نامور فنکاروں کی جنم بھومی تھیٹر کا عالمی دن منایا گا

نامور فنکاروں کی جنم بھومی تھیٹر کا عالمی دن منایا گا

لاہور(فلم رپورٹر) پاکستان سمیت دنیا بھر میں گزشتہ روز تھیٹر کاعالمی دن منایا گیا۔اس دن کے حوالے سے ہمارے ملک میں نجی یا سرکاری سطح پر کسی بھی تقریب کا اہتمام نہیں کیا جاتاجبکہ بہت سے فنکار اس دن سے ہی لاعلم رہے کیونکہ ان کا کہناہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ دنیا میں کوئی ایسا دن بھی منایا جاتا ہے۔ تھیٹردنیا میں تفریح کا قدیم ترین ذریعہ ہے اورتھیٹر کواگر اداکاری کی جنم بھونی کہاجائے توبے جانہ ہوگا۔ تھیٹر کی دنیا میں فنکاروں نے اپنے فن کے ایسے نقوش چھوڑے ہیں کہ ان کانام آج بھی زندہ ہے ۔انگلینڈمیں ولیم شیکسپیئر کے ڈراموں کوتھیٹر نے ہی عظمت کی راہیں دیں ۔بلاشبہ تھیٹرپر اداکاری انتہائی کٹھن مرحلہ ہے تاہم یہاں جو فنکار کامیابیاں سمیٹتا ہے سلورسکرین کیلئے اس کی منزل آسان ہوجاتی ہے ۔بھارت میں تھیٹر نسبتاً آج بھی تواناہے اور بالی و وڈمیں کئی ایسے اداکارموجودہیں جو فلم کے ساتھ تھیٹر میں بھی اپنے فن کے جوہر دکھارہے ہیں بلکہ اب وہاں تھیٹرڈرامے کو سکرین پرپیش کرنے کاسلسلہ بھی فروغ پارہاہے۔روایات کے مطابق تھیٹر کاآغاز قبل از مسیح یونان میں ہوا۔ اس وقت یونانی اپنے سورماؤں کے معرکے اورداستانیں ایک چبوترے پر اشاروں کی زبان میں اس اندازسے پیش کرتے تھے کہ لوگ ان کی ادائیگی بخوبی سمجھ جاتے تھے اور لوگ چبوترے کے اردگرد جمع ہوکران قصوں سے محظوظ ہوتے تھے ۔چبوترے پر روشنی پیداکرنے کیلئے آگ جلا کررقص بھی کیاجاتاتھا ۔ڈرامہ یونانی لفظ ہے جس کے معنی کچھ کرکے دکھانا ہے ۔ تھیٹر یونان سے مصر میں منتقل ہوااور11سو سال قبل ازمسیح چائنہ میں جاپہنچاجبکہ برصغیر پاک وہند میں تھیٹر کاآغاز 500سوسال قبل ازمسیح ہوا ۔تاہم ہندوستان میں ڈرامے کارجحان حسن لکھنوئی کے دورمیں شروع ہوااور لوگ آہستہ آہستہ تھیٹر کی جانب راغب ہوئے ۔حسن لکھنوی کے بعدتھیٹر کی ترویج کیلئے آغاحشرکاشمیر ی نے نمایاں خدمات پیش کیں۔تھیٹرکے فروغ میں کالی داس کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔آغاحشر کاشمیر ی کانام تھیٹر کے حوالے سے بہت معتبر گردانا جاتاہے ۔

انہوں نے تھیٹرپر بڑے کامیاب ڈرامے سٹیج کئے ۔آغاحشر کاشمیری نے کلاسک تھیٹر روشناس کرایااورا ن کے تحریر کردہ ڈراموں میں شاعری کااندازتھا جوتماشائیوں کیلئے دلچسپی کاباعث بنا۔اس دور میں تھیٹر کواتنی مقبولیت ملی کہ آغاحشر کاشمیر ی نے 6ہزارروپے تک ایک سکرپٹ کامعاوضہ وصول کیا۔برصغیرمیں بڑے تھیٹرگروپس پارسیوں کی ملکیت تھے اورسٹیج ڈراموں کے لئے عالیشان سیٹ تیارکئے جاتے تھے۔اس زمانے پینٹربڑی اہمیت کے حامل ہوتے تھے اوربے شمارپینٹربھی نامورتھیٹراداکارثابت ہوئے۔ پاکستان میں تھیٹر کے فروغ کیلئے ڈاکٹر انورسجاد ،امتیاز علی تاج ،رفیع پیر،سلطان کھوسٹ اور دیگر لوگوں نے نمایاں خدمات پیش کیں اوراس کے پروان چڑھنے میں کمال احمد رضوی ،اطہر شاہ خان ،نذیرضیغم ،رشید اختر ،،علی اعجاز،مدیحہ گوہر،مسعود اختر ،محمد قوی خان ،بانوقدسیہ ،افتخارحیدر ،فخری احمد،جمیل بسمل اوردیگر نے اہم کردار اداکیا۔ان کے بعد عرفان کھوسٹ،سہیل احمد ،امان اللہ اوردیگر فنکاروں نے بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ۔ ایک زمانے میں پاکستان میں بھی تھیٹربہت مقبول تھا۔یہاں بہت معیار ی ڈرامے پیش کئے جاتے رہے اور تھیٹر کے کئی فنکاروں نے سلور سکرین پر اپنی صلاحیتوں کالوہا منوایا۔پاکستان میں تھیٹر کافی عرصے سے زوال پذیرہے اورتھیٹراصل شکل تبدیل ہوچکی ہے ۔تھیٹر سے وابستہ لوگوں نے تھیٹر کے عالمی دن کے موقع پر ’’خبریں‘‘سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ تھیٹر کی مقبولیت میں کسی طرح بھی کمی نہیں آسکتی لیکن آج کا سٹیج تھیٹرکی نمائندگی نہیں کرتا۔رفیع پیر تھیٹر کے چیئرمین اورناموراداکار عثمان پیر زادہ نے کہاکہ یہ کمرشل تھیٹر نہیں بلکہ’’ نائٹ کلب‘‘ ہیں ان کیلئے علیحدہ جگہ ہونی چاہیے کیونکہ لوگ انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔رفیع پیر تھیٹرورکشاپ برسوں سے تھیٹر کے فروغ کیلئے کام کررہا ہے ۔جس میں نوٹنکی چل رہا ہے اور آنے والے وقت کیلئے مزید بہت سی پلاننگ کی گئی ہیں ۔انکاکہناتھاکہ آج سٹیج ڈرامے لکھنے والے نایاب ہیں کیونکہ رائٹرز کازیادہ رجحان ٹی وی کی جانب ہے۔ انہو ں نے نوجوان ڈرامہ نگاروں سے اپیل کی کہ وہ تھیٹر کی جانب آئیں۔اجوکا تھیٹر کی روح رواں اور ہدایتکارہ مدیحہ گوہر کاکہناتھاکہ کمرشل تھیٹرکی سرکاری ثقافتی اداروں میں اجاز ت نہیں ہونی چاہیے ۔پرائیوٹ تھیٹروں میں جوکچھ ہوتاہے اسے بھی لو گ دیکھنا چاہتے ہیں اوریہ جمہور ی دورہے اس لئے انہیں علیحدہ رہنا چاہیے او ر ان کی نمائش کاسلسلہ آرٹس کونسلوں سے ختم کردینا چاہیے ۔ان کاکہنا تھا کہ آرٹس کونسلیں فن کے فروغ کیلئے بنائی گئی ہیں مگر وہاں بھی ایک مافیا موجودہے جو نان کمرشل تھیٹر کی حوصلہ شکنی کررہا ہے۔اجوکاء تھیٹر 30برس سے کام کررہاہے جس کے ڈراموں کوبیرون ملک بے حدپذیرائی ملی اور ایوارڈزسے بھی نوازاگیا ۔انہیں سرکاری اداروں میں ہالزتومفت مل جاتے ہیں مگر دیگر سپور ٹ نہیں کی جاتی ۔اداکار علی اعجاز کاکہناتھاکہ محمدقوی خان ،سلطان راہی اور انہوں نے ایک ساتھ تھیٹر سے کیر ئیر کاآغازکیاجہاں انہوں نے بے شمارڈراموں میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کئے ۔خدانے انہیں بہت عزت سے نوازا اور انہوں نے کئی ایوارڈز بھی حاصل کئے ۔تاہم اب وہ سٹیج ڈرامو ں میں کام کرنا تودرکنار انہیں دیکھناپسند نہیں کرتے ۔ان کاکہنا تھاکہ آج کاتھیٹر اس قدر غیرمعیاری ہے کہ انہیں کوئی بھی شریف آدمی پسند نہیں کرتا۔اداکار محمد قوی خان کاکہناتھاکہ کراچی میں گزشتہ ایک برس میں تبدیلی آئی ہے 2012ء میں انورمقصودکے ڈرامے بھی پیش کئے گئے ۔پروڈیوسر حضرات بھی معیاری کام کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں اورسٹیج ڈراموں میں بتدریج بہتری آرہی ہے انہوں نے توقع ظاہرکی کہ اس سال مزید بہتری آئے گی ۔پاکستان میں کمرشل کے علاوہ نان کمرشل ا ور سٹریٹ تھیٹر بھی فروغ پارہا ہے اور اس مقصد کے لئے بہت سے گروپ کام کررہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اب انگلش میں بھی ڈرامے ہوررہے ہیں جنہیں اگرچہ ایلیٹ کلاس ہی پسند کرتی ہے لیکن یہ ڈرامے اب تعلیمی اداروں سے باہر نکل کر الحمراتک پہنچ چکے ہیں۔پاکستان میں کمرشل تھیٹرسے ہزاروں افرادکا ورزگار وابستہ ہے۔ لاہور میں روزانہ چھ تھیٹروں پر باقاعدگی سے ڈرامہ ہورہا ہے لیکن کئی سال پہلے جب تھیٹرپر فحاشی عروج پر تھی تو بہت سے فنکاروں نے تھیٹر چھوڑکر ٹی وی کا رخ کرلیا ۔ پنجاب کا تھیٹر جگت بازی اور ڈانس کی بنیاد پر دنیا بھرمیں پسندکیا جاتا ہے۔بالی وڈ جیسی بڑی انڈسٹری میں پاکستانی سٹیج ڈراموں کی کہانیوں پر کئی فلمیں بنائی گئیں بکلہ بہت سے کامیڈین نے تھیٹر کی بنیاد پر ہی بھارت میں کام کیا ۔

مزید : کلچر