میزائل سازی میں ایک اور سنگِ میل (2)

میزائل سازی میں ایک اور سنگِ میل (2)
میزائل سازی میں ایک اور سنگِ میل (2)

  


اس سے پہلے کہ گزشتہ قسط میں اٹھائے گئے پانچ سوالوں کا جواب دیا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دیکھا جائے کہ پاکستان کو یہ سسٹم خریدنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

ہوا یہ کہ18 جنوری2018ء کو بھارت نے اپنے تازہ ترین میزائل اگنی5- کا تجربہ کیا۔اس میزائل کو بین البراعظمی میزائل کے طور پر مشہور کیا گیا اور انڈیا نے اس تجربے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی زد میں بیجنگ اور شنگھائی تک آتے ہیں۔

یہ میزائل اڑیسہ کے ساحل کے قریب ایک جزیرے سے لانچ کیا گیا تھا جس کو انڈیا نے ’’ڈاکٹر عبدالکلام جزیرہ‘‘ کا نام دے رکھا ہے۔

اگنی5- میں جوہری بم بھی لے جایا جا سکتا تھا۔انڈیا نے دعویٰ کیا کہ اس رینج کے میزائل صرف امریکہ، روس،فرانس اور چین کے پاس ہیں۔ماضی میں اگنی سلسلے کے میزائلوں کی رینج وقفے وقفے سے بڑھائی جاتی رہی۔ مثلاً اگنی1- کی رینج700 کلو میٹر تھی، اگنی2- کی2000کلو میٹر، اگنی3- کی 2500 کلو میٹر اور اگنی4- کی3500 کلو میٹر۔۔۔ اگنی5-،انیس (19) منٹ تک فضا میں پرواز کرتا رہا اور 4900 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد سمندر میں اپنے ٹارگٹ پر جا لگا۔

یہ تجربہ انڈیا کا ایک کامیاب تجربہ تھا۔ میزائل کے تمام حصے پرزے خانہ ساز (Home-made) تھے یعنی نیوی گیشن، گائیڈنس، وارہیڈ اور انجن وغیرہ سب کے سب بھارت ہی میں تیار کئے گئے تھے۔

دراصل چین اور پاکستان کو پہلے سے معلوم تھا کہ انڈیا اگنی5- پر کام کر رہا ہے اس لئے پاکستان نے بھی اپنا میزائل پروگرام جاری رکھا اور اگنی5- سے ایک برس پہلے جنوری2017ء میں ’’ابابیل‘‘ میزائل کا تجربہ کیا ۔

لیکن اس کی رینج2200کلو میٹر تھی۔ اس میزائل کی ساخت میں یہ اہتمام بھی کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے ایک سے زیادہ روائتی یا جوہری بم لے جائے جا سکتے تھے جو اگر مختلف اہداف پر گرائے جائیں تو ان کو بیک وقت تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

لیکن امریکی انٹیلی جنس کے ذرائع نے جون2017ء میں بھارت کو مطلع کر دیا تھاکہ پاکستان ابھی تک ابابیل کو باقاعدہ ڈیپلائے نہیں کر سکا جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر آج پاکستان اور بھارت میں جنگ ہو جائے تو ابابیل فوری طور پر استعمال کے لئے تیار نہ ہو گا۔

دریں اثناء یہ خبریں بھی آتی رہیں کہ انڈیا اپنے سابق اتحادی، روس سے S-400 میزائل شکن سسٹم خرید رہا ہے جو نہ صرف پاکستان کی طرف سے کئے گئے میزائل حملوں کو روکنے کے لئے ایک موثر نظام ہو گا بلکہ چین کی طرف سے آنے والے کسی بھی میزائل حملے کا توڑ کر سکے گا۔۔۔

تو قارئین گرامی! یہ حالات تھے جب چین نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو یہ جدید ترین ٹریکنگ سسٹم دے دیا جائے جس کی ٹریکنگ کو ننگی آنکھوں سے دیکھا جا سکے۔۔۔۔ بین الاقوامی دفاعی منظر نامے میں چین کا یہ اقدام ایک بہت بولڈ اقدام ہے جس کے جواب میں اب یا تو امریکہ کو بھی اسی قسم کا نظام بھارت کو دینا پڑے گا یا بھارت ہمیشہ پاکستانی میزائلوں کی بوچھاڑ کی زد میں رہے گا۔

