میمو گیٹ، نواز شریف اور پچھتاوا

میمو گیٹ، نواز شریف اور پچھتاوا
میمو گیٹ، نواز شریف اور پچھتاوا

  

کل سے پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکن پھولے نہیں سما رہے، جب سے نواز شریف نے کہا ہے کہ میمو گیٹ سکینڈل میں مجھے آصف زرداری کے خلاف فریق نہیں بننا چاہئے تھا، سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کے حامیوں کی باچھیں کھلی نظر آرہی ہیں، اسے ’’ہائے اس زد و پشیماں کا پشیماں ہونا‘‘ قرار دیا جارہا ہے، تاہم میں اسے دیر آید درست آید کے مصداق قرار دیتا ہوں، صرف میاں صاحب کو ہی نہیں بلکہ تمام سیاستدانوں کو یہ طے کرلینا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کندھا پیش نہیں کریں گے، یہ جو ستر برسوں سے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا رونا رویا جارہا ہے، وہ بھی صرف اسی وجہ سے ہے کہ کبھی ایک تو کبھی دوسری جماعت اقتدار کی خواہش میں ڈوریاں ہلانے والوں کی آلۂ کار بنتی رہی ہے، نواز شریف جب یہ کہتے ہیں کہ ستر برسوں میں کسی وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی تو یہ بھول جاتے ہیں کہ اس میں ان کا بھی پورا پورا ہاتھ رہا ہے، وہ بھی بے نظیر بھٹو کو دو بار اور یوسف رضا گیلانی کو ایک بار وقت سے پہلے وزارتِ عظمیٰ سے رخصت کرانے میں شریک رہے ہیں، یہ میمو گیٹ سکینڈل بھی در حقیقت حکومت کو وقت سے پہلے رخصت کرنے کی ایک کوشش تھی، جس میں نواز شریف کالا کوٹ پہن کر شریک ہوئے اور ایک بری تاریخ رقم کر گئے، جس پر آج انہیں پچھتاوا محسوس ہورہا ہے۔

سیاستدان لاکھ کوشش کریں وہ ملک میں آنے والے تین مارشل لاؤں سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے، مارشل لاء کے لئے اسٹیبلشمنٹ یا اس وقت کے فوجی جرنیلوں نے سیاستدانوں کی معاونت سے ہی حالات پیدا کئے، ایوب خان نے جب مارشل لاء لگایا تو سیاستدانوں کی چپقلش عروج پر تھی، سیاسی استحکام نا پید تھا، وزارتِ عظمیٰ کی کرسی ایک کھیل بنی ہوئی تھی، اس وقت سیاسی جماعتیں اگر سانپ اور سیڑھی کے کھیل میں شریک نہ ہوتیں تو مارشل لاء بھی نہ لگتا، جب ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا تو اس کے لئے بھی ایک جمہوری اور سیاستدان وزیراعظم کے خلاف سیاسی و دینی جماعتوں نے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ جمہوریت پر شب خون مارنا بہت آسان ہوگیا، بھٹو جیسا مقبول وزیراعظم بھی غیر مقبول بنا دیا گیا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی کہ سیاسی قوتوں نے اس کے خلاف محاذ کھڑا کیا، ان سیاسی قوتوں کے ہاتھ تو کچھ نہ آیا، البتہ ملک میں مارشل لاء لگا اور بعد ازاں ایک مقبول وزیراعظم کو پھانسی بھی چڑھا دیا گیا، ضیاء الحق کے بعد ایک موقع ایسا آیا تھا کہ سیاسی قوتیں متحد ہوکر جمہوریت کو مضبوط کرسکتی تھیں لیکن وہی ہوسِ اقتدار کہ جو ہمیشہ جمہوریت کی بساط لپیٹنے میں غیر جمہوری قوتوں کا ہتھیار بنتی رہی ہے، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان چوہے بلی کا کھیل کھیلتی رہی، آخر میں اس سے فائدہ اٹھا کر تان اسی مقام پر ٹوٹی جہاں پرویز مشرف نے اچانک شب خون مار کے اقتدار پر قبضہ کرلیا، ذرا ذہن کو استعمال کرکے یاد کریں کہ پرویز مشرف کے آنے پر مٹھائیاں کس نے بانٹیں اور آمر کو سیاسی کندھا کس نے پیش کیا، یہی سیاستدان مکھیوں کی طرح پرویز مشرف کے گرد منڈلانے لگے اور وہ نو سال تک بغیر کسی آئینی جواز کے حکومت کرتے رہے، سو تاریخ تو بالکل واضح ہے، صرف اسٹیبلشمنٹ یا فوج کو جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا الزام دینے سے بات مکمل نہیں ہوتی اصل کہانی تو سیاستدانوں کی شمولیت سے مکمل ہوتی ہے۔

