بھارت میں ایک اور سرسید چاہئیے

بھارت میں ایک اور سرسید چاہئیے
 بھارت میں ایک اور سرسید چاہئیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں میں انتخابات کا اعلان جنوری کے آغاز میں ہوا اور یہ عمل مارچ کی گیارہ تاریخ کو تکمیل پا گیا، پنجاب کے سوا باقی چار ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ یہ انتخابات 2019 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی سمت کا تعین کریں گے ایسے میں خاص طور پر اترپردیش میں فقید المثال کامیابی تو خود نریندر مودی کی پارٹی کے لئے بھی حیران کن رہی۔ اترپردیش کی 403، پنجاب کی 117، اتراکھنڈکی70، منی پور کی 60 اور گوا کی 40 نشستوں پر انتخابات ہوئے،ہم بھارت کی طرف تشویش کی نگاہ سے دیکھنے والے مسلمان تجزیہ نگار کہہ سکتے ہیں کہ بھارت کے عوام نے انتہا پسندی کوووٹ دیا ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے مجھے یوپی کے نتائج پر اس لئے بھی تشویش ہے کہ اس ایک ریاست کی آبادی ہماری کل آبادی سے بھی زیادہ ہے، وہاں بیس کروڑ انسان بستے ہیں ، اتر پردیش کے مسلمان اپنی حکمت عملی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دینے میں ناکام ہوگئے ہیں، اس ریاست کا وزیراعلیٰ ایک انتہا پسند ہندو یوگی آدتیہ ناتھ بن گیا ہے، جس نے آتے ہی بظاہر غیر قانونی مذبحہ خانوں پر پابندی کا حکم جاری کیاہے، پابندی کا عمل لفظ غیر قانونی کے ساتھ کچھ زیادہ برا نہیں لگتا مگر عملی طور پر اس نے ریاست کے مسلمانوں اور دلتوں کے لئے روزگار کے مسائل بھی پیدا کر دئیے ہیں، انتہا پسندہندووں نے مسلمانوں کے مذبحہ خانوں کوآگ بھی لگانا شروع کر دی ہے۔


اترپردیش میں یوگی کی کامیابی کے بعد ایک اور بھی اہم مسئلہ ہے اور وہ دہلی سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر دور پسماندہ شہر’ دیوبند ‘کا نام تبدیل کرنے کا ہے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی برجیش سنگھ نے دیو بند کا نام تبدیل کر کے شہر کا نام’ دیوورند‘ رکھنے کی تجویز دی ہے ۔ میں نے سیاسی تاریخ کے مختلف ماہرین سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ماضی میں بھی ایسی تجاویز آتی رہی ہیں مگر اس مرتبہ یہ کوشش سنجیدہ لگتی ہے۔ یہ شہر مسلمانوں کے دارالعلوم دیوبند کی وجہ سے مشہور ہے مگر یہ با ت طے شدہ ہے کہ دیو بند دارالعلوم کا نام نہیں تھا، یہ شہر کا نام تھا جو مسلمان دارالعلوم کے تعارف کا باعث بنا، اب بھی میرے اپنے علاقے میں موجود متعدد مساجداور مدارس دیوبندی مکتبہ فکر کے کہلاتے ہیں۔ اس شہر کے دکانداروں کی بڑی تعداد اب بھی ہندو ہے مگر دوسری طرف خریدار وں میں زیر تعلیم پانچ ہزار طالب علم اور ان کے میل ملاقات کے لئے آنے والے رشتے دار کہیں زیادہ ہیں۔دیوبند کا نام اسلامی تاریخ ، آبادی اور فلسفے کی بجائے مہابھارت سے جوڑا جاتا ہے ، ایک دلیل ہے کہ دیو بند لفظ ’ دیوی ون‘ سے بنا ہے، یہ جگہ ون یعنی جنگلوں سے بھری ہوئی تھی اور یہاں دیویاں اور دیوتا رہتے تھے۔ دوسری دلیل ہے کہ دیوبند کا نام دیوی ودن سے لیا گیا ہے کیونکہ درگا دیوی کی رہائش تھی۔ بی بی سی کی تحقیق کے مطابق دیوورند دھام بھی اس کے پرانے ناموں میں سے ایک تھا مگر ان دلیلوں پر سب سے بھاری دلیل یہی ہے کہ اب یہ قصبہ یا شہرجس دیوبند کے نام سے ہی جانا جاتا ہے وہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا دارالعلوم ہے۔ اب یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے شہر کی ایک لاکھ ساٹھ ہزار کی آبادی میں ساٹھ سے ستر فیصد مسلمان ہیں اورن کی اکثریت ان پڑھ ہے اور میری اصل بحث ہی یہی ہے۔


