فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔۔ بتالیسویں قسط

فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔۔ بتالیسویں قسط
فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز ۔ ۔۔ بتالیسویں قسط

  

صبیحہ خانم پاکستان بننے کے بعد ہیروئن بنی تھی۔ اس سے پہلے ان کی والدہ تھیٹر میں کام کیا کرتی تھیں۔ نام تو ان کا اقبال بیگم تھا مگر بالو کے نام سے مشہور تھیں۔ گجرات کے ایک اچھے خاندان سے ا ن کا تعلق تھا مگر ایک خوبرو نوجوان کی محبت میں ایسی گرفتار ہوئیں کہ اپنی اور اس کی حیثیت بھی فراموش کر دی۔ یہ صاحب محمد علی تھے۔

اقبال بیگم کے ماں باپ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے بیٹی کو سمجھایا اور پابندیاں عائد کر دیں مگر وہاں تو معاملہ عشق تک پہنچ چکا تھا۔ محمد علی نے بالو کی یاد میں شاعری شروع کر دی اور سرعام گاتا پھرتا۔ ان گانوں کو پنجابی موسیقی میں ایک نئی صنف ’’ماہیا‘‘ کا نام دیا گیا۔ ’’ماہیا‘‘ دراصل عشقیہ اشعار ہوتے ہیں جنہیں ایک مخصوص طرز میں گایا جاتا ہے۔ یہ طرز بھی محمد علی کی اپنی ایجاد تھی۔ ادھر تو محمد علی کے کھلے عشق نے بدنام کر دیا تھا ادھر اقبال بیگم بھی سب کچھ ترک کر کے محمد علی کے ساتھ زندگی گزارنے پر تل گئی تھی۔ اس طرح اس نے اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ دیا۔ محمد علی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کوچوان تھا۔ تعلیم بھی نہیں تھی۔ اقبال بیگم سے شادی کے بعد عشق کے تقاضے نہ نبھا سکا اور بالو کو گزر اوقات کے لئے تھیٹر میں کام کرنا پڑا۔ محمد علی نے سب کام کاج چھوڑ دیا اور بیوی کی آمدنی پر گزارا کرنے لگا۔ ان دونوں کی محبت یا عشق کی نشانی صبیحہ کی صورت میں عالم وجود میں آئی۔ صبیحہ کے نانا اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے۔ بچپن میں صبیحہ نے کچھ وقت وہاں گزارابھی تھا مگر صدمات اور مایوسیوں نے بالو کو ٹی بی جیسے موذی مرض میں مبتلا کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ جوانی کے عالم میں ہی وفات پا گئی۔ صیحہ کے نانا نے بہت زور مارا کہ نواسی کو اپنے پاس رکھیں مگر محمد علی عدالت کے بل پر صبیحہ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس طرح صبیحہ نے ایک بے عمل‘ گمراہ اور خود غرض باپ کے زیر سایہ پرورش پائی۔ محمد علی کو شراب خانہ خراب نے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ کام کاج اول تو تھا نہیں اور جو تھا بھی تو وہ آمدنی شراب کی نذر ہو جاتی تھی۔ ان حالات میں اس لڑکی نے حالات کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا جسے کچھ عرصے بعد پاکستانی فلمی صنعت کی ’’خاتون اول‘‘ بننا تھا۔ مگراس کے لئے صبیحہ کو بہت پاپڑ بیلنے پڑے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صبیحہ نے جو بھی لیاقت یا مقام حاصل کیا۔ بذات خود اپنی کوشش‘ محنت اور لگن سے حاصل کیا۔

باپ کو تو مے نوشی سے ہوش نہ تھا۔ صبیحہ نے اپنے طور پر لکھنا پڑھنا سیکھا۔ عرفان کھوسٹ کے والد سلطان کھوسٹ‘ ریڈیو تھیٹر اور فلم کے فن کار تھے۔ محمد علی سے ان کی دوستی تھی۔ انہوں نے صبیحہ میں ذہانت کے جراثیم دیکھے تو اپنی نگرانی میں لے لیا۔ اس طرح جو تھوڑی بہت تعلیم و تربیت صبیحہ کو ملی وہ سلطان کھوسٹ کی بدولت ملی۔

اکتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

صبیحہ کو اس کا باپ ہیروئن بنانا چاہتا تھا۔ وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ گورا بے داغ رنگ‘ دلکش نقوش‘ سریلی آواز‘ کمی صرف یہ تھی کہ قد چھوٹا تھا۔ محمد علی کو صبیحہ کی صلاحیتوں سے نہیں کمائی سے مطلب تھا۔ اس لئے وہ اسے ہیروئن بنانے پر تلا ہوا تھا مگر اس زمانے میں فلم سازی برائے نام ہو رہی تھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ابتدائی سالوں میں جب صبیحہ کو فلم سازوں نے دیکھا تو اسے مسترد کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ہیروئن بننے کے قابل نہیں ہے مگر صبیحہ نے اپنی کوشش جاری رکھی۔

ہم نے صبیحہ کو پہلی بار رائل پارک میں سلطان کھوسٹ کے ساتھ پیدل جاتے ہوئے دیکھا‘ وہ برقعے میں ملفوف تھی۔ ایک صاحب نے بتایا کہ سلطان کھوسٹ کے ساتھ جو لڑکی ہے وہ صبیحہ ہے۔ اس وقت صبیحہ نے ایک دو فلموں میں کام کر لیا تھا مگر کوئی مقام حاصل نہ کر سکی تھی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس فلم ساز نے صبیحہ کو مسترد کر دیا تھا بعد میں اس نے منہ مانگے معاوضے پر صبیحہ کو اپنی کئی کامیاب فلموں میں کاسٹ کیا۔

صبیحہ نے جس فلم میں پہلی بار کام کیا وہ پنجابی فلم ’’بیلی‘‘ تھی۔ اس لحاظ سے بڑی فلم تھی کہ اس کے مصنف سعادت حسن منٹو اور ہدایت کار مسعود پرویز تھے۔ ایسے مایہ ناز مصنف اور قابل ہدایت کار کے اشتراک سے بننے والی اس فلم میں صبیحہ ہیروئن نہیں تھی۔ اس فلم کی ہیروئن شاہینہ تھیں۔ بلند قامت سرخ و سفید رنگت‘ دراز قد نیلی آنکھیں اور لمبوتر چہرہ۔ یہ شاہینہ کا سراپا تھا۔ وہ موسیقار رفیق غزنوی کی بیٹی تھیں اور اس رشتے سے سلمیٰ آغا کی قرابت دار بھی سمجھ لیجئے۔ شاہینہ نے پاکستان کی بعض ابتدائی فلموں میں کام کیا تھا مگر کامیاب نہ ہو سکیں اور پھرا چانک غائب ہو گئیں۔ ’’بیلی‘‘ میں شاہینہ کے مقابلے میں سنتوش کمار ہیرو تھے۔ صبیحہ نے اس فلم میں ایک بے حد معمولی سا کردار کیا تھا۔ ’’بیلی ‘‘ کے موسیقار رشید عطرے تھے۔ا س کے باوجود یہ فلم بری طرح فلاپ ہو گئی۔ اس کی موسیقی بہت اچھی تھی۔ باقی کوئی چیزبھی قابل ذکر نہ تھی۔ جب فلم ریلیز ہوئی تو تماشائیوں نے پہلے شو میں ہی فرنیچر توڑ دیا اور بہت اودھم مچایا۔ یہ اس زمانے کا دستور تھا کہ اگر فلم بینوں کو فلم پسند نہیں آتی تھی تو وہ سنیما کا فرنیچر توڑ دیا کرتے تھے۔ سیٹوں کی گدیاں چاقو سے کاٹ دیتے تھے بلکہ بعض اوقات اسکرین بھی پھاڑ دیا کرتے تھے۔

’’بیلی‘‘ کے بارے میں ایک لطیفہ بھی مشہور ہے۔ وہ یہ کہ ’’بیلی‘‘ کے پہلے شو میں مسعود پرویز او ر رشید عطرے بھی فلم دیکھنے پہنچ گئے اور اوپر بالکونی میں بیٹھ کر تماشائیوں کا رد عمل دیکھنے لگے۔ فلم بینوں کو سعادت حسن منٹو اور مسعود پرویز کی فلم سے کافی بلند توقعات وابستہ تھیں مگر فلم ان کی توقعات کے برعکس تھی۔ تھوڑی دیر تو انہوں نے برداشت کیا پھر بے چین ہو کر کروٹیں بدلنے لگے۔ اس کے بعد ہوٹنگ اور شور و غل شروع ہو گیا۔ یہاں تک کہ نوبت توڑ پھوڑ تک پہنچ گئی۔ تماشائیوں نے غصے میں آکر کرسیاں توڑنی شروع کر دیں۔ ادھر ہال میں تماشائیوں کا یہ عالم تھا اور ادھر بالکونی میں رشید عطرے صاحب اس تمام ہنگامے سے بے نیاز اپنی موسیقی میں کھوئے ہوئے تھے۔ جب کوئی نغمہ شروع ہوتا وہ مسعود پرویز کی توجہ اس طرف مبذول کراتے اور کہتے ’’مسعود صاحب‘ یہ پیس دیکھا آپ نے۔ وائلن اور طبلے کو کس طرح پیش کیا ہے۔ ‘‘

