اتر پردیش میں گوشت کے تاجروں کی غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال

اتر پردیش میں گوشت کے تاجروں کی غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دہلی(آن لائن)بھار تی ریا ست اتر پردیش میں غیر قانونی مذبح خانوں کے خلاف وزیر اعلی اور بی جے پی رہنما آدتیہ ناتھ یوگی حکومت کی کارروائی کی مخالفت میں گوشت کے تاجروں نے غیر معینہ مدت تک کیلئے ہڑتال کا اعلان کر د یا ہے ۔لکھنؤ میں گوشت اور مرغ کے تاجروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی کمیٹی کے ریاستی صدر چودھری اقبال قریشی نے میڈیا کو بتایا کہ ویسے تو 25 مارچ سے ہی ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن بہت سے لوگوں کے پاس پرانا سٹاک رکھا تھا اس لیے اسے فروخت کرنے کے بعد اب پیر سے تمام کاروباری ہڑتال کریں گے۔اقبال قریشی کا کہنا تھا کہ ہڑتال کے دوران گوشت کی تمام دکانیں بند رہیں گی اور مچھلی کاروباری بھی ان کے ساتھ ہڑتال میں شامل ہوں گے۔ وہیں گوشت تاجروں کی بعض دیگر تنظیموں نے بھی ہڑتال میں شامل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اقبال قریشی کا دعوی ہے کہ ان کی تنظیم پوری ریاست کی نمائندگی کرتی ہے۔ بھارت میں بڑے جانور کے گوشت پر ایک عرصے سے تنازع جاری ہے اور اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت کے بعد اس کے خلاف کارروائی جاری ہے ریاستی دارالحکومت لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں گوشت کی فراہمی میں کمی کے سبب بہت سے معروف ہوٹل متاثر ہوئے ہیں قبال قریشی کا کہنا ہے کہ 'لکھنؤ میں کل لائسنس کی تعداد 603 ہے۔ ان میں سے 340 لائسنس کی تجدید کی گئی۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں دکانیں بغیر لائسنس کے چل رہی ہیں اور لکھنؤ میونسپل نے بڑی تعداد میں ایسی دکانوں کو بند کرا لائسنس کو تسلیم نہیں کرتا لیکن کارروائی صرف ان دکانوں کے خلاف کی جا رہی ہے جو میونسپل کمشنر کی اجازت کے بغیر کھلی ہیں۔'انڈیا میں مذبح خانوں کے متعلق قانون سنہ 1950 کی دہائی کا ہے۔ جبکہ انھیں رہائشی علاقوں سے دور لے جانے کے بارے میں سپریم کورٹ کے علاوہ قومی گرین ٹربیونل بھی حکم جاری کر چکا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -