آپریشن ردالفساد میں گستاخان رسول کیخلاف ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کی جائے

آپریشن ردالفساد میں گستاخان رسول کیخلاف ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کی جائے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتان (خبر نگار خصوصی) ہائیکورٹ وڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشنز ملتان اورتحریک تحفظ ناموس رسالت نے آپریشن ردالفساد میں سب سے پہلے گستاخان رسول کوفتنہ فسادکا باعث ہونے کے سبب ترجیحی بنیادوں پرکارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بلا گرزکے بیرون ملک جانے کو افسوس ناک قراردیاہے۔جبکہ توہین رسالت کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلاء کو دھمکیوں کی بھی مذمت کی گئی ہے۔اس ضمن میں گزشتہ روز ہائیکورٹ بار ہال ملتان میں نمائندوں کی مشترکہ پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔جس میں خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس العربیہ کے مرکزی ناظم اعلی ٰقاری حنیف جالندھری نے کہا کہ گستاخی رسول سب سے بڑی دہشت گردی اورکرنے والاسب سے بڑادہشت گرد ہے اس لئے حکومت آپریشن ردالفساد میں پہلانقطہ گستاخی کرنے والوں کودہشت گرد قراردے کر کارروائی کرے کیونکہ یہ بلاگرز معاشرے کے لئے فتنہ وفساد کاباعث ہیں اوران بلاگرز کا بیرون ملک جا نا افسوس ناک ہے اس لئے ہمارامطالبہ ہے کہ بلاگرز کے خلاف خصوصی دفعات کے تحت مقدمات کا اندراج کرکے خصوصی عدالتوں میں مقدمات کو سماعت کے لئے پیش کیا جائے۔اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیرحاجی حنیف طیب ، ہائیکورٹ بار ملتان کے صدر شیر زمان قریشی ،ڈسٹرکٹ بار ملتان کے صدر محمد یوسف زبیر،ممبر مرکزی رویت ہلال کمیٹی علامہ خالد محمود ندیم، علماء کرام قاری احمد میاں ،علامہ عبدالحق مجاہد،،علامہ عنایت اللہ رحمانی ،محمد ایوب مغل،آصف محمود اخوانی نے کہاکہ سرکار کون و مکاں سیدنا محمد مصطفے کی ذات با برکات مسلمانان عالم کے دین اور ایمان کی شرط اول ہے اورآپ سے محبت ہمارا دین و ایمان ہے۔اور مسلمانان عالم کے ساتھ ساتھ مسلمانان پاکستان محسن انسانیت اور ان کے صحابہ کرام و ازاواج مطہرات کی توہین کسی طور پر بھی برداشت نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی کسی کو اظہار رائے کی آزادی کے نام پر آپ سرکار دو عالم کی ذات مقدس کی ذات کی توہین کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔کیونکہ رسول پاک کی ذات مقدسہ ہر مسلمان کیلئے کائنات میں موجود ہر شی پر مقدم ہے اور آپ پر ہر مسلمان کے ماں باپ بھی قربان ہیں۔شرکاء نے مزیدکہا کہ گزشتہ دنوں میں سوشل میڈیا پر جو توہین آمیز مواد اَپ لوڈ کیا گیا ہے اور اس کی حکومت کی جانب سے جو پر اسرار خاموشی اختیار کی گئی اس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔اس سلسلہ میں صرف اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک سچے عاشق رسول اور جذبہ ایمانی سے پر نور جج مسٹر جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور لاہور ہائیکورٹ کے عاشق رسول جج مسٹر جسٹس محمد قاسم خان صاحب نے اپنا کرداراحسن طریقے سے ادا کیا ہے اور ان تمام ملعونین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے جس پر پریس کانفرنس کے شرکاء انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔اور حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ان ملعونین ملزمان کو گرفتار کر کے فوری طور پر سزائے موت دے اور سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز پیجز کو فوری طورپر بلاک کرے بصورت دیگر اسکے سنگین نتائج ہونگے۔پریس کانفرنس میں مزیدکہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں توہین رسالت کے مقدمہ کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈووکیٹ چوہدری ذوالفقار علی سدھو اور ان کے ساتھی وکلاء کو نا معلوم افراد کی جانب سے جو دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہے اسے حکومت فوری طور پر روکے اور ان افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کرے۔ اس موقع پرہائیکورٹ وڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکر ٹریز صاحبزادہ محمد ندیم فرید،سید انیس مہدی،ممبران ایگزیکٹیو باڈی ، وکلاء ،تحریک تحفظ ناموس رسالت کے لیگل پینل کے اراکین چوہدری ذوالفقار علی سدھو،حافظ اللہ دتہ کاشف ،عظیم الحق پیرزادہ،اطہر عزیز چوہدری،رانا معراج خالد،سید اطہر حسن شاہ بخاری،یونس غازی،وسیم ممتاز،ظفر خان پنیاں،تحریک تحفظ ناموس رسالت کی جانب سیڈاکٹر اکمل مدنی،علامہ کاشف ظہور،حافظ نعیم رضوی،چوہدری ظفر اقبال آرائیں،قاری یعقوب حامدی،حافظ ظفر حامدی،شریف محمد،قاری عبدالطیف مہروی،عاشق علی قادری،اقبال نیازی،امجد ذیشان اور اسرار الحق مجاہد بھی شریک تھے۔