وزیر اعظم کا حیدر آبا د میں یونیورسٹی اور میئر کیلئے ڈیڑہ ارب روپے کا اعلان ، میٹرو بس کی بھی خوشخبری

وزیر اعظم کا حیدر آبا د میں یونیورسٹی اور میئر کیلئے ڈیڑہ ارب روپے کا اعلان ، ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

حیدرآباد(بیورو رپورٹ/ مانیٹرنگ ڈیسک / ایجنسیاں)وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے حیدرآباد میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنانے، آئندہ سال میٹرو بس سروس چلانے ،حیدرآباد کے بلدیاتی نمائندوں ( میئر، ڈپٹی میئر )کے لیے 50 کروڑ روپے ،حیدرآبادیونیورسٹی کے لیے بھی فوری طور پر 100 کروڑ روپے دینے، اور میٹرو بس چلانے کی خوشخبری کا اعلان کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ملک بھر سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم اور اسے اس کی آخری سانسوں تک پہنچا کر دم لیں گے،وہ وقت دورنہیں جب ملک سے مکمل بے روزگاری کاخاتمہ ہوجائیگا، حیدرآباد میں اچھے تعلیمی ادارے اور ہسپتال بنائیں گے ، بلوچستان ترقی کی جانب گامزن اور سی پیک کا فائدہ پورے ملک کو پہنچ رہا ہے۔ اب نیا پاکستان بن رہا ہے، 2013 میں جب اقتدار سنبھالا تو پاکستان کے حالات بہت خراب تھے، ملک بھر میں کہیں سکون نہیں تھا۔ الحمدللہ آج ہم نے دہشتگردی کی کمر توڑ دی ہے۔ کراچی کے حالات بھی بہتر ہو گئے۔ اب لوگ باہر نکلنے سے نہیں ڈرتے۔ آج اس شہر میں امن ہے، لوگ اطمینان سے اپنی زندگی جی رہے ہیں اور کاروبار کر رہے ہیں، بلوچستان میں بھی دہشتگردی کا راج تھا لیکن آج وہاں بھی امن ہے۔ ہم انشا اللہ پاکستان سے دہشتگردی کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ اگلے سال ملک بھر سے لوڈشیڈنگ کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد میں ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ، ڈاکٹرآصف کرمانی ، سنیٹرراحیلہ گل مگسی، سنیٹرنہال ہاشمی، محمداسماعیل راہو، پیرشاہ محمدشاہ اور دیگرصوبائی و مقامی عہدیدار موجودتھے۔وزیر اعظم نے کہاکہ میرے پاس آپ کے جوش وجذبے کی تعریف کرنے کیلئے الفاظ نہیں ۔ یہی جوش وجذبہ بلوچستان میں بھی دیکھ چکا ہوں۔ وزیر اعظم نے حیدر آباد کی حالت زار پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس شہر میں آج بھی پینے کا صاف پانی نہیں،سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ بچوں کیلئے سکول اور ہسپتال نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں حیدر آباد میں موٹر وے اور یونیورسٹی کیوں نہیں بنائی گئی؟ جب یہ ووٹ مانگنے آئیں تو ان سے پوچھو کہ انہوں نے آپ کے کون سے معاملات کو ٹھیک کیا ہے؟ جب ہمیں ذمہ داری ملی تو اسے فرض سمجھ کر اپنا کام پورا کیا۔ ہم توانائی بحران کے لئے ایمرجنسی اقدام نہ اٹھاتے تو معاشی طور پر پاکستان کا برا حال ہوتا۔ پاکستان میں ہونے والی 16 ،16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کو بتدریج کم کیا جو انشا ء اللہ اگلے سال ختم ہو جائے گی۔ کراچی سے حیدر آباد موٹر وے پہنچ رہی ہے جو سکھر تک جائے گی۔ وزیر اعظم نواز شریف نینے کہاکہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان سے غربت اور جہالت کا خاتمہ ہوگا۔ ملک میں تعلیمی انقلاب آئے گا۔ حیدر آباد سے موٹر وے سکھر اور پھر ملتان جائے گی۔ موٹر وے سے کراچی سے پشاور ایک دن میں پہنچیں گے۔پاکستان بدل رہا ہے، ترقی کر رہا ہے۔ اس سے پہلے کوئی غیر ملکی سرمایہ کار کراچی یا پاکستان آنے کو تیار نہیں تھا۔