مسعود پرویز تماشائیوں کے رد عمل اور فلم کی ناکامی کی وجہ سے پریشان بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک بار پھر جب رشید عطرے صاحب نے ان سے کہا ’’مسعود صاحب‘ ذرایہ ستار کا پیس دیکھئے‘ کس خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ ‘‘

اسی وقت ٹوٹی ہوئی کرسی کا ایک پایہ کسی نے نیچے ہال میں سے اوپر اچھال دیا جو مسعود پرویز صاحب کے پاس آکر گرا۔ انہوں نے بڑے اطمینان سے وہ ٹکڑا اٹھا کر رشید عطرے صاحب کو دکھایا اور بولے ’’ذرا یہ پیس بھی ملاحظہ کر لیجئے۔‘‘

’’بیلی ‘‘ ناکام ہو گئی لیکن اس فلم میں صبیحہ کا ہونا نہ ہونا برابر تھا۔ کسی نے اس نئے چہرے کو خاص توجہ بھی نہیں دی۔ اس طرح صبیحہ کی پہلی فلم ناکامی سے دوچار ہو گئی تھی۔ مگر صبیحہ کی اداکاری اور شکل و صورت فلم سازوں کو پسند آگئی تھی۔ انہوں نے صبیحہ کو فلموں میں کاسٹ کرنا شروع کر دیا۔ دوسری فلم ’’ہماری بستی ‘‘ میں وہ نجمہ کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آئیں۔ نجمہ کے مقابلے میں یہ بھی ثانوی کردار تھا۔ تیسری فلم ’’دو آنسو ‘‘ انور کمال پاشا نے بنائی تھی مگر اس فلم کی ہیروئن شمیم تھیں۔ اس فلم کے دوران میں ہی انور کمال پاشا نے شمیم سے شادی کر لی تھی۔ اس فلم کے بعد صبیحہ نے امین ملک کی فلم ’’غیرت‘‘ اور ’’پنجرہ‘‘ میں کام کیا۔ یہ دونوں فلمیں نہ چل سکیں۔ ان میں صبیحہ کے ساتھ مسعود ہیرو تھے۔ مسعود بمبئی سے آئے تھے اور وہاں ان کی فلم ’’دیور‘‘ بہت زبردست ہٹ ہوئی تھی۔ بہت شریف‘ تعلیم یافتہ اور ملنسار آدمی تھے مگر اداکاری کے میدان میں قسمت زیادہ مہربان نہیں تھی۔ انہوں نے بعد میں چند اور فلموں میں کام کیا۔ فلم سازی اور ہدایت کاری بھی کی مگر ان کی کوئی فلم صحیح معنوں میں کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوئی۔ ان کی باتیں اور واقعات بھی کم نہیں ہیں۔ مگر اس وقت تذکرہ صبیحہ خانم کا ہو رہا ہے۔

صبیحہ کے حسن و جمال اور اداکارانہ صلاحیتوں میں تو کوئی کلام نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ناکام فلموں میں کام کرنے کے باوجود فلم سازوں نے انہیں یاد رکھا اور انہیں اداکاری کا موقع ملتا رہا مگر وقت مہربان نہ تھا۔ ان کی پہلی فلم جسے کامیاب کہا جا سکتا ہے انور کمال پاشا کی ’’غلام‘‘ تھی۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس فلم میں تین ہیروئنیں تھیں۔ راگنی‘ صبیحہ اور شمی۔ شمی اور صبیحہ اس زمانے میں ہم پلہ سمجھی جانے لگی تھیں۔ ان کی صورت شکل بھی اچھی تھی مگر ان کی اداکاری میں صبیحہ خانم والی بات نہیں تھی۔ ’’غلام‘‘ نے فلم بینوں اور فلم سازوں کو صبیحہ کی طرف مائل کر دیا۔ انور کمال پاشا نے بھی اس فلم سے شہرت حاصل کی۔ غالباً یہ پہلی اور آخری فلم تھی جس میں صبیحہ اور شمی نے ایک ساتھ کام کیا تھا۔ اس کے بعد وہ ایک دوسرے کی حریف بن گئیں اور چشم شروع ہو گئی۔ شمی تو جلد ہی سدھیر سے شادی کر کے فلمی دنیا سے کنارہ کش ہو گئی مگر صبیحہ اوج ثریا تک پہنچ گئیں۔

لیکن یہ وہ زمانہ تھا جب صبیحہ باقاعدہ اور مقبول ہیروئن بننے کے لئے ہاتھ پیر مار رہی تھیں اور حقیقی معنوں میں ہیروئن کے مقام پر فائز نہیں ہوئی تھیں۔

اس زمانے میں ہمارے ایک صحافی دوست مظہر یوسف زئی ایک فرمائش لے کر ہمارے پاس آئے۔ مظہر یوسف زئی اس زمانے میں کلیم عثمانی کے ساتھ مل کر ایک فلمی ماہنامہ ’’گل و خار ‘‘ شائع کیا کرتے تھے۔ دلچسپ اور سوشل قسم کے آدمی تھے جب کہ ان کے ساتھ کلیم عثمانی سنجیدہ اور ثقہ قسم کے مزاج رکھتے تھے۔ اس کے باوجود دنوں میں دوستی بھی تھی اور حصہ داری بھی۔ مزاجوں کے فرق کا فائدہ یہ تھا کہ ایک کی کمی دوسرا پوری کر دیا کرتا تھا۔ مظہر یوسف زئی آج کل بھی کراچی میں ہیں اور تمباکو کمپنی سے منسلک ہیں۔

مظہر یوسف زئی کی خواہش تھی کہ ہم ’’آفاق‘‘ کی فلمی صفحے پر صبیحہ خانم کا انٹرویو اور تصویر شائع کریں۔ مگر انہوں نے براہ راست مدعا بیان کرنے کے بجائے ہم سے تقاضا شروع کر دیا کہ صبیحہ خانم کے گھر چل کر چائے پیو۔

ہم پہلے تو ٹالتے رہے مگر جب انہوں نے ناراضگی کا اظہار شروع کر دیا تو مجبوراً رضامند ہو گئے۔ انہوں نے دوسرے دن شام کا وقت مقرر کر دیا اور ہمیں لینے کے لئے دفتر میں آ گئے۔

اس زمانے میں صبیحہ خانم و کٹوریہ پارک کے ایک بنگلے میں رہنے لگی تھیں۔ وکٹوریہ پارک مال روڈ کے عقب میں ایک رہائشی علاقہ تھا جہاں پرانی طرز کے بنگلے بنے ہوئے تھے۔ یہاں کسی زمانے میں زیادہ تر اینگلوانڈین رہا کرتے تھے۔ یہ جگہ ہمارے دفتر کے نزدیک ہی تھی۔ ہم پیدل ہی مظہر یوسف زئی کے ساتھ وکٹوریہ پارک چلے گئے۔

ایک پرانے لیکن صاف ستھرے بنگلے میں لے جا کر انہوں نے ہمیں بٹھا دیا اور خود اندر جا کر ہمارے آنے کی اطلاع کر دی۔ ڈرائینگ روم میں معمولی سا صوفہ سیٹ رکھا ہوا تھا۔ پردے بھی لٹکے ہوئے تھے۔ فرش پر قالین نہیں تھا لیکن کمرے میں گلدستے وغیرہ بڑے سلیقے سے سجائے گئے تھے۔ جو مکینوں کی خوش ذوقی کا مظہر تھے۔ ہم مظہر یوسف زئی کے ساتھ بیٹھے گپ شپ کرتے رہے۔ اتنی دیر میں پردہ ہٹا اور صبیحہ خانم گہرے سبز رنگ کی ساڑی میں ملبوس اندر داخل ہوئیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ہم نے صبیحہ کو قریب سے دیکھا تھا۔ وہ حسن و صحت کا نمونہ نظر آ رہی تھیں۔ فلموں کے مقابلے میں اصل زندگی میں وہ زیاہ دلکش نظر آئیں۔ گورا رنگ‘ خوبصورت ناک نقشہ‘ بات کرنے کا شائستہ انداز اورگہرے سبز رنگ کی ساڑھی میں وہ بہت پرکشش نظر آرہی تھیں۔

