پاپولر لیڈرکا خوف !

پاپولر لیڈرکا خوف !
 پاپولر لیڈرکا خوف !

  



ہر مارشل لاء کسی جنرل کی ذاتی اکساہٹ اور کشیدہ کاری کا نتیجہ تھا، مگر ساکھ ادارے کی خراب ہوئی اور خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑا ۔ 99ء کی فوجی بغاوت بھی جنرل مشرف اور ان کے چند ساتھیوں کامنصوبہ تھا ،مگرنقصان پوری قوم نے اٹھایا ۔

اسی فوجی حکومت میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے 2006ء میں میثاق جمہوریت کیا اور فیصلہ کیا کہ آئندہ خفیہ اشاروں پر سیاست کاری نہیں کریں گے ،مگر بدقسمتی سے میثاق جمہوریت کرنے والے دو مقبول رہنماؤں میں سے ایک کو قتل کردیا گیا۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کی قیادت میں کامیابی حاصل کی ۔آصف زرداری نے پورے پانچ سال حکومت کی،کرپشن کی داستانیں زبان زد عام رہیں، مگر ان کو کسی نے نہیں چھیڑا ،کیونکہ انہوں نے مقتدر سرکار کی کسی پالیسی کو نہیں چھیڑا ۔

2013ء کے الیکشن میں اپنی کارکردگی کے ثمرات سمیٹتے ہوئے پیپلزپارٹی پنجاب اور خیبر پختونخوا سے فارغ ہوکر دیہی سندھ کے اپنے روایتی حلقوں تک محدودہوگئی،جبکہ نوازشریف واضح اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئے ۔

انہیں غلط فہمی ہوئی کہ اتنے بااختیار ہوگئے ہیں کہ مقتدر سرکار کو بھی قانون کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔انہوں نے پرویزمشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے کی کوشش کی تو دھرنے نے ایسا گھیراڈالاکہ انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔

انہیں یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ لاڈلے کا جو کردار انہوں نے بے نظیر بھٹو کے خلاف ادا کیا تھا،اب وہ کردار عمران خان کو مل چکا ہے ۔ا سکے باوجود انہوں نے مقتدر سرکار کو سمجھا نے کی کوشش کی کہ دنیا ہمیں دہشت گردی پرکلین چٹ دینے کو تیار نہیں،اس لئے کچھ ’’سٹرٹیجک اثاثوں‘‘سے ہاتھ اٹھا لیں،بات کچھ زیادہ بگڑ گئی تو نوازشریف کو نکالنے کا بگل بج گیا۔

نوازشریف کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ موجودہ سیاسی رہنماؤں میں سب سے زیادہ تجربہ کار ہیں،وہ تین بار وزیر اعظم رہے،دو بار قائد حزب اختلاف رہے، جیل اور جلاوطنی کاٹی، ہزاروں جلسوں سے خطاب کیا ،بلکہ وہ دوسرے اداروں کے سربراہوں سے بھی زیادہ تجربہ رکھتے ہیں۔

اس پس منظر میں نوازشریف کو دوسرے ریاستی اداروں سے ٹکراؤ اور ان کے نتائج کا بھی براہِ راست تجربہ ہے ،لیکن شائد انہوں نے تجربے کو بروئے کارآنے کا موقعہ نہیں دیا اور اپنے زود رنج مزاج کے تحت پرانی غلطیوں کوہی دہرایا۔انہیں جلتی پر تیل ڈالنے والے اپنے کوتاہ اندیش مصاحبین سے ہوشیار رہنا چاہئے تھا جن کے مشوروں نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے ۔

ہم غیر منتخب اداروں کے بااختیار ملازموں کے غیرجمہوری رویوں سے شکوہ نہیں کرسکتے ،بلکہ ان سے کسی جمہوریت دوست رویے کی توقع بھی حماقت ہے ۔ان کی ساری تربیت رہی، باس کے حکم کی بلاتامل بجاآوری میں رچی بسی ہوئی ہے۔

غیر منتخب اداروں میں طاقت کا سر چشمہ سب سے اوپر بیٹھاچیف ہوتا ہے، جبکہ منتخب اداروں میں طاقت کا سرچشمہ سب سے نیچے موجود عوام کو سمجھا جاتا ہے۔ منتخب سیاسی اداروں کی کون سی خامیاں،کمزوریاں اورخرابیاں ہیں جن سے شہ پاکر غیر منتخب ادارے اپنی حدود سے نکل آتے ہیں ؟سیاسی قیادت سننے،سمجھنے اور سوچنے کو تیار نہیں!

