انتخابی مہم کا ناک نقشہ چند دن میں پوری طرح واضح ہو جائیگا

انتخابی مہم کا ناک نقشہ چند دن میں پوری طرح واضح ہو جائیگا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

یہ اگر انتخابی مہم نہیں بھی ہے تو بھی اسے یہ روپ دھارتے زیادہ دیر نہیں لگے گی کیونکہ اس مہم میں وہ تمام جراثیم موجود ہیں جو ایک انتخابی مہم میں ہوتے ہیں، وہی بلند بانگ دعوے، وہی اپنی کامیابی کے بارے میں حد سے بڑی ہوئی تعلی بلکہ تعلیاں، دوسروں کو ہیچ جاننے کی وہی روش، مخالفین کو ’’لگ پتہ جائیگا‘‘ جیسے ڈراوے اور یہ دعوے کہ حکومت ہماری ہوگی، وزیراعظم ہمارا ہوگا، صدر بھی ہمارا ہوگا، یہ سب کچھ ایک انتخابی مہم میں ہوتا ہے، لیکن ان دعووں کا تجزیہ کریں تو کہنا پڑتا ہے وزیراعظم کا عہدہ ایک ہے اور اس پر نظر گاڑنے والے متعدد ہیں، اس لئے بالآخر سہاگن تو وہی ہوگی جسے پیا چاہے گا لیکن انتخابی مہم کی اٹھان سے لگتا ہے کہ اب پورا ایک سال ہمیں بیانات اور تقریروں کی ایسی ہی پھلجڑیاں دیکھنے اور سننے کو ملیں گی۔
اس مہم کو انتخابی مہم اس لئے بھی کہنا پڑتا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف بنفس نفیس سندھ کے بڑے شہروں کے دوروں پر ہیں، تازہ ترین دورہ حیدرآباد کا ہے جہاں انہوں نے ڈیڑھ سو ارب کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا جن میں حیدرآباد میں یونیورسٹی بنانے کا اعلان بھی شامل ہے۔ اب آپ حیران ہوں گے کہ آج کے دور میں ایک یونیورسٹی بنانے کی اتنی زیادہ اہمیت کیا ہے جبکہ نجی اور سرکاری شعبے میں ملک کے اندر دو سو سے زیادہ (یا کم و بیش) یونیورسٹیاں ہیں۔ ایک اور یونیورسٹی بنا دینا کون سی بڑی بات ہے، لیکن حیدرآباد کی حد تک یہ بات اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس شہر کے باسی سالہا سال سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ شہر کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں سرکاری شعبے میں ایک اور یونیورسٹی قائم کی جائے، لیکن یہ مطالبہ پورا نہیں ہو رہا تھا، ایک موقع پر تو یونیورسٹی بنانے کا اعلان ہوتے ہوتے رہ گیا۔ اگر آپ تفصیلات جاننا چاہیں تو فلیش بیک کرنا ہوگا، راجہ پرویز اشرف ایک حادثے کے نتیجے میں پاکستان کے وزیراعظم بن گئے تھے، حادثہ یہ ہوا تھا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے (وزیراعظم) یوسف رضا گیلانی کو حکم دیا تھا کہ وہ سوئس حکام کو آصف علی زرداری کے مشہور زمانہ سوئس اکاؤنٹس کے بارے میں خط لکھیں، یہ وہ مقام تھا جہاں گیلانی کے پر جلتے تھے چنانچہ انہوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ آصف علی زرداری صدر ہیں ان کے خلاف اندرون ملک اور بیرون ملک کوئی کیس نہیں چل سکتا اس لئے وہ خط نہیں لکھیں گے اس پر ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلا اور انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا، ان کی جگہ راجہ پرویز اشرف وزیراعظم بنائے گئے، بطور وزیراعظم وہ حیدرآباد کے دورے پر گئے، اس وقت ڈاکٹر عشرت العباد سندھ کے گورنر اور قائم علی شاہ وزیراعلیٰ تھے۔ گورنر عشرت العباد چاہتے تھے کہ وزیراعظم اس موقع پر حیدرآباد میں سرکاری شعبے میں ایک اور یونیورسٹی بنانے کا اعلان کریں، وزیراعظم بھی اس کیلئے ذہنی طور پر تیار تھے اور شاید اعلان ہونے ہی والا تھا کہ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کے کان میں کچھ کہا اور پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی، لوگ منتظر رہے، اعلان نہ ہوسکا، بعد میں جب لے دے شروع ہوئی تو بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض حسین میدان میں آئے اور انہوں نے گورنر عشرت العباد کی موجودگی میں اعلان کیا کہ وہ کراچی اور حیدرآباد میں دو یونیورسٹیاں بنائیں گے، انہوں نے دونوں کے نام بھی رکھ دیئے تھے، اب شاید نام بدل گئے ہوں کیونکہ پہلے جو نام رکھے گئے وہ اس وقت کے تقاضوں کے مطابق تھے۔ اب ہواؤں کا رخ بدلا ہے تو پرانے ناموں کی تختیاں بھی تیز ہواؤں میں اڑ اڑا گئی ہیں اور نئے ناموں کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ ہمیں یاد آیا کہ ’’خلیج میں امریکی تھانیدار‘‘ شاہ ایران کی حکومت کا چل چلاؤ تھا، امام خمینی نے شاہ کے خلاف بھرپور تحریک چلا رکھی تھی، جس کے تیور بتاتے تھے کہ یہ شاہ کا تاج و تخت اڑا کر رکھ دے گی عین ان دنوں ہمارے حکمرانوں کو نہ جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے راولپنڈی کی اچھی بھلی مری روڈ کے نام کو شاہراہ پہلوی سے بدل دیا، حیرت کی بات یہ تھی کہ جس شاہ کے ہاتھ سے ان کا اپنا ملک اور اپنی پہلوی سلطنت نکل رہی تھی اور 2500 سالہ جشن شہنشاہیت کی تقریبات بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت نہ ہو رہی تھیں اسے پاکستان کی ایک سڑک پر شاہراہ پہلوی کی تختی سے کیا دلچسپی ہوسکتی تھی، لیکن ہمارے اس وقت کے حکمرانوں نے بہرحال شاہ سے زیادہ شاہ پرستی کا ثبوت دیا اور مری روڈ کا نام شاہراہ پہلوی رکھ دیا، ابھی اس تبدیلی کو زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ ایران میں انقلاب آگیا، شاہی خاندان بیرون ملک چلا گیا تو یہ محسوس ہوا کہ شاہراہ پہلوی کی نئی نئی تختی بے وقت کی راگنی ہے چنانچہ ایک دن خاموشی سے اس تختی کی جگہ دوبارہ مری روڈ لکھ دیا گیا، بعد میں سڑک کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ ملک ریاض حسین نے حیدرآباد اور کراچی میں جو دو یونیورسٹیاں بنانے کا اعلان کیا تھا ان کے ناموں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ماضی کا یہ قصہ ذرا طویل ہوگیا، بات یہ کی جا رہی تھی کہ حیدرآباد میں جس یونیورسٹی کا اعلان راجہ پرویز اشرف نہ کرسکے تھے اب یہ اعلان وزیراعظم نواز شریف کی زبانی ہوا ہے، کہنے والے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ نواز شریف کو چار سال بعد حیدرآباد کی یونیورسٹی یاد آگئی ہے لیکن اچھا کام جس وقت بھی ہو جائے، برا نہیں ہے۔ ہم عرض یہ کر رہے تھے کہ انتخابی مہم شروع ہوگئی ہے اور اب پھلجھڑیاں اور شرلیاں چھوڑی جاتی رہیں گی۔ کراچی کے بارے میں میئر وسیم اختر کی زبانی سنا ہے عالمی شہرت کا یہ شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اس کچرے کا تھوڑا سا حصہ بھی بحریہ ٹاؤن کی گاڑیاں اٹھا رہی ہیں، اب اگر کوئی پوچھے کہ بلدیہ کراچی کیا کر رہی ہے تو وسیم اختر کہیں گے ہمیں پیسے نہیں دیئے جا رہے اور اگر یہ پوچھ لیا جائے کہ جس پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے وہ کیا کر رہی ہے تو پوری پارٹی ناراض ہوگی۔ تاہم پارٹی کو بصد احترام یہ تو کہا جاسکتا ہے ’’تو درون در چہ کردی، کہ بیرون خانہ آئی‘‘۔
ناک نقشہ

مزید :

تجزیہ -