فری ٹریڈ ایگزیمنٹ سے چینی درآمدات خطرناک حد بڑھ جائیں گی ، زبیر ایف طفیل

فری ٹریڈ ایگزیمنٹ سے چینی درآمدات خطرناک حد بڑھ جائیں گی ، زبیر ایف طفیل

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین زبیر ایف طفیل نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے)کے دوسرے مرحلے کی دستاویز پر عملدرآمد سے پاکستان میں چینی درآمدات کی بھرمار خطرناک حد بڑھ جائے گی جس سے نہ صرف ادائیگیوں کا توازن بری طرح متاثر ہو گی بلکہ متعدد مقامی صنعتیں عدم مسابقت کی وجہ سے دم توڑ جائیں گی۔۔ انہوں نے متذکرہ ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے کی دستاویز پر آئیندہ ماہ دستخط کئے جانے کی اطلاع پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ مذکورہ معاہدے کی نئی دستاویز پر دستخطوں کا معاملہ آئیندہ انتخابات تک موٗخر کر دیا جاے اور آئیندہ بھی کاروباری برادری کی مشاورت کے بغیر اس پر ہر گز دستخط نہ کئے جائیں کیونکہ اس میں شامل بعض شقیں مقامی صنعت کیلئے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔زبیر ایف طفیل نے مزید بتا یا کہ ایف ٹی اے کی نئی دستاویز کے مطابق حکومت پاکستان نے چین کی پچیس فیصدی حساس ٹیرف لائنز کے علاوہ باقی تمام اقسام کو زیرو ڈیوٹی قرار دینے پر اتفاق کر لیا ہے جس کے نتیجے میں چین کی 75 ٹیرف لائینز کو یا تو فوری طور پر زیرو ڈیوٹی قرار پا جائیں گی یا پھرانہیں آئیندہ پانچ سے دس سال کے اندر اندر زیروڈیوٹی کی رعائت حاصل ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ چین صنعتوں کو اپنے بڑے حجم ، سستی توانائی اور مستحکم حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ایسی طاقت حاصل ہے جس کے سامنے امریکہ جیسی بڑی عالمی معیشت کو بھی گھٹنے ٹیکنے پڑ گئے ہیں ، پھر بھلا پاکستان جیسی مہنگی توانائی کی حامل مشکلات میں گھری معیشت انکا کیسے مقابلہ کر سکتی ہے۔پاک چین ایف ٹی اے کا پس منظر بیان کر تے ہوئے پی سی ایم ا ے کے چیئرمین نے بتا یاکہ اس سلسلے کے پہلے مرحلے کی 24نومبر، 2006 میں دستخط کئے گئے تھے جس کے تحت کل 6,711 ٹیرف لائینز میں سے 36 فیصدی کو زیرو ڈیوٹی قرار دیا گیا تھا، 20 فیصدی اشیاء پر صفر سے پانچ فیصدی ڈیوٹی عائد کی گی تھی اور 2 فیصدی ٹیرف لائینز پر ڈیوٹی میں پچاس فیصدی تخفیف کر دی گئی تھی، 6 2 فیصد اقسام 20ٰٖٖٖ فیصدی ڈیوٹی کی حامل اشیاء میں رکھا گیا جبکہ باقی 15 فیصدی اقسام کو حساس کیٹگری میں شامل رکھتے ہوئے ڈیوٹی کی کسی بھی رعائت سے باہر رکھا گیا۔اس طرح تقریباََ چالیس فیصد ی ٹیرف لائینز پر ڈیوٹی کی شرح وہی رہی تھی جو کہ ’’موسٹ فیورڈنیشن‘‘ کے طور پر چین اور پاکستان کو حاصل تھی۔ مگر دوسرے مرحلے کی دستاویز میں وزارت تجارت نے سابقہ حساس اشیاء کی فہرست کو پندرہ فیصدی اشیاء سے بڑھا کر پچیس فیصدی کر دیا ہے ۔

جس سے پاکستان کی رعائت یافتہ ٹیرف لائنیز کے تعداد موجودہ چالیس فیصدی سے کم ہوکر پچیس فیصدی رہ گئی ہیں جبکہ چین کی رعایت یافتہ اقسام بڑھ گئی ہیں۔چیئرمین پی سی ایم اے نے کہا کہ ہمارے لئے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ حکومت اس معاملے میں اتنی جلدی کیوں کر رہی ہے ، حالانکہ پاک چین ایف ٹی اے کے پہلے مرحلے کی دستاویز میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اس معاہدے کا اگلا مرحلہ کسی مناسب وقت میں شروع کیا جائے گا، اور مناسب وقت کی کوئی خاص تعریف بھی موجود نہیں۔لہٰذاہ حکومت کو اس معاملے میں عجلت سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ موجودہ حالات میں کاروباری برادری کی مشاورت کے بغیر ایک ایسا معاشی فیصلہ کرنا کسی طور مناسب نہیں جس میں زرا سی بھی جھول مقامی صنعت کو تباہی سے دوچار کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو چین کی طرف سے اس معاملے کسی دباؤ کا سامنا ہے تو وہ اس دباؤ کو یہ کہ کر باآسانی دور کر سکتے ہیں اس وقت انکا دور حکومت ختم ہو رہا ہے اور ملک میں انتخابی عمل شروع ہونے والا ہے ۔ پی سی ایم اے کے چیئرمین نے کہا کہ اگر حکومت نے متذکرہ ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے کو

موٗ خر نہ کیا تو حکومتی پارٹی کے کاروباری برادری میں موجود ووٹ بنک کو بھی شدید دھچکا لگے گا، لہٰذاہ اس معاملے کو آئیندہ حکومت کیلئے چھوڑ دینا ہی حکومت اور کاروباری برادری کے یکساں مفاد میں ہے

مزید : کامرس