فیصل آباد میں جلد ای ایف پی کا ڈیسک قائم کر دیاجائیگا، صدرایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان

فیصل آباد میں جلد ای ایف پی کا ڈیسک قائم کر دیاجائیگا، صدرایمپلائرز فیڈریشن ...

فیصل آباد (بیورورپورٹ) 25 لاکھ محنت کشوں کو روزگارمہیا کرنے والے آجروں کے مفادات کے تحفظ کیلئے ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے دائرہ کار کو پورے ملک تک بڑھایا جا رہا ہے جبکہ اس سلسلہ میں بہت جلد فیصل آباد میں بھی ای ایف پی کا ڈیسک قائم کر دیاجائیگا۔ یہ بات ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے صدر ماجد عزیز نے آج فیصل آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ آجروں کے مفادات کے تحفظ کیلئے یہ ادارہ 68 سال قبل قائم کیا گیا تھا مگر اب تک یہ صرف کراچی تک ہی محدود تھاتاہم اب کراچی سے باہر اس کے 2 دفاتر قائم ہو چکے ہیں جبکہ مزید دوسرے صوبوں کے علاوہ فیصل آباد میں بھی اس کا سب آفس قائم کیا جائیگا۔ انہو ں نے بتایا کہ آجروں کی زیادہ تعداد کو معلوم ہی نہیں کہ یہ ادارہ کس طرح ان کے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب اس مشن اور عزم کے ساتھ کراچی سے باہر نکلے ہیں کہ ای ایف پی کو حقیقی معنوں میں ملکی سطح کا ادارہ بنایاجا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں اس کا دفتر قائم ہو چکا ہے جہاں 25-20 وکلاء کا ایک پینل موجو دہے جو آجروں کو ان کے مفادات کے تحفظ کیلئے ضروری مشورے دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے چند وکلا کو بوقت ضرورت فیصل آباد بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ای ایف پی کے بورڈ میں پہلے زیادہ تعداد ٹیکنو کریٹس کی تھی جبکہ اب 20 رکنی بورڈ میں دس ٹیکنوکریٹ اور دس آجر ہیں اور توقع ہے کہ اگلے الیکشن میں یہ تعداد 5 اور 15 ہو جائیگی۔

انہوں نے بتایا کہ ای ایف پی کے ممبران کی تعداد 609 تھی جو اب بڑھ کر 700 ہو گئی ہے تاہم ان کی کوشش ہے کہ 2019 میں ای ایف پی کی ممبرشپ کو ایک ہزارتک پہنچایا جائے۔ انہوں نے ای ایف پی کی ممبرشپ لینے میں آجروں کی دلچسپی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ممبرشپ کے اس ہدف کو رواں سال کے اختتام تک ہی حاصل کر لیا جائیگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت 27 چیمبر اور بڑی ایسوسی ایشنیں بھی ای ایف پی کی ممبر ہیں۔ جبکہ مزید چیمبروں نے بھی اس کی ممبرشپ لینے پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ادارے کو مضبوط بنانے کیلئے اس کی ممبرشپ میں اضافہ ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں آجروں کو کافی سہولتیں مہیا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے سندھ میں سہ فریقی کانفرنس بلانے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ ان کے تیارہ کردہ 62 نکاتی مسودہ پر ہی نئی لیبرپالیسی تشکیل دی گئی ہے جبکہ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں بھی لیبر پالیسیاں آجروں کی مشاورت سے بننی چاہیءں۔ انہوں نے ایمپلائیز اولڈایج بینیفٹس ، ورکرز ویلفیئر اور سوشل سیکورٹی کے حوالے سے بتایا کہ اس کے بورڈ پر زیادہ تر سرکاری لو گ قابض تھے جبکہ اب اس میں آجر اور اجیر کو چالیس چالیس فیصد نمائندگی دی گئی ہے جبکہ ان کا چیئرمین ایک سال آجروں سے اور دوسرے سال آجیروں میں سے لیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ ای ایف پی نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) سے بھی الحاق کر رکھا ہے جس کے تحت محنت کشوں کی تربیت کیلئے مختلف قسم کے پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2020 کیلئے تربیت کا پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے جس کے تحت 2 لاکھ محنت کشوں کو تربیت دی جائیگی۔ ان میں سے دس فیصد لوگوں کو مشرق وسطی کے ملکوں کیلئے ضروری تربیت دی جائیگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئی ایل او نے محنت کشوں کی تربیت کیلئے 27 مختلف ماڈل بنائے ہیں جن کا اردو کے علاوہ دیگر علاقائی زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ ای ایف پی نے 2166 گز پر مشتمل اپنے پلاٹ پر دفتر بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔ میاں محمد ادریس کو اس کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہے اور توقع ہے بہت جلد اس پر کام شروع ہو جائیگا اور دسمبر میں ای ایف پی ہاؤس بن جائیگا۔ اس سے قبل میاں محمد ادریس نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ فیصل آباد سمیت ملک بھر کے آجروں کو ابھی تک ای ایف پی کا علم ہی نہیں اس لئے اس کی رکنیت سازی سے ملنے والے فوائد کے بارے میں لوگوں کو فوری آگاہی دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ای ایف پی کی ممبرشپ لینے کے بعد آجر اپنے محنت کشوں کی کارکردگی کو بڑھانے کیلئے تربیت پروگرام اور سیمینار منعقد کرانے کے علاوہ سرکاری اداروں کی بلا وجہ لوٹ کھسوٹ سے بھی بچ سکتے ہیں۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو اس فیڈریشن سے وابستہ مختلف فوائد سے آگاہ کیا جائے۔ خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ نے کہا کہ معاشی استحکام اور روزگار کی فراہمی میں آجر کلیدی کردار ادا کرتے ہیں لیکن اس اہم کردار کے باوجود پالیسی سازی میں ان کی آراء کو شامل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں صرف سیاسی مقاصد کو پیش نظر رکھتی ہیں جبکہ آجروں سے وابستہ معاشی فوائد کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے عام لوگ ترقی و خوشحال کے ثمرات سے محروم رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ان حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو نیشنل بزنس پلان کو اپنے منشور کا حصہ بنانا ہوگا تا کہ معیشت کو ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر ترقی دی جا سکے۔ تقریب سے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی کنٹری ہیڈ محترمہ انگرڈکرسٹنسن نے بھی خطاب کیا جبکہ سوال و جواب کی نشست میں انجینئر سہیل بن رشید ، میاں محمد لطیف ، اظہر مجید شیخ، حاجی طالب حسین رانا اور امجد خواجہ نے بھی حصہ لیا۔ آخر میں میاں محمد ادریس نے ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے صدر ماجد عزیز کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی شیلڈ پیش کی۔ ماجد عزیز نے بھی میاں محمد ادریس اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ کو بھی فیڈریشن کی شیلڈیں پیش کیں۔ ای ایف پی کے سیکرٹری جنرل فصیح الکریم صدیقی نے فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ کو روائتی سندھی اجراک کا بھی تحفہ پیش کیا۔ اس موقع پر ایف پی کے نائب صدر زکی احمد خاں اور دیگر بورڈ ممبر بھی موجود تھے۔

مزید : کامرس