جمہوری ملک میں سب سے بالادست ادارہ پارلیمنٹ ہونا چاہئے ،مگر ہمارے ہاں یہ سب سے کمزور ادارہ ہے،اور اسے کمزور کرنے والے خود منتخب رہنما ہیں ۔پارلیمنٹ،منتخب نمائندوں کی قوت کا مظہر ہے ،لیکن بدقسمتی سے نوازشریف جولائی 2017ء سے پہلے تک 102اجلاسوں میں سے صرف چھ بار قومی اسمبلی میں تشریف لائے اور126دن دھرنے میں جانے والے عمران خان نے صرف دو بارقومی اسمبلی کو رونق بخشی۔

اسی طرح سیاسی رہنماؤں نے اپنی جماعتوں کو بھی مضبوط نہیں کیا۔انہوں نے جماعتوں کوذاتی جاگیرسمجھا اور بادشاہوں کی طرح چلایا،جہاں ولی عہد بادشاہت سنبھالنے کے لئے پہلے سے تیار بیٹھے ہیں۔کسی پاپولر جماعت کے اندر جمہوریت نہیں،نامزدگیاں کرکے الیکشن کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن کی شرط پوری کردی جاتی ہے۔

کیا طرفہ تماشا ہے کہ اتنے زیرک اور تجربہ کار رہنماؤں کو نظر انداز کرکے،تجربے سے عاری بچوں کو قیادت سونپ دی جاتی ہے،اور ساری پارٹی سر جھکائے کھڑی رہتی ہے۔یہی نہیں،جماعتوں کے اندر آزادئ رائے کا بھی کوئی تصور نہیں، ہر سطح پرسب اپنے سے بڑے لیڈر کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ،بلکہ اختلاف کرنے والے کا تمسخر اڑاتے ہیں ۔خوشامدکے وائرس نے نئی سوچ کا خاتمہ کردیا ہے ۔

جماعتوں کے اندرمشاورتی ادارے کام نہیں کرتے،پالیسی ساز ی کا کوئی عمل سنجیدگی سے نہیں ہوتااور نہ اپنے ارکان کو آگاہی دینے کا کوئی انتظام موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ڈسکشن کا معیار انتہائی پست ہوتا ہے ۔ ذاتی کوشش سے البتہ چند ارکان تیاری کرکے بہت اچھی تقریرکرتے ہیں ۔

ہمارے سیاسی نظام میں سب کی توپوں کا رخ سیاست دانوں کی طرف ہوتا ہے ۔ انہیں ہر کوئی برا کہہ رہا ہوتا ہے ۔وہ خود بھی ایک دوسرے پرالزامات کا گنداچھالتے ہیں،ایک دوسرے کے عیب کرید کرید کر دکھاتے ہیں،میڈیا بھی مصالحے لگا لگا کردن رات سیاست دانوں پرہی سیاہی ملتا ہے۔سب کی کوششوں کی برکت سے یہاں ایسا لگتا ہے کہ سیاست دانوں سے بری مخلوق اور کوئی نہیں ۔

اورعدلیہ،سول اور خاکی بیوروکریسی دودھ کے دھلے ہیں ۔ججوں،بیوروکریٹس یا فوجیوں کو کوئی برا نہیں کہہ سکتا۔کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ سیاست پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے ادارے پر کوئی بات نہیں ہوسکتی ۔سارے سیاسی تجزیہ کار، سب سے موثرسیاسی عامل کا براہِ راست ذکر نہیں کرپاتے۔

پاپولر لیڈرقومی اثاثہ ہوتے ہیں،ان کا تجربہ اور وسیع فالوؤنگ ان کو قابل قدر بناتی ہیں۔ جوڈیشل ایکٹوازم یا مخصوص ڈاکٹرائین اپنی مدت کے بعد رخصت ہوجاتے ہیں،ان کا اتنا ہی کردار ہوتا ہے۔ پاپولر لیڈر البتہ سیاسی تاریخ کا دھارا بناتا،بگاڑتا اور موڑتاہے ۔

یہ لاکھوں لوگوں میں بسا ہوتا ہے، کروڑوں کے خواب اس سے جڑے ہوتے ہیں۔اسے کوئی قانون،انتظامی حکم،کوئی آپریشن یا سزا سیاسی عمل سے بے دخل نہیں کرسکتی۔

یہ سیاسی عمل سے ہی سیاسی موت مرتا ہے۔جنرل ضیاء الحق نے پیپلزپارٹی اور جنرل پرویز مشرف نے مسلم لیگ (ن) ختم کرنے کی سر توڑکوشش کردیکھی ہے!

مزید : رائے /کالم