنا ہے، اونٹ کو کسی کروٹ تو بیٹھنا ہی ہے، فیصلہ جو بھی آئے، جیسا بھی آئے، سیاسی بھونچال ضرور آئے گا۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ پاناما کے بعد سب ہی پنجاب کے دورے کریں گے۔ ہم پہلے کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ اپنی پارٹی کی تنظیم سازی کر سکیں۔


آئندہ انتخابات خواہ 2018ء میں ہوں یا اس سے قبل، مڈ ٹرم الیکشن کے امکان کو خارج تو نہیں کیا جا سکتا، انتخابی سیاست کا میدان پاکستان کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا صوبہ پنجاب ہی بنے گا۔ جسے پنجاب میں برتری حاصل ہوگی و ہی وفاقی حکومت اور پنجاب میں حکومت سازی کر پائے گا۔ حکومت سازی کس سیاسی جماعت کے حصے میں آتی ہے، ایک لحاظ سے اہم معاملہ ہوگا لیکن پاکستان کے عوام کو بنیادی حقوق اور سہولتیں کون سی جماعت فراہم کر پاتی ہے، یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا۔ ایوان بالا (سینیٹ)کے چیئر مین رضا ربانی اس افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ تعلیم اور صحت کسی سیاسی جماعت کی ترجیح نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ ان کی اپنی پارٹی کی حکومت بھی اس میں شامل ہے۔ بات یہ ہے کہ پاکستانی سیاست پر جو افراد یا گروہ حاوی ہو چکے ہیں ، ان کا تعلق کسی طور پر بھی عوام سے نہیں بنتا ۔ انہیں یہ احساس تک نہیں کہ لوگ بنیادی سہولتیں نہ ملنے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج جناب جسٹس امیر ہانی مسلم کی یہ بات کہ پینے کا پانی، زہر آلود ہے، اور لوگ یہی پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ہولناک بات ہے نا۔ سیاسی رہنماؤں کو سیاست سے فرصت ملے تو دیکھ سکیں گے کہ عوام کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ حکومت وفاقی ہو یا صوبائی، سارے ہی لوگ سیاست میں جتے ہوئے ہیں۔ عام لوگوں کی فکر کسی کو بھی نہیں ہے۔ اگر ان حکومتوں کو فکر ہوتی تو محترم جج کو یہ نہیں کہنا پڑتا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سترہ جج ملک سنبھال لیں جو ممکن نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کبھی اداروں پر توجہ نہیں دی۔ اگر ادارے ٹھیک ہوجائیں تو معاملات آگے نہیں جائیں گے۔ ادارے ٹھیک کام کر رہے ہیں یا نہیں ، یہ تو ان سے پوچھا جائے جو ان اداروں کے ہاتھوں مر رہے ہیں۔ محترم جسٹس امیر ہانی مسلم یا دیگر جج، یہ تو تحقیقات کریں کہ ان کے ساتھی جج ناصر الدین سعید کی موت میں غفلت برتنے کا کِس حد تک ہاتھ ہے۔ انہیں کمرہ عدالت میں دل کا دورہ پڑا، انہیں لیاقت میڈیکل اسپتال لایا گیا جہاں ان کی موت واقع ہو گئی۔ ان کے اسپتال آنے کے بعد ان کا کیا علاج کیا گیا اور کتنی توجہ دی گئی، اس کے بارے میں باتیں سن کر تو لگتا ہے کہ انہیں لیاقت اسپتال لانا ہی غلط تھا۔ بہتر ہوتا کہ انہیں ہلال احمر کے ہسپتال لایا جاتا تاکہ ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں کراچی منتقل کردیا جاتا۔

محترم جج امیر ہانی مسلم ہوں یا دیگر جج صاحبان، مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران اس طرح کے تبصرے کرتے رہے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں حکمران کیا کرر ہے ہیں اور طرز حکمرانی کا معیار کیا ہے۔ اگر طرز حکمرانی بہتر ہوتی تو حکمران طبقہ اپنی جائیدادیں ملک میں رکھتا۔ دبئی میں جس بڑے پیمانے پر دولت مند پاکستانیوں نے سرمایہ کاری کی ہے ، کیا کوئی شک باقی رہتا ہے کہ انہیں اس ملک کے نظام حکومت، نظام انصاف پر یقین نہیں ہے۔ وہ اس ملک میں اپنی دولت کو محفوظ نہیں سمجھتے ہیں، وہ اس ملک کو دولت کمانے کا ذریعہ تو سمجھتے ہیں اور اپنی جائز یا ناجائز طریقوں سے کمائی ہوئی دولت اس ملک سے منتقل کرنے کو ہی محفوظ سمجھتے ہیں۔ چوں کہ اس عمل میں سب ہی برابر کے حصہ دار ہیں اسی لئے حکومت بھی کسی سے نہیں پوچھتی کہ انہوں نے بیرون ملک جو سرمایہ کاری کی ہے وہ رقم بیرون ملک کس طرح گئی اور کیا حکومت کی اجازت لی گئی اور اس پر کوئی ٹیکس ادا کیا گیا یا نہیں؟ غریبوں کے دکھ درد کا راگ الاپنے والے ، اپنا پیسہ باہر منتقل کرتے ہیں اور ہمیں دلاسے دیتے ہیں کہ وہ ہمارے درد کی دوا کریں گے۔ یہ دھوکہ بازی ہے، ڈگڈگی بجانے کا یہ کھیل بند ہونا چاہئے۔ ڈگڈگی پر عوام کو نچانے کا کھیل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ملک میں حقیقی انتخابی اصلاحات نافذ نہیں کی جاتی ہیں۔ تحریک انصاف کے تاریخی دھرنے کے دوران وزیر اعظم نے انتخابی اصلاحات کے لئے پارلیمنٹ کی جو کمیٹی تشکیل دی تھی اس کی کارکردگی ابھی تک سامنے نہیں آئی ۔ عمران خان کا یہ کہنا کہ اگر انتخابات کے اعلان سے قبل انتخابات کے سلسلے میں اصلاحات نہیں کی گئیں تو ان کی پارٹی اسٹریٹ پاور استعمال کرتے ہوئے انتخابات کا راستہ روکے گی۔ اس لحاظ سے قابل توجہ ہے کہ ایسے انتخابات کا عام آدمی کو کیا فائدہ؟ جس کے نتیجے میں موروثی سیاست کو ہی فرو غ ملے، دولت مند لوگ ہی نمائندگی کے اہل ٹھہریں اور پارلیمنٹ پر وہی گروہ قابض ہوجا ئیں جن پر پاکستان کو موجودہ صورت حال میں پہنچانے کا الزام کھلے عام عائد کیا جاتا ہے۔

مزید :

کالم -