ہم نے کھڑے ہو کر ان سے علیک سلیک کی۔ وہ بے تکلفی سے بیٹھ گئیں اور ادھر اُدھر کی باتیں شروع ہو گئیں۔کچھ دیر بعد چائے بھی آ گئی۔ انہوں نے چائے کے ساتھ پیسٹری وغیرہ کا بھی اہتمام کیا تھا۔ چائے کے دوران میں یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے پرائیویٹ طور پر میٹرک کا امتحان دینے کی تیاری کی ہے لیکن کوئی اسکول امتحان کے لئے ان کا داخلہ بھیجنے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے انگریزی پڑھنے کے لئے ایک اینگلو انڈین خاتون کی خدمات بھی حاصل کر رکھی تھیں جن کا نام ہمیں یاد نہیں رہا مگر انہوں نے مارڈن انداز اور طور طریقوں کے ساتھ ساتھ صبیحہ کو انگریزی بولنے کا ڈھنگ بھی سکھا دیا تھا۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صبیحہ آغاز ہی سے بہت ڈھنگ سے زندگی بسر کرنے کے منصوبے بنا رہی تھیں اور انہوں نے جو کچھ بھی حاصل کیا محض اپنی ذاتی کوشش اور محنت سے حاصل کیا۔ ان کا شوق دیکھا تو ہمیں بہت تعجب ہوا۔ اس سے پہلے ہم نے کسی ایکٹریس کو پڑھنے یا امتحان دینے کی خواہش میں مبتلا نہیں دیکھا تھا او ر نہ ہی اس کے بعد کوئی ایسی اداکارہ نظر آئی۔

مظہر یوسف زئی نے کہا ’’اگر مدرستہ البنات کی ہیڈ مسٹریس سے سفارش کی جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ یار تم تو صحافی ہو‘ تمہاری بات وہ ضرور مانیں گی۔ ‘‘

صبیحہ خانم نے بھی ملتجیانہ نگاہوں سے ہمیں دیکھا اور ہم نے وعدہ کر لیا کہ کوشش ضرور کریں گے۔

اس اثنا میں صبیحہ اٹھ کر اندر گئیں تو مظہر یوسف زئی نے ہم سے کہا ’’یار چائے پی لی‘ پیسٹری کھا لی دنیا بھر کی باتیں کئے جا رہے ہو‘ انٹرویو کیوں نہیں لیتے ؟ ‘‘

ہم نے کہا ’’کیا انٹرویو بھی لینا ہے؟‘‘

بولے ’’اور نہیں تو کیا۔ میں نے صبیحہ خانم سے خاص طور پر کہا تھا کہ تم ان کا انٹرویو ’’آفاق‘‘ میں چھاپوگے۔ دیکھا نہیں وہ انٹرویو کے خیال سے تیار ہو کر بیٹھی ہیں۔‘‘

ہم نے کہا ’’مگر تم نے پہلے تو بتایا نہیں تھا۔ ہم تو انٹرویو کے لئے بالکل تیار نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارے پاس کاغذ وغیرہ ہے۔‘‘

بولے ’’بے کار بہانے مت کرو۔ انٹرویو کے لئے تیاری کی کیا ضرورت ہے۔ تم کوئی اناڑی تو ہو نہیں۔ رہا کاغذ تو وہ ہم تمہیں دے دیں گے۔‘‘

ہم نے کہا ’’دیکھو بھائی‘ تم نے چائے پینے کے لئے کہا تھا انٹرویو کی بات نہیں ہوئی تھی۔ اب انٹرویو کسی اور وقت کر لیں گے کافی دیر ہو گئی ہے۔‘‘

ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی صبیحہ خانم دوبارہ کمرے میں داخل ہوئیں اور مظہر یوسف زئی نے ہمیں آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرنے شروع کر دیے کہ انٹرویو شروع کر دو۔ ہم انجان بن گئے۔ صبیحہ خانم سے ہم نے اجازت طلب کی اور وعدہ کیا کہ مدرستہ البنات کی ہیڈ مسٹریس سے ان کے بارے میں بات کریں گے۔ وہ منہ سے تو کچھ نہ بولیں مگر چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی کہ ہم نے ان کا انٹرویو نہیں لیا۔ پھر بھی بڑے اخلاق سے مسکرا کر انہوں نے ہمیں رخصت کیا اور بنگلے کے باہر تک رخصت کرنے آئیں۔

جاری ہے. تینتالیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -