ہائی کورٹ کے ملازمین کی آﺅٹ آف ٹرن ترقیوں کے کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ہوگا،جسٹس انوار الحق

ہائی کورٹ کے ملازمین کی آﺅٹ آف ٹرن ترقیوں کے کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے حکم ...
ہائی کورٹ کے ملازمین کی آﺅٹ آف ٹرن ترقیوں کے کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ہوگا،جسٹس انوار الحق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹ میں ملازمین کی آو ٹ آف ٹرن تعیناتیوں اور ترقیوں کے معاملہ کا سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا.

بھارت بدترین دہشتگردی پر اتر آیا ،پاکستان اس پر خاموش نہیں رہ سکتا :سرتاج عزیز 

جسٹس انوار الحق نے یہ ریمارکس سپریم کورٹ کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ میں آو ٹ آف ٹرن ترقیوں اور بھرتیوں کو غیرقانونی قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے دائر لاہور ہائیکورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار اکمل خان کی درخواست کی سماعت کے دوران دیئے ۔ درخواست گزار کی طرف سے احسن بھون ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے اعلی عدلیہ میں آو ¿ٹ آف ٹرن ترقیوں اور بھرتیوں کا اصول طے کرتے ہوئے ایسی بھرتیاں اور ترقیاں ہمیشہ کیلئے غیرقانونی قرار دیدی ہیں، سپریم کورٹ کا یہ فیصلے تما م ہائیکورٹس پر لاگو ہونا ہے لیکن لاہو رہائیکورٹ کی انتظامیہ اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کر رہے ، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ میں ماضی میں سابق چیف جسٹس صاحبان نے صوابدیدی اختیارات اور قواعد وضوابط میں نرمی کرتے ہوئے سیکڑوںافسروں اور ملازمین کو بھرتی کیا اور درجنوں افسروں کو ترقیاں دے کر بھی نوازا گیا ،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آو ٹ آف ٹرن تعیناتیاںاور ترقیاں لینے والے افسروں کوان کے عہدوں سے برطرف کیا جائے اور انکی تنزلیاں کی جائیں، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ تاریخ سماعت پرعدالت نے رجسٹرار آفس کی ہدایت کی تھی کہ درخواست گزار کو آو ¿ٹ آف ٹرن ترقیاں لینے اور بھرتی ہونیوالے افراد کی فہرست فراہم کی جائے لیکن تاحال فہرست فراہم نہیں کی جا رہی ہے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کو دوبارہ ہدایت کی کہ درخواست گزار کو آو ¿ٹ آف ٹرن ترقیاں لینے اور خلاف ضابطہ بھرتی ہونیوالے افراد کی فہرست فراہم کی جائے ، عدالت نے مزید سماعت 31مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔

مزید :

لاہور -