چنانچہ پچھلے برس (شائد اگست ستمبر 2017ء میں) کہ جب امریکہ نے بھارت کو بتا دیا تھا کہ پاکستان ابھی تک ابابیل کو باقاعدہ اپنے میزائل اسلحہ خانے میں انڈکٹ نہیں کر سکا تو بھارت نے اگنی5- کا کامیاب تجربہ کر کے پوائنٹ سکورنگ کر لی تھی۔

اِس پس منظر کے ساتھ آیئے اب چلتے ہیں اُن پانچ بنیادی سوالوں کی طرف کہ پاکستان کو اس چینی ٹریکنگ سسٹم سے کیا کیا فوائد حاصل ہوں گے۔ اور یہ سسٹم کس طرح باقی ٹریکنگ طریقوں سے مختلف اور زیادہ کارگر ہو گا۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب بھی کوئی میزائل فائر کیا جاتا ہے تو پہلے وہ سیدھا فضا میں بلند ہوتا ہے اور دریں اثناء کیمرے اور راڈار کی آنکھ اس کی پرواز لائن کو دیکھتی رہتی ہے۔

اسی ’’دیکھنے‘‘ کو ٹریکنگ کہا جاتا ہے۔لیکن اس ٹریکنگ کی بھی ایک حد ہوتی ہے جو میزائل کسی بھی جگہ سے لانچ کئے جاتے ہیں، ان کی اڑان کو ایک محدود فاصلے تک ہی زیر نظر رکھا یعنی ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ترقی یافتہ ممالک جن میں امریکہ، روس، فرانس اور چین شامل ہیں ،پاور فل دوربینوں کے ذریعے میزائل کی اڑان لائن پر مسلسل نظر رکھ سکتے ہیں اور اس کو ہدف تک جاتا بھی دیکھ سکتے ہیں یعنی اس مقام کو بھی جہاں پر یہ میزائل جا کر اپنی نوک پر رکھا ایٹم بم گراتا ہے۔یہ ٹیکنالوجی ابھی تک کسی اور ملک کے پاس موجود نہیں، پاکستان کا تو سوال ہی کیا۔

لیکن چین نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کی اس معذوری کا علاج کیا جائے۔ چنانچہ 4،5ماہ پہلے ایک ٹریکنگ ٹیم بھی اس ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ بھیجی گئی جو پاکستانی انجینئروں، میزائل سازوں اور دوسرے متعلقہ عملے کو ٹریننگ دیتی رہی۔آپ دیکھیں گے کہ پاکستان جلد ہی ایسے میزائل کے تجربات کرے گا کہ بقول کسے،بھارت کے ہوش اڑ جائیں گے!

دوسرا سوال یہ تھا کہ ملٹی وار ہیڈز (Multi-war heads) میزائل سے کیا مراد ہے تواس سے مراد یہ ہے کہ ایک میزائل کے ذریعے صرف ایک نہیں،بلکہ ایک سے زیادہ وار ہیڈز(بم) لے جائے جا سکتے ہیں۔

تیسرا سوال آپٹیکل ٹریکنگ سسٹم کا تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔اس کا لغوی مطلب یہ ہے کہ ننگی آنکھوں سے دیکھ کر کسی میزائل کی پرواز کا پیچھا کرنا اور اس پر مسلسل نظر رکھنا۔اس سسٹم میں دو ایسی پاور فل دور بینیں لگی ہوئی ہیں جن کی مدد سے نہ صرف آپ روئے زمین پر کسی بھی قطعہء زمین کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ فضا میں چاند تک کو بھی دیکھ سکتے ہیں،یعنی اگر کوئی بین الاقوامی بلاسٹک میزائل دس بارہ ہزار کلو میٹر تک جا رہا ہے تو آپ اس کو اِن دور بینوں کی مدد سے لگا تار ٹریک کر سکتے اور اسے جس راستے پر چاہیں ڈال سکتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ہدف کے عین اوپر تک لے جا سکتے ہیں۔امریکہ نے یہ سسٹم1970ء کے عشرے ہی میں بنا لیا تھا اور اسے Minuteman بین البراعظمی میزائل کا نام دیا تھا۔ لیکن باقی چند ترقی یافتہ ممالک نے بہت دیر بعد اس ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کی اور اب بھی سوائے چار پانچ ممالک کے کسی اور کے پاس یہ آپٹیکل ٹریکنگ سسٹم موجود نہیں۔

چوتھا سوال، ایم آئی آر وی (MIRV) کے متعلق تھا۔ یہ لفظ ملٹی پل انڈی پنڈنٹلی ٹارگٹ ایبل ری انٹری وہیکل (Multiple Independently Targetable Reeintry Vehicle) کا مخفف ہے۔ اس کا معنی وہ متعدد جوہری بم ہیں جو ایک ہی میزائل میں رکھ کر لانچ کئے جا سکتے اور مختلف اہداف پر گرائے جا سکتے ہیں۔عام طور پر ایک میزائل پر صرف ایک ہی بم رکھ کر لے جایا جا سکتا اور ایک ہی ہدف پر گرایا جا سکتا ہے۔

لیکن ایسا میزائل جس کے آخری حصے میں ایک سے زیادہ ایسے چھوٹے میزائل بھی رکھے ہوں جن میں ایک ایک ایٹم بم ہو، ان کے ٹارگٹ بھی مختلف مقامات ہوں اور ان سب کو ہٹ (Hit)کرنا مقصود ہو تو وہ بھی اس سسٹم کی مدد سے ممکن ہے۔ایسے میزائلوں پر بھی گزشتہ صدی میں امریکہ اور سوویت یونین نے بہت تجربے کئے اور ایک MIRV میں 14،14میزائل رکھ کران کو دور و نزدیک پھیلے مختلف اہداف پر گرانے کے کامیاب تجربے کئے۔ لیکن بعد کے تجربات میں اس تعداد کو گھٹا کر چھ کر دیا گیا۔اب آپ ایسا میزائل بھی بنا سکتے ہیں جو کسی بھی مقام سے فائر کیا جائے تو وہ فضا میں جا کر جب زمین کا رخ کرے گا تو اس میں رکھے چھ عدد چھوٹے میزائل مختلف سمتوں اور فاصلوں پر موجود اہداف کو نشانہ بنا سکیں گے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے فائر کیا جانے والا صرف ایک MIRVبیک وقت دہلی، ممبئی، کلکتہ، چنائی، پونا اور بنگلور کو نشانہ بنا سکتا ہے اور اگر اس طرح کے پانچ میزائل یکے بعد دیگرے فائر کر دیئے جائیں تو وہ ان اہداف پر تابڑ توڑ پانچ جوہری حملوں کے مترادف ہوں گے۔

پانچواں اور آخری سوال یہ تھا کہ پاکستان کا ابابیل میزائل کس اعتبار سے MIRV سے لیس ہے، تو اس کا جواب اوپر دیا جا چکا ہے۔ آپ ایک میزائل کے ذریعے دشمن کے ایک سے لے کر چھ مختلف اہداف تک کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

لیکن اس ملٹی پل میزائلوں کو گود میں لئے جو میزائل لانچ کیا جائے گا اس کو ٹریک کرنے کے لئے بھی ایک ایسا سسٹم درکار ہوگا جو یہ بتا سکے کہ وہ مختلف اہداف جن کو نشانہ بنایا گیا تھا، وہ ہٹ(Hit) بھی ہوئے ہیں یا نہیں۔

اگر نہیں تو ہدف سے کتنی دور ہیں۔ لیکن اس غلطی کو درست (Correct) کرنے کے لئے بار بار روائتی میزائل کو داغنا پڑے گا جبکہ موجودہ ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے کہ آپ کا فائر کیا ہوا میزائل کہاں پرواز کر رہا ہے،کہاں فضا سے زمین کی طرف گر رہا ہے اور اپنے مقررہ ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے یا اِدھر اُدھر بھٹک گیا ہے۔

اس سسٹم کی بدولت آپ میزائلوں کی ٹریکنگ کے دوران گویا یہ سب منظر سسٹم میں لگی دو عدد دور بینوں کے ذریعے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔اب پاکستان میزائلوں کے جو تجربے کرے گا ان کی ٹریکنگ،یعنی ان کا پیچھا کرنا اور ان کی اڑان لائن کومسلسل نگاہ میں رکھنا اور دورانِ پرواز ان کو اپنی مرضی سے اپنے کورس پر قائم رکھنا آسان ہو جائے گا۔

اب اگر امریکہ، بھارت کو یہ سسٹم دینا چاہے گاتو امریکی کانگریس سو بار سوچے گی کہ صدر کو اس بات کی اجازت دی جائے یا نہ دی جائے کہ اس انتہائی حساس ٹیکنالوجی کو بھارت کے حوالے کرے۔

کل کلاں یہی ٹیکنالوجی اگر مزید پھیلتی ہے تو ایک وقت آ سکتا ہے جب ایران جیسے ممالک ایک ہیICMB سے یورپ (بلکہ امریکہ) کے کئی شہروں کو بیک وقت اڑا کر رکھ دیں گے! (ختم شد)

مزید : رائے /کالم