2013 تک برا حال تھا۔ ہر طرف بے چینی تھی۔ کراچی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی جاتا ہوں تو ہر جگہ کچرے کے ڈھیرے اور دھول ہی دھول ہے۔انہوں نے کہا کہ دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کر رہا ہوں، جگہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو جانا پڑا، میں ان سے معذرت کرتا ہوں، پھر حیدرآباد آؤں گا اور دل کی باتیں کروں گا۔وزیراعظم نے حیدرآباد میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنانے، آئندہ سال میٹرو بس سروس چلانے اور حیدرآباد کے بلدیاتی نمائندوں ( میئر، ڈپٹی میئر )کے لیے 50 کروڑ روپے سمیت حیدرآبادیونیورسٹی کے لیے بھی فوری طور پر 100 کروڑ روپے دینے، اور میٹرو بس کی خوشخبری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم اور اسے اس کی آخری سانسوں تک پہنچا کر دم لیں گے،وہ وقت دورنہیں جب ملک سے مکمل بے روزگاری کاخاتمہ ہوجائیگا، حیدرآباد میں اچھے تعلیمی ادارے اور ہسپتال بنائیں گے ، بلوچستان ترقی کی جانب گامزن اور سی پیک کا فائدہ پورے ملک کو پہنچ رہا ہے۔ کراچی دہشت گردی کا شکارتھا، آج وہاں امن اورسکون ہے، حیدرآباد میں بھی دہشت گردی کوختم کردیاہے، دہشت گردی کی کمرتوڑدی ، ملک بھر سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم اور اسے اس کی آخری سانسوں تک پہنچا کر دم لیں گے۔ ہیلتھ کارڈ کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلایا جارہا ہے تاکہ غریب کو علاج معالجے کے لیے گھر نہ بیچنے پڑیں اور وہ قرض میں نہ ڈوبیں، ہیلتھ کارڈ کے حوالے سے ازخود تحفہ حیدر آباد کے غریب عوام کیلئے لیکر آیا ہوں،ٹیمیں سروے کر لیں تو جلد ہیلتھ کارڈ پروگرام کی سربراہ مریم نواز حیدرآباد آئیں گی اور اپنے ہاتھوں سے لوگوں میں ہیلتھ کارڈ تقسیم کریں گی۔ میں اس جوش و جذبے کی اب کیا تعریف کروں،میرے پاس الفاظ نہیں اور کن الفاظ میں تعریف کروں،دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتاہوں،میرا سلام قبول کریں ،ابھی جب ہم جہاں آرہے تھے توبہت سارے نوجوان اور بہنیں واپس جارہے تھے،مجھے افسوس ہے اس لئے ان سے معذرت کرتا ہوں،حیدر آباد پھر آؤں گا ان سے ملوں گا اور دل کی باتیں کروں گا،یہاں لوگوں کا جوش و جذبہ تبدیلی کا پیش خیمہ نظر آرہا ہے،یہ جوش و جذبہ ٹھٹھ او ربلوچستان،پنجاب اور خیبر پی کے میں بھی دیکھ چکا ہوں،پاکستان تبدیل ہورہا ہے اور نیا پاکستان بن رہا ہے2013 ء میں کمر باندھی اور ارادہ کیا کہ مسائل ختم کرنے ہیں،دہشتگردی کی کمر توڑ دی ہے،کراچی دہشتگردی کا شکار تھا،آج امن ہے اور سکون ہے،کاروبار ہورہا ہے،گھروں میں لوگ خوف زدہ نہیں ہیں،حیدر آباد بھی کراچی کا ہمسایہ ہے اور یہاں سے بھی دہشتگردی کو ختم کردیا ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ جب کوئی ان سے ووٹ مانگنے آئے تو وہ ان سے پوچھیں کہ ووٹ کس بنیاد پر مانگا جارہا ہے؟ بلوچستان کے اندر بھی ترقی ہورہی ہے،سی پیک کے فائدے پورے ملک کوپہنچ رہے ہیں،وہ وقت دور نہیں جب پاکستان سے غربت،جہالت کا خاتمہ ہوگا،جگہ جگہ کالج یونیورسٹیاں بنیں گی۔ جو موٹروے اب بن رہی ہے،یہ موٹروے پہلے کیوں نہیں بنی؟ مشرف کی حکومت تھی،پی پی کے دور میں موٹروے کیوں نہیں بنی؟ یونیورسٹی کیوں نہیں بنی ؟ ہیلتھ کارڈ کیوں نہیں دیئے گئے؟ بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔سندھ کو پسماندہ دیکھ کر ، کراچی میں کوڑے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں،دھول ہی دھول ہے،ایک زمانے میں 4 مہینے کراچی میں رہ کر کورس کیا ، اس وقت کے کراچی اور اب میں زمین آسمان کا فرق ہے،تب امن اور صفائی تھی مگر اب نہیں، کوئی غیر ملکی کاروباری کراچی آنے کیلئے تیار نہیں تھا،پرسکون شہر کی طرف کراچی پھر بڑھتا نظر آرہاہے،کراچی پاکستان کا بہترین شہر بنے گا کیونکہ کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے یہ پھلے پھولے گا تو پاکستان بھی ترقی کریگا۔مشرف نے کراچی کو دہشت گردی کے حوالے کیا،پیپلز پارٹی نے ملک کو اندھیروں میں ڈبو دیا۔ ملک میں بے چینی اوراضطراب تھا ٗدہشتگردی کی وجہ سے کراچی میں کوئی غیر ملکی آنے کیلئے تیار نہ تھا ٗ اب پھر غیر ملکی سرمایہ کار آرہے ہیں ٗ سی پیک کے فائدے پورے ملک کو پہنچ رہے ہیں ۔ حیدر آباد میں جلد یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھیں گے ٗ عالمی سطح کا ائیر پورٹ بنے گا جب موٹر وے کا منصوبہ شروع کیا تھا ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ موٹر وے ملتان جائیگا ٗ حیدر آباد جائیگا اور کراچی جائیگا اس زمانے میں میرا خواب تھا ٗ1999کے بعد آج 2017آگیا ہے ایک انچ موٹر وے آگے نہیں بنی ٗکسی نے اس بارے میں سوچا ہی نہیں ٗپاکستان پر حکمرانی کر نے والوں نے پاکستان کو اندھیروں میں ڈبو دیا ہے ٗجو بجلی کا حال پاکستان میں ہوا مجھے نہیں پتہ کہ ایسا کسی اورملک میں ہوا ہو بجلی کی حالت اتنی خراب تھی کہ نہ مزدور چین سے سو سکتا ہے ٗ نہ کاشتکار ٹیوب ویب چلا سکتا ہے ٗ نہ مزدور کام کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی کاروبار کر سکتا ہے اور ملک میں بجلی نا پید ہوگئی ٗخدانخواستہ ہم ایمر جنسی اقدامات نہ کرتے تو آج پاکستان کا معاشرتی اور اقتصادی طورپر بہت برا حال ہوتا ٗ ہم نے اپنا فرض سمجھا ہے یہ سوالات آپ کو حکمرانوں سے پوچھنا چاہئے ان سے کہنا چاہیے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکمران بنایا ٗآپ نے پاکستان کی حالت کیا کر دی ہے ؟یہ جائز سوال ہے سب کو پوچھنا چاہیے جب لوگ ووٹ مانگنے آتے ہیں تو عوام کو پوچھنا چاہیے کہ آپ نے کونسے ملکی معاملے ٹھیک کئے ہیں اس کے بعد پھر ووٹ کا فیصلہ کر نا چاہیے کہ ووٹ کا کون حق دار ہے ، بجلی کا معاملہ ہم ٹھیک کررہے ہیں ٗ موٹر وے کراچی سے حیدر آباد پہنچ رہی ہے اور یہ چھ رویہ سڑک بن رہی ہے جو پاکستان کی ایک بہترین سڑک ہے یہ حیدر آباد سے سکھر جائیگی اور پھر سکھر سے ملتان جائیگی اور پھر یہ موٹر وے لاہور پہنچے گی ، موٹر وے بننے کے بعد لوگ صبح کا ناشتہ حیدر آباد میں کیا کرینگے ٗ دوپہر کی چائے لاہور میں پئیں گے اور کھانا اسلام آباد کھائینگے جبکہ عشاء کی نماز پشاور پڑھیں گے پورے ایک دن میں آپ پاکستان کے شہروں میں پہنچیں گے یہ کوئی چھوٹی بات ہے ؟یہ کام ہمارے دور سے پہلے ہوناچاہیے یہ نہیں ہوا ہے ۔ بلوچستان میں بہت سڑکیں بن رہی ہے ٗ کوئٹہ سے گوادر ٗ پشاور اور مانسہرہ کی طرف سڑکیں ہی سڑکیں بن رہی ہے پاکستان کا اندرونی نقشہ تبدیل ہورہا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان کا دنیا میں نام ہوگا ، حیدر آباد کے مسائل سے اتفاق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نواز شریف جو بات کرتا ہے اسے پورا کرتا ہے انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بجلی اور سوئی گیس ملے گی ۔ ہیلتھ کارڈ کا دائرہ پورے ملک میں پھیلایا جارہا ہے ۔
نواز شریف

مزید :

صفحہ اول -