ہمارے بچے، ہمارا مستقبل (حصہ دوئم)

ہمارے بچے، ہمارا مستقبل (حصہ دوئم)
ہمارے بچے، ہمارا مستقبل (حصہ دوئم)

  


گزشتہ تحریر میں مناسب غذا کی اہمیت اور کھانے کی عادات میں تبدیلی لا کر بچوں کی بہترین نشوونما کو یقینی بنانے کے حوالے سے چند اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔تحریر کا مقصد بچوں کی غذا میں توازن اور اجزاء کا تناسب ایک انتہائی اہم، مگرپیچیدہ مسئلے کی طرف والدین کی توجہ دلانا تھا ۔

بد قسمتی سے متوازن غذا کی اہمیت ایک ایسا پہلو ہے، جس کی جانب سب سے کم توجہ دی جاتی ہے۔ کم شرح خواندگی اورصحت مند غذا کے کلچر کی عدم موجودگی کے ساتھ اس مسئلے کی بڑی اور عمومی وجہ غذا کے نشوونما پر اثرات سے لاعلمی اورخاص وجہ بچوں کو ازخود اپنی پسند ونا پسند سے غذا کا چناؤ کرنے کا اختیار دینا ہے۔

نصف کے قریب ناخواندہ آبادی والے صوبے میں فوری طورپر آگاہی پھیلانا اورعوام کو اچھی و بری خوراک میں تمیز کے قابل بناناآسان ہدف نہیں۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی ابتدائی طور پر جہاں آگاہی کی مدد سے متوازن غذا کے کلچر کے فروغ کی کوشش کر رہی ہے وہیں بچوں کی صحت کے تحفظ اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لئے نقصان دہ اشیاء خوردونوش کوبچوں کی پہنچ سے دور کر رہی ہے۔

تعلیمی اداروں میں بچوں کوصحت مند اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے 14اگست 2017ء کے تاریخی دن ،نئے قومی سال کے آغازپر ا یک مضبوط اور توانا قوم کی تعمیر کے عہد کے تحت پنجاب فوڈ اتھارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز فوڈ سٹینڈرزریگولیشن 2017ء کا نفاذ کر دیا گیاگیا،جس کے تحت تعلیمی اداروں کی کینٹینوں پر مضرصحت اجزا سے تیار کردہ غذا اور مشروبات کو ریڈ زون میں شامل کر کے ان کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی، جبکہ گرین اور ییلوزون میں شامل قدرتی اجزاء سے تیار کردہ مشروبات ، پھل، سبزی، اناج، دالوں ، چکن میٹ ، بسکٹ اورکیکس جیسی اشیاء فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

بچوں کی نشوونما کے لئے مضر صحت غذا اور مشروبات مثلاً کاربونیٹڈ، انرجی ، مصنوعی ڈرنکس اور دیگر غیرمعیاری اشیاء کی سکولوں کے اندر فروخت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا رہی۔پابندی لاگو کرنے کے بعد اب تک چھ ماہ کے عرصے میں جہاں کولا ڈرنکس فروخت کرنے والے سکول کیفے ٹیریاز کو سیل کیا جا چکا ہے وہیں صحت مند اشیاء خوردونوش فراہم نہ کرنے والوں کو بھاری جرمانے بھی کئے جا رہے ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز فوڈ سٹینڈرز ریگولیشن 2017ء کے تحت کاربونیٹڈ، انرجی اور دیگر مصنوعی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کی بہت سی وجوہات میں سے چند ایک یہ ہیں۔

سوڈا ایک قسم کا نشہ ہے

سوڈااور کاربونیٹڈ کولا ڈرنکس میں موجود کیفین کا معمول میں استعمال ایک نشے کی کیفیت پیدا کرتا ہے اور بچوں کو اس کی لت پڑ جاتی ہے۔ ایک خاص حد تک استعمال کے بعد اس کا استعمال ترک ناممکن ہو جاتا ہے۔

جانس ہاپکنز کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ عام طور پر استعمال ہونے والی منشیات کیفین ہے ۔رپورٹ کا یہ بھی کہناہے کہ کیفین ایک عادت بن جاتی ہے جس کو چھوڑنے میں اکثر لوگ ناکام رہتے ہیں۔

چھوٹی جسامت اور کم وزن کی وجہ سے بچے کیفین کے اثرات سے زیادہ حساس ہوتے ہیں اوریہ کیفین کے سب سے بڑے نقصانات میں سے ایک ہیں۔

سوڈا میں کسی قسم کی کوئی غذائیت نہیں ہوتی

کولا ڈرنکس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس سے جسم کوکوئی غذایت نہیں ملتی۔ یہ صرف خالی کیلوری فراہم کرتا ہے، اور بھوک کوکم کرتا ہے۔ کولا ڈرنکس بھوک کوکم کرتے ہیں جس سے بچے کم کھاتے ہیں اور جسم کو ضروری مقدار میں وٹامن اے، کیلشیم، اور میگنیشیم کی مقدارکم حاصل ہوتی ہے جس سے ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔

سوڈا بچوں کی دماغی نشوونما کو نقصان پہنچا تا ہے

آج کابچہ کل ایک پورا نوجوان ہو گا۔ جسمانی بڑھوتری کے تناسب کے ساتھ دماغ کا بڑھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے ۔ سوڈا کے سٹرک ایسڈ اور مصنوعی کلر میں چھپے مانوسوڈیم گلومیٹ پائے جاتے ہیں جودماغی نیورنز کو نقصان پہنچاتے ہیں،جبکہ مزید تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سوڈا کا زیادہ استعمال دماغ کے ٹیومرز، الزیمیرر اور پارسنسن کی بیماری، سیکھنے میں مشکل اور چڑچڑے پن کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ڈائیٹ ڈرنکس میں پایا جانے والا اسپراٹیم بھی ایسے ہی مسائل پیدا کرتا ہے۔

سوڈا بچوں کی ہڈیوں کو کمزور کرتاہے

باقاعدگی سے سوڈا استعمال کرنے سے ہڈیوں کی بڑھوتری کے لیے ضروری کیلشیم کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سوڈاکاایک عام جزو فاسفورس ہے۔ کیفین کیلشیم کے جذب ہونے میں مداخلت کے لئے جانا جاتا ہے.۔بچے جو سوڈا پیتے ہیں وہ دودھ یا دیگر کیلشیم سے بھرپور مشروبات کی طرف مائل نہیں ہوتے جس سے ہڈیوں کی بڑھوتری متاثر ہوتی ہے۔

سوڈا خراب رویے کا باعث بنتا ہے

3ہزار سے زیادہ ماؤں اور بچوں پر کیے جانے والے سروے نے اس تعلق کو ثابت کیا کہ سوڈا میں موجود کیفین، چینی، مصنوعی رنگ بچوں میں جارحانہ رویے کا سبب بنتے ہیں۔

سوڈا بچوں کے دانتوں کو تباہ کر رہا ہے

شوگر دانتوں کے لئے اچھا نہیں ہے اور نہ ہی سوڈا میں موجود ایسڈز۔سٹرک ایسڈ اور فاسفورس دونوں دانتوں کی کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔

سوڈا چائلڈ ذیابیطس کی وجہ بن رہا ہے

سوڈا کا استعمال گلوکوز کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے جس سے بچوں میں ذیابیطس ٹائپ 2ہو سکتی ہے۔مزید خطرناک امر یہ ہے کہ اس کا تعلق کم یا زیادہ سوڈا پینے سے نہیں بلکہ دن میں ایک بوتل سوڈا پینے سے بھی یہ خطرہ برقرار رہتا ہے۔

سوڈابچوں کے وزن میں غیر صحتمندانہ اضافہ کرتا ہے

سوڈا میں موجود ایسپارٹم کے زیاد ہ استعمال سے شوگر کی طلب بڑھتی ہے جو وزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

سوڈا دل کی بیماری کی بڑی وجہ بنتا ہے

جدید تحقیق ثابت کرتی ہے جو بچے بچپن سے سوڈا استعمال کرتے ہیں ان میں دل کی بیماریوں کے ممکنہ خدشات 61فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ عام طور پر اس بات کوپیش نظر نہیں رکھا جاتا تاہم جدید میڈیکل سائنس اس تعلق کو ثابت کر چکی ہے اور بہت سے ممالک میں سوڈا ڈرنکس پر پابندی لگاتے ہوئے اس وجہ کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔

سوڈا ہاضمے کو روک سکتا ہے

سوڈا اور کیفین سے زیادہ پیشاب آتا ہے جو جسم میں پانی کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔زیادہ سوڈا پینے سے معدے میں تیزابیت بڑھتی ہے جس سے نظام ہضم متاثر ہوتا ہے اور نشوونما کے مسائل پیش آتے ہیں ۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی سکولوں میں سوڈااور کاربونیٹڈ کولا ڈرنکس پر پابندی عائد کر کے اس پر عمل درآمد یقینی بنا رہی ہے۔تاہم تمام اقدامات والدین کی مدد کے بغیر بہتر نتائج نہیں دے سکتے۔

ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی بچوں کی خوراک کے مسائل کا مکمل ادراک رکھتی ہے اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ متوازن غذا کے کلچر کے فروغ کے لیے بھی مصروف عمل ہے۔

ایک طرف ملاوٹ مافیا کی سرکوبی کی جا رہی ہے تو دوسری طرف عوامی آگاہی کی مہمات چلائی جا رہی ہیں۔سکول ، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پرلیکچرز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔اخبارات ، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر تصویری اور ویڈیو پیغامات کے ذریعے غذا سے متعلق اہم مسائل کواجا گر کیا جا رہا ہے ۔

فوڈسیفٹی ایمبیسڈر پروگرام کے تحت سکول، کالج اور یونیورسٹی طالب علموں کو فوڈ سیفٹی اور ہائی جین ٹریننگ دے کر پنجاب فوڈ اتھارٹی کے صحت مند پنجاب کے مشن کا پیغام بر بنایا جا رہا ہے ۔

فوڈسیفٹی ایمبیسڈرز اپنے اداروں، گلی محلوں میں ناقص غذا فروخت کرنے والوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی میں بھی اہم کردار کر رہے ہیں۔

عوامی آگاہی وہ بنیادی جزو ہے جس کی مدد ناقص اشیاء خوردونوش کا استعمال مکمل ختم کیا جا سکتا ہے۔ والدین کوصحت مند غذا کے استعمال پر مائل کر کے جہاں بچوں کی نشوونما کے مسائل کا جڑ سے خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے وہیں صحت مند معاشرے کی تکمیل کا خواب بھی شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔

عوامی آگاہی کے راستے میں ناخواندگی سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے تاہم پنجاب فوڈ اتھارٹی اس مسئلے سے نپٹنے کے لئے آسان اور عام فہم طریقے اپنا رہی ہے ۔

سوشل میڈیا کو اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اورجہاں سوشل میڈیا دستیاب نہیں وہاں ٹیلی ویژن اور اخبار سے کام لیا جا رہا ہے۔مکمل ناخواندہ آبادی والے علاقوں میں پنجاب فوڈ اتھارٹی فوڈسیفٹی ٹیموں اورایمبیسڈرز کی مدد سے مقامی زبان میں لیکچرزاور سیمینارز کے ذریعے آگاہی کا کام لیا جا رہا ہے۔

اگلے مرحلے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نیوٹریشن سروسز کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے، جس کے تحت نیوٹریشن ایکسپرٹس کی ٹیمیں ٹاؤن اور یونین کونسل کی سطح پر متوازن غذا کے چناؤ میں والدین کی مدد کریں گی اورپی ایف اے نیوٹریشن ہیلپ لائن اورسوشل میڈیا پر آن لائن بھی دستیاب ہوں گی ۔

مفت فراہم کی جانے والی یہ سروس والدین کو اپنے بچوں کے غذائی مسائل کے حل میں مکمل مدد کرے گی اور بچے کی عمر، جسامت اور طبعی صورتِ حال کو مد نظر رکھتے ہوئے بہترین غذا کے چناؤ میں مدد دے گی۔

مزید : رائے /کالم