برجیش سنگھ حکمران جماعت کا رکن اسمبلی ہوتے ہوئے ایک غیر ضروری اور غیر اہم بحث میں پڑ گیا ہے۔ اسے دیکھنا ہوگا کہ دیو بندمیں ریلوے اسٹیشن، بنک اور بازار تو موجود ہیں مگررپورٹ کیا گیا ہے کہ اس شہر کی بیشتر سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، مظفر نگر سہارنپور ہائی وے پر بننے والے فلائی اوور کی وجہ سے یہاں ٹریفک بلاک رہتی اورگرد اور مٹی کے بادل چھائے رہتے ہیں، یہاں ڈھابے تو موجود ہیں مگر ہوٹل ، کیفے ، ریسٹورنٹ اور شاپنگ مال نہیں ہیں اور سب سے بڑھ کر گندے پانی کے نکاس کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ 70سرکاری ا ور نجی سکول ہیں، ان سے تعداد میں زائد مدرسے ہیں اور ایک سوسے زائد مساجد۔ دارلعلوم دیوبند کی ایک خاص اہمیت ہے جو اس کے پڑھائے جانے والے نصاب سے بھی جھلکتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا قیام 1866 میں ہوا اور مورخین اس کے قیام کو 1857 کی ناکام جنگ آزادی سے بھی جوڑتے ہیں۔ انگریز حکومت نے اس بغاوت کے بعد بہت سارے مسلم اداروں کو بند کر دیا تھا، ان مسلمان علمائے کرام کی تعداد سینکڑوں میں بیان کی جاتی ہے جنہیں پھانسی دے دی گئی تھی یا انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا اور زندہ بچ جانے والوں نے اس ادارے کو 30 مئی 1866 کو قائم کیا تھا۔ دارالعلوم کی تاریخ کا وجدان حاصل کرنے والے جان گئے ہوں گے ہمارے اس مکتبہ فکر کا تعلق بریلی کے اہلسنت دارالعلوم کے مقابلے میں جہادی سوچ سے زیادہ کیوں ہے، بریلی کے فارغ التحصیل بریلوی کہلاتے ہیں ۔ دیوبندی ہوں یا بریلوی ، دونوں بنیادی طور پر ایک ہی مکتبہ فکر سے ہیں، تشریحات نے کچھ فاصلے پیدا کئے ہیں۔


یوگی آدتیہ ناتھ کے جس حکم نے فوری طور پر عالمی شہرت حاصل کی ہے وہ ریاستی حکومت کی طرف سے’ اینٹی رومیو سکواڈ‘ بنانے کی ہے، وہ لڑکیوں کو انہیں چھیڑنے والے لڑکوں سے محفوظ رکھنے کے لئے پولیس فورس تعینات کر رہے ہیں اور جب میں اس کو ان کی طر ف سے غیر قانونی قرار دئیے جانے والے مذبحہ خانوں کی بندش کے ساتھ دیکھتا ہوں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ مذہب کے نام پر حکومتیں بنانے والے جہاں بھی ہوں وہ ایک جیسے ہی ہوتے ہیں اور اب اگر اس کو دیوبند کا نام تبدیل کرنے کے ساتھ جوڑ لیا جائے توہمارے ارد گرد بہت سارے مقامات ایسے ہیں جنہیں ہم نے ’’ قومیا‘‘ اور ’’ اسلامیا‘‘ لیا ہے لہذا جہاں اس نام کی تبدیلی فائدہ مند نہیں ہے وہاں اس تبدیلی کی مخالفت بھی اہم نہیں ہے۔ نام تبدیل کرنے کے لئے باولے ہونے والوں کو شہر کی حالت تبدیل کرنے بارے سوچنا چاہئے جو گذری صدی کا کوئی نمونہ دکھائی دیتا ہے اور نام تبدیل کرنے کی مخالفت میں اپنا وقت صرف کرنے والوں کو دیکھنا چاہئے کہ جس دارالعلوم سے پوری دنیا میں اسلامی سکالر ، ماسٹر ٹرینر کے طور پر جاتے ہیں ، دین کے علم کی شمع کو روشن کرتے ہیں اس کے ارد گرد بسنے والے مسلمانوں میں جہالت کا اندھیرا کیوں ہے، کیا یہ چراغ تلے اندھیرے والی بات نہیں ہے۔


اتر پردیش سمیت بھارت کی اہم ریاستوں کے انتخابی نتائج کا جائزہ لیجئے، غیر قانوبی مذبحہ خانوں پر پابندی سے دیوبند کے نام کی تبدیلی تک کے ایشوز کی سٹڈی کیجئے اور اس کے ساتھ ہی مولوی عبدالحق کے ا س مضمون کو بھی پڑھ لیجئے جو انہوں نے سرسید احمد خان پر تفصیل کے ساتھ لکھا، اس مضمون کی آخری قسط روزنامہ پاکستان کے ہفتہ وار میگزین ’ زندگی‘ میں اسی ہفتے شائع ہوئی ہے، ہوسکتا ہے کہ آپ اس دوران قائداعظم محمد علی جناح کی فراست کی بھی داد دیں جنہوں نے یہ جان لیا تھا کہ کسی جمہوری اور پارلیمانی نظام میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمان اپنے حقوق کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے سامنے یہ تھیوری بھی فروخت ہونے کے لئے پیش ہوجائے کہ ہندوستان کے اندر بہت سارے پاکستان جنم لینے کو تیار ہیں مگر میں اس تھیوری کو اس وقت تک خریدنے کے لئے تیار نہیں جب تک میرے پاس اس کے سیاسی، عقلی اور منطقی دلائل جمع نہ ہوجائیں۔ فی الحال تو مسلمانوں نے اپنی موجودہ تعداد کو بھی کامیابی سے استعمال کرنے کے ہر موقعے کو ضائع کیا ہے۔ لمبی لمبی داڑھیوں والے شعلہ بیاں مقرر کہتے رہیں کہ سرسید احمد خان غدار تھے مگر میں تو اسی نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ ہندوستان کے ان مسلمانوں کومذبحہ خانوں کی بندش اور دیوبند کا نام تبدیل کرنے کی مخالفت کرنے والی جذباتی ،آگ لگاتی قیادت کی بجائے ایک اور سر سید احمد خان وقت کی اہم ضرورت ہیں، ہوسکتا ہے اس کے تسلسل میں وہ وقت بھی آجائے جب ہندوستان کی مسلم سیاست میں ایک اور محمد علی جناح کی ضرورت بھی پیدا ہوجائے۔

مزید :

کالم -