اس کہانی میں عدلیہ بھی شامل رہی ہے، ہر آمر نے سب سے پہلے عدلیہ کو پی سی او کی زنجیر پہنائی اور وہ خوشدلی سے پہنتی رہی، عدلیہ نے نظریۂ ضرورت کی چھتری تلے آمریت کو کھیل کھیلنے کا موقع فراہم کیا، آمروں کو وہ اختیارات بھی دیئے جو انہوں نے مانگے بھی نہیں تھے۔ لیکن پھر عدلیہ کے یو ٹرن لینے کا وقت آگیا، افتخار محمد چوہدری نے جی ایچ کیو میں حرف انکار زباں پر لاکر ایک نئے دور کی بنیاد رکھ دی، آج دبئی میں بیٹھے پرویز مشرف کہتے ہیں کہ چیف جسٹس کو ہٹانا ان کی سب سے بڑی غلطی تھی، جو ان کے لئے زوال کا باعث بنی، لیکن ان کی اسی غلطی نے ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ دی، پوری قوم نے عدلیہ کی آزادی کے لئے تحریک کا ساتھ دیا، جس کے بعد عدلیہ نے اپنا قبلہ درست کرلیا، یہ طے پا گیا کہ آئندہ کسی غیر آئینی اقدام کی کسی صورت میں توثیق نہیں کی جائے گی، کسی طالع آزما کو نظریۂ ضرورت کے تحت آئین معطل کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔

آج عدلیہ کے اسی عہد کا نتیجہ ہے کہ پچھلے تقریباً دس برسوں سے ملک میں جمہوریت قائم ہے، اگرچہ اس دوان بہت سے سرد گرم مقامات آئے، جمہوریت ڈانواں ڈول بھی ہوئی مگر کسی کو اس کی بساط لپٹنے کی جرأت نہیں ہوئی، اگر عدلیہ اپنے ایک فیصلے سے جمہوریت کو اتنا بڑا سہارا فراہم کرسکتی ہے تو سیاستدان آپس کے اتفاق سے اسے ایک نا قابل تسخیر قلعہ کیوں نہیں بنا سکتے، آج مشکلات میں گھرے نواز شریف کو اگر اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے تو باقی سیاستدانوں کو بھی یہ پہلو یاد رکھنا چاہئے، سیاستدانوں میں دراڑ ڈالے بغیر جمہوریت پر شب خون نہیں مارا جاسکتا، ہمارے ہاں انگلی کے اشارے کا ذکر بھی اسی لئے کیا جاتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں میں سے بہت سوں کو صرف انگلی کے اشارے کا انتظار ہوتا ہے، وہ عوام کی طرف نہیں دیکھتے انگلی کے اشارے پر نظر رکھتے ہیں، اگر وہ اس اشارے کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں اور اقتدار میں آنے کے لئے صرف عوام کے مینڈیٹ پر انحصار کریں تو جمہوریت مضبوط بھی ہوسکتی ہے اور آئیڈیل بھی بن سکتی ہے۔

