پی ایس ایل کے میچ مکمل

پی ایس ایل کے میچ مکمل

  

کراچی میں سپر لیگ کا فائنل مکمل ہوگیا، خیریت گذری، لاہور کے دونوں روز (پلے آف میچز) اور کراچی کے فائنل کے لئے سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے، تاہم عوامی دلچسپی کا اپنا ہی رنگ تھا، شائقین کرکٹ کسی خوف کے بغیر کھیل کے میدانوں میں آئے اور کھلاڑیوں کو داد دی، یوں کہا گیا ’’پاکستان جیت گیا‘‘ یہ درست بھی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ دونوں ٹیموں کے غیر ملکی کھلاڑیوں میں سے زیادہ حضرات کو پاکستان لانے میں کامیاب رہا اور ٹیم کے آفیشل بھی ساتھ آئے، حتیٰ کہ پشاور کے کپتان ڈیرن سیمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے ڈومینی نے قیادت کے فرائض سر انجام دینے کے لئے نہایت ہی اچھے خیالات کا بھی اظہار کیا اور داد دی، اطلاع ہے کہ فانئل میچ ختم ہونے کے بعد غیر ملکی کھلاڑی جلدی میں اپنے اپنے وطن روانہ ہوگئے اور یوں خیریت سے چلے گئے، ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہئیے تھا، ان کو ایک دو روز روک کر کراچی کی سیر کرائی جاتی تو مزید بہتری کے اشارے ملتے، جیسے لاہور میں ایک دو کھلاڑیوں اور دو تین کمنٹیٹر حضرات نے پرانے شہر کی بھی سیر کی۔

اس ساری تگ و دو اور اخراجات کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا، یہ دعوی کچھ غلط نہیں، ان غیر ملکیوں سے دریافت کریں جو عام شہریوں کی طرح آئے اور اپنے ذاتی یا کاروباری تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے کسی ایک یا دو تین شہروں میں وقت گذار کر جاتے ہیں، ان کو کسی خصوصی سکیورٹی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ پاکستان میں اپنے دوستوں کے ساتھ پاکستانی شہریوں کی طرح پھرتے ہیں، در حقیقت پاکستان کی مسلح افواج حکومت اور شہریوں کی جرأت بہادری اور بیش بہا قربانیوں ہی سے ممکن ہوا کہ دہشت گردی پر اس حد تک قابو پا لیا گیا ہے کہ اب کوئی سانحہ نہیں ہوتا اور اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ ہو تو نقصان بہت ہی کم ہوتا ہے، اور ایسا تو امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہوجاتا ہے، لہٰذا حکومتیں اور ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں اور یقیناً اس ساری تگ و دو کے مثبت اثرات ہوں گے۔

سینیٹ کے نصف اراکین، اس کے بعد چیئرمین ڈپٹی چیئرمین اور قائد حزب اختلاف کا چناؤ بھی ہوچکا لیکن بلوچستان میں صوبائی حکومت کی تبدیلی سے قائد حزب اختلاف کے انتخابات تک جو سرگرمیاں اور الزامات کی بوچھاڑ ہوئی اس کے اثرات تاحال موجود ہیں بلکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، وہ یہاں آئے اور تقریبات (جلسوں) سے خطاب کیا اور فرمایا کہ سینٹ کے انتخابات ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کا نتیجہ ہیں، اور موجودہ چیئرمین کو کوئی نہیں مانتا انہوں نے ان کو ہٹا کر متفقہ چیئرمین لانے کی تجویز پیش کردی، اس پر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت مختلف جماعتوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور ایسے بیان کو وفاق پر حملہ قرار دے دیا، عمران خان تو کہتے ہیں اب یاد آیا، جب ہم نے کہا اس وقت کیوں نہ مانے۔

ادھر ہمارے ’’فرزند راولپنڈی‘‘ کب پیچھے رہنے والے ہیں، وہ بھی لاہور آئے پریس کانفرنس کی اور اپنے اس فارمولے کی وضاحتیں کرتے رہے جس کے تحت ’’جوڈیشل مارشل لاء‘‘ کی تجویز دی تھی، کہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے ایک تقریب میں واضح کردیا تھا کہ یہ غلط بات ہے کہ ’’جوڈیشل مارشل لاء‘‘ کوئی چیز نہیں، عدالت عظمےٰ آئین اور قانون کی پابند ہے، انہوں نے زور دے کر کہا ’’میں ہوں تو مارشل لاء نہیں، یہاں جمہوریت ہی بہتر ہے، اور عام انتخابات شفاف ہوں گے‘‘ یوں اس غبارے سے ہوا ہی نکل گئی، چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے اپنے وعدے کے مطابق لاہور رجسٹری میں ہفتہ اور اتوار (چھٹیوں کے دن) باقاعدہ عدالتی کام کئے اور کئی مقدمات سنے، عدالت عظمےٰ کے سربراہ کی طرف سے کئی امور کے از خود نوٹس لینے اور عوامی مسائل کے حوالے سے دلچسپی کی وجہ سے عوام نے ان کا رخ کرلیا کہ وہ نظام کے ستائے حضرات کا استحصال تو ہوتا ہے، ان کو نچلی سطح پر انصاف نہیں ملتا، چنانچہ ان کو گاڑی روک کر ایک ماں کی فریاد سننا پڑی، اس کے بعد وہ کمرہ عدالت میں گئے اور شکایات لے کر آنے والوں کی بات سنی اور ان سے خود بھی ہمکلام ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمےٰ اور وہ بحیثیت چیف جسٹس آئین اور قانون کے پابند ہیں، اور ہر مسئلہ پر خود نہیں وہ درخواستیں سن سکتے، چیف جسٹس نے اس کا یہ حل نکالا کہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ایک شکایات سیل قائم کردیا جو انسانی حقوق (بنیادی حقوق) کی خلاف ورزیوں کی شکایت وصول کرے گا اور وہ جانچ پڑتال کرکے واضح ہدایات کے ساتھ متعلقہ محکموں یا شعبوں کو کارروائی کے لئے بھجوا دیا کرے گا تاکہ شنوانی ممکن ہو۔

لاہور شہر باغات کے علاوہ میلوں کا بھی شہر تھا، کہا جاتا کہ لاہور شہر میں آٹھ دن اور نو میلے ہوتے ہیں، لیکن آج کا لاہور ان سے محروم ہی ہوچکا، اس کے باوجود بعض میلے ایسے ہیں جو بزرگان کے عرس کی وجہ سے ہوجاتے ہیں، حضرت علی ہجویریؒ کے بعد عرس مادھو لال حسین بھی ہوتا ہے، سر ارزہ تقریبات میں مزار پر چراغاں اور دھمال کے علاوہ میلہ بھی جمتا ہے، مارچ کے آخری ہفتہ اتوار اور پیر کو ہوتا ہے، اسے میلہ چراغاں کہتے ہیں، کبھی بہت بارونق اور پورے علاقے میں (شالیمار باغ سمیت) رونق ہوتی تھی اب مزار کے ارد گرد محدود ہوچکا، بخیریت گذر گیا، عقیدت مندوں نے حاضری دی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -