’اس خاتون نے مجھے سمگلروں کے ذریعے اپنے گھر منگوایا اور پھر دو سال تک مجھے قید کرکے حاملہ کرنے کی کوشش کرتی رہی کیونکہ۔۔۔‘

’اس خاتون نے مجھے سمگلروں کے ذریعے اپنے گھر منگوایا اور پھر دو سال تک مجھے ...
’اس خاتون نے مجھے سمگلروں کے ذریعے اپنے گھر منگوایا اور پھر دو سال تک مجھے قید کرکے حاملہ کرنے کی کوشش کرتی رہی کیونکہ۔۔۔‘

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نیویارک (نیوز ڈیسک) خواتین پر مردوں کے مظالم کا رونا تو ہر روز رویا جاتا ہے لیکن بعض اوقات عورت ہی عورت پر ایسا ظلم ڈھادیتی ہے کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ ایک ایسا ہی واقعہ ترقی یافتہ ملک امریکہ میں پیش آیا جہاں ایک ادھیڑ عمر خاتون نے سمگلروں سے ایک نوجوان لڑکی خریدی اور اڑھائی سال تک اسے اپنی قید میں رکھ کر انتہائی شرمناک مظالم کا نشانہ بناتی رہی۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 47 سالہ خاتون ایسلا کلارک نے 26 سالہ میکسیکن لڑکی کو خریدنے کے لئے سمگلروں کو تین سے چار ہزار ڈالر (تقریباً تین سے چار لاکھ پاکستانی روپے) ادا کئے۔ میکسیکو کے علاقے گواڈا لاجارا سے تعلق رکھنے والی لڑکی جب ایسلا کے پاس پہنچی تو اسے قیدی بنالیا گیا۔ تب اسے پتہ چلا کہ ایسلا نے اسے اپنے خاوند کے بچے کی ماں بنانے کے لئے خریدا تھا۔

’مجھے 15 سال کی عمر میں اغوا کرکے جسم فروشی پر لگادیا گیا، اتنی سی عمر میں مجھے ایڈز جیسی بیماری ہوگئی، لیکن اب میں نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ میں آنے والے ان مردوں کو۔۔۔‘

متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ ایسلا زبردستی سرنج کے ساتھ اپنے خاوند کے سپرم اس کے جسم میں داخل کرتی تھی۔ جب وہ حاملہ نہ ہوپائی تو بعدازاں ایسلا نے اسے اپنے خاوند اور دیگر مردوں کے ساتھ جنسی فعل پر بھی مجبور کیا۔ اڑھائی سال کی قید کے دوران وہ اس سے گھر کے کام بھی کرواتی رہی اور بدترین تشدد کا نشانہ بھی بناتی رہی۔ مقامی چرچ کے ایک اہلکار نے شک پڑنے پر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد ایسلا کو گرفتار کرلیا گیا۔ ملزمہ کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور جرائم ثابت ہونے پر اسے 20 سال کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -