گوادر: بھارتی تنقید کا نشانہ

گوادر: بھارتی تنقید کا نشانہ
گوادر: بھارتی تنقید کا نشانہ

  

بھارتی میڈیا ہمیشہ پاکستان مخالفت میں اپنی حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ چلتا ہے۔ اس میں چاہ بہار بندر گاہ کے حوالے ایک نیا جوش اور ولولہ دکھائی دے رہا ہے اور ساتھ ہی گوادر بندرگاہ منصوبے پر تنقید کے تیر چلا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا اس معاملے پر کافی شورمچا رہا ہے کہ بھارت نے بندرگاہ بنائی ہے جو گوادر پورٹ سے 75کلو میٹر دوری پر چاہ بہار میں ہے اور بھارت نے آفر کی ہے کہ آپ افغانستان اور پاکستان کو چھوڑیں۔

بائی پاس کریں اور آپ سنٹرل ایشیاء اور روس سے سیدھا آئیں ایران میں اور ایران سے چاہ بہار کی بندرگاہ میں داخل ہوں اور پھر یہاں سے آپ عرب ممالک سے ٹریڈ کریں۔ایشیا میں ٹریڈ کریں، افریقہ میں ٹریڈ کریں۔

اسکا مطلب ہندوستان نے رسائی کا سادہ اور محفوظ راستہ دے دیا،لیکن یہ حقیقت ہے چاہ بہار کی بندر گاہ 11میٹر سے زیادہ گہری نہیں اور 11میٹر گہری بندر گاہ کے اندر بڑے کنٹینر اور بحری جہاز آکرلنگر انداز نہیں ہوسکتے۔

یہاں دوہزار ٹن سے لیکر ڈھائی ہزار ٹن تک بحری جہاز لنگرانداز ہوسکتے ہیں۔ اسکے علاوہ چاہ بہار کی بندرگاہ کی برتھوں پر ایک وقت میں منفرد قسم کے جہاز وں کے لنگر انداز ہونے کی گنجائش نہیں ہے جب وہ آہی نہیں سکتے تو ٹریڈ کا کیا سوال ہے۔

یہ ممکن ہی نہیں کہ یہاں ٹریڈ ہوسکے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ بھارت جو ایران کو بندر گاہ بنا کردے رہا ہے اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔ گوادر اور سی پیک کے راستے میں رکاوٹیں حائل کرنے کے لئے بھارت کا ایک اور منصوبہ سامنے آیا ہے ،جس کے تحت سی پیک روٹ، گوادر کے ذریعے ہونے والی تمام تجارت، اس سے نکلنے والے تمام تجارتی جہازوں، پاکستانی اور چینی بحریہ پر چیک رکھنے اور گوادر پورٹ کی اہمیت ختم کرنے کے لئے بحیرہ عرب میں دو نئے سمندری پورٹ بنائے جائیں گئے جن پر بھارت کا کنٹرول اور اثر ورسوخ ہوگا۔

حال ہی میں بھارتی وزیراعظم مودی اور عمان کے سلطان قابوس کے مابین ایک ایم او یو پر دستخط کئے گئے، جس کے تحت عمان کی سمندری بندرگاہ دوقم پر بھارتی بحریہ کے جہازوں کو کسی معاوضے کے بغیر تیل بدلوانے اور لنگر انداز ہونے کی اجازت ہوگی ،جس سے بحیرہ عرب کے اس علاقے میں بھارت کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔ اس کے علاوہ بھارت اس ایم او یو پر دستخط ہونے کے بعد اس کو ایک معاہدے میں بدلنے کی کوشش تیز کردے گا ،جس کے تحت بھارت عمان کی اس بندرگاہ دوقم کو نہ صرف ترقی دے گا ،بلکہ مستقبل میں عمان سے اس کا کنٹرو ل لینے کے لئے بات چیت بھی کرے گا اس معاہدے کی روشنی میں پہلے مرحلے پر بھارتی بحریہ اس پورٹ کو استعمال کرے گی اور دوسرے مرحلے میں اس پورٹ کا کنٹرول حاصل کرے گی۔

دوقم کا فاصلہ گوادر سے 436 میل ہے۔ اس خوفناک بھارتی منصوبے کا انکشاف ہو اہے کہ ان دونوں بندرگاہوں کو بھارت نہ صرف گوادر پورٹ کو ناکام کرنے کے لئے استعمال کرے گا، بلکہ آنے والے تجارتی جہازوں کے علاوہ پاکستانی بحریہ اور چین کے جنگی جہازوں پر اس کی کڑی نظر ہوگی۔

چینی اخبار’’گلوبل ٹائمز‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ گوادر پورٹ کے بغض میں بھارت ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو اپ گریڈ کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت اس منصوبے کی آڑ میں اپنے دفاعی مقاصد پورے کررہا ہے اور خطے سمیت وسطی ایشیا تک اپنا اثر و نفوذ بڑھانا چاہتا ہے۔ بھارت ایران کو اپنے منفی عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کر رہا ہے پاکستان اور چین کے ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔

اخبارنے اپنے مضمون میں بھارت کی جانب سے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو توسیع دینے کے اعلان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس بندرگاہ کی تعمیر کے حوالے سے بھارت کے عزائم تعمیری نہیں تخریبی ہیں۔

اگرچہ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ علاقائی تجارت کے فروغ،اقتصادی ترقی ،قدرتی گیس کی فراہمی اور دیگر مقاصد کے لئے اس بندرگاہ کو توسیع دینا چاہتا ہے، لیکن اصل میں بھارت کے مقاصد دفاعی اور خطے پر اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لئے ہیں۔

وہ اس منصوبے کی آڑ میں پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبے گوادر بندرگاہ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ بھارت کی جانب سے چاہ بہار بندرگاہ میں دلچسپی گوادر بندرگاہ کے بغض کے باعث ہے۔

بھارت کی پریشانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق بھارتی وزیر مملکت منیش تیواڑی نے کہاہے کہ ایک چیز جو ہمیں واضح طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ایران میں چاہ بہار بندرگاہ ایک کمرشل انٹرپرائز ہے ،جبکہ گوادر بندرگاہ چین کا ایک خطرناک اسٹرٹیجک اقدام ہے، اس لحاظ سے ان دونوں منصوبوں میں واضح فرق ہے۔

چین ایسے اقدامات کے ذریعے خطے میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لئے کوشاں ہے۔ بھارت بھی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہوئے حالات کے مطابق اقدامات کے لئے سرگرم ہے۔

بھارت کے بحری ماہرین نے اس سلسلے میں اپنی حکومت کو خبردار کیا تھا جب چند ماہ قبل پاک چین مشترکہ بحری مشقیں گوادر کے ساحلوں کے قریب ہوئی تھیں۔

اسی سلسلے میں عمانی بندرگاہ دوقم کا معاہدہ اور اس سے قبل ایران میں چاہ بہار پورٹ کو حاصل کرنا بھارت کی پاکستان دشمنی، گوادر پورٹ کو ناکام کرنے اوربحیرہ عرب کے اس حصے میں بھارتی بحریہ کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی ایک سازش کا واضح ثبوت ہے۔

حال ہی میں دوقم بندرگاہ پر بھارت کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گذشتہ سال بھارت نے عرب سمندر کے مغرب میں اپنی آبدوزاسی بندرگاہ پر تعینات کی تھی۔ دوقم کی بندرگاہ عمان کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔

مزید :

رائے -کالم -