سیاسی قوتوں کا اتحاد جمہوریت بچاؤ کے یک نگاتی ایجنڈے پر ہونا چاہئے، بد عنوانی اور قومی وسائل کی لوٹ مار پر کوئی اتحاد نہیں بن سکتا، یہ صورت تو بذاتِ خود جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہوتی ہے، نواز شریف آج یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مارشل لاء دور میں بنائے گئے نیب کے قانون کو بدلنے کی ضرورت ہے، وہ پارلیمنٹ کو باقی رہ جانے والے دو ماہ میں ان قوانین کو بدلنے کا کہہ رہے ہیں، ظاہر ہے اس پر انہیں سیاسی قوتوں کی حمایت ملنا مشکل ہے کیونکہ وہ خود اس وقت احتساب کی زد میں ہیں اور ان کے کیسز حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، انہوں نے اپنے چار سالہ دورِ حکومت میں اس پر توجہ نہیں دی، اب بھی آٹھ ماہ سے حکومت ان کے اشارروں پر چل رہی ہے، مگر انہوں نے نیب قوانین کو بدلنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا، اب دو ماہ میں کیسے یہ کام ہوسکتا ہے، اس موقع پر تو قوانین کی تبدیلی واضح طور پر خود کو بچانے کی ایک کوشش سمجھی جائے گی اور شاید ایسی کوئی کوشش سپریم کورٹ سے بھی مسترد کر دی جائے، یہ کام تو اب آنے والی اسمبلیوں اور حکومتوں نے کرنا ہے، بدلے ہوئے حالات میں تو سیاسی قوتیں بھی نواز شریف کی کوئی مدد نہیں کر سکتیں، اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ سے عوامی نمائندگی کے ایکٹ میں تبدیلی کرالی تھی اور دوبارہ پارٹی کے صدر بن گئے تھے، مگر سپریم کورٹ نے یہ ترمیم مسترد کردی، اسی طرح احتساب کو روکنے کے لئے اس موقع پر کی گئی کوئی بھی ترمیم بدنیتی پر مبنی شمار کی جائے گی، جس کی حمایت سیاسی قوتیں بھی مشکل سے ہی کریں گی، سیاسی جماعتیں اگر واقعی یہ چاہتی ہیں کہ جمہوریت ہمیشہ کے لئے خطرات سے محفوظ ہو جائے تو انہیں ایک ایسا میثاق جمہوریت کرنا چاہئے جس میں سب یہ عہد کریں کہ کسی ڈکٹیٹر کا ساتھ نہیں دیں گے، اور ایسی کسی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے جو غیر آئینی اور غیر جمہوری ہوگی، ظاہر ہے یہ معاہدہ سب سیاسی جماعتیں تبھی کر سکتی ہیں جب ان میں شفافیت ہو، ان کے رہنما کرپشن اور لوٹ مار میں ملوث نہ ہوں،انہیں فائلیں کھلنے کا ڈر نہ ہو، انہیں نیب یا ایف آئی اے کا ڈراوا دے کر آمر کی حمایت پر مجبور نہ کیا جا سکے، ظاہر ہے یہ کام آسان نہیں، اوپر سے نیچے تک کرپشن میں لتھڑے ہوئے نظام میں ایسے مردانِ قلندر ڈھونڈنابھوسے میں سے سوئی ڈھونڈنے کے مترادف ہے۔

میاں صاحب کی باتوں سے لگتا ہے ان کے پچھتاووں کا عمل شروع ہو چکا ہے، نا اہلی کے بعد سے اب تک انہوں نے بہت کچھ کرکے دیکھ لیا ہے، وہ وقت کا پہیہ روک نہیں سکے۔

مجھے لگتا ہے بہت جلد انہیں اس بات پر بھی پچھتاوے کا احساس ہوگا کہ انہوں نے فیصلے کے بعد عدلیہ کے خلاف محاذ کیوں کھولا، کیوں ایک ایسے شخص کا تاثر دیا جو ملک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ آنے پر اسے تسلیم کرنے کی بجائے پورے عدالتی نظام کو ہی روندنے پر تیار ہوجاتا ہے، ہم جیسے ان کے خیر خواہ تو پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف پورے ملک کے عوام کو بھی سڑکوں پر لے آئیں تو ان کی نا اہلی کا فیصلہ تبدیل نہیں ہوسکتا، کیونکہ پاکستان ایک ملک ہے کوئی جنگل نہیں کہ زور زبردستی سے فیصلے بدلوائے جا سکیں! اچھی بات ہے وہ حالات سے سیکھ رہے ہیں، مستقبل میں انہیں مزید مشکل حالات کا سامنا بھی ہوسکتا ہے، اگر وہ اداروں کے خلاف اسی طرح لڑتے رہے تو سیاسی قوتیں بھی ان کے ساتھ نہیں کھڑی ہوسکیں گی، تاہم اگر وہ جمہوریت کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہونے کا پیغام دیں گے تو ان کی بات یقیناًسُنی جائے گی، میمو گیٹ بارے ان کا جرأت مندی کے ساتھ اپنی غلطی کو تسلیم کرنا ان کے بارے میں ایک مثبت تاثر کا باعث بنا ہے جس کی وجہ سے سیاسی محاذ پر ان کی سیاسی تنہائی دور ہوسکتی ہے، جو فی الوقت ان کے لئے سب